یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے تعز کے مغرب میں ایسے مقامات دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیے ہیں جہاں انصار اللہ حوثی گروپ کے جنگجو داخل ہو گئے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کی پیش قدمی ’مزید نئے علاقوں‘ کی جانب جاری ہے۔
یہ بات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا نے شائع کی۔
ایجنسی کے مطابق یمنی فورسز نے حوثیوں کے ’اجتماعات‘ پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں ’متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں، درمیانے درجے کے اسلحے کے گولہ بارود کا ذخیرہ پھٹ گیا اور کم از کم 10 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاض کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے دوران بحیرۂ احمر کے ساحل پر اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا عہد کیا ہے۔
ادھر سعودی سول ڈیفنس نے مملکت کے جنوبی حصے کے چار شہروں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابتدائی انتباہ جاری کیا۔ یہ انتباہ نجران، خمیس مشیط، جازان اور ابہا کے لیے تھا۔ بعد ازاں ادارے نے ’خطرہ ٹل جانے‘ کی اطلاع دیتے ہوئے انتباہات واپس لے لیے۔
دوسری جانب پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، کیونکہ ایک اہم سعودی تیل پائپ لائن کی بندش، سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں اور خلیج میں جہازوں پر ایرانی حملوں نے رسد سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں اتوار کو حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ سعودی عرب نے شمالی یمن میں ان کے مرکزی گڑھ صوبہ صعدہ پر حملے کیے ہیں۔
حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق دو فضائی حملے صعدہ صوبے پر کیے گئے، جبکہ اسی صوبے کے سرحدی ضلع منبہ پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز، لحج، الجوف، حجہ، البیضاء اور صعدہ صوبوں پر 58 فضائی حملے کیے، جن میں خمیس مشیط کے فضائی اڈے سے اڑنے والے ایف 15 طیارے استعمال کیے گئے۔‘
حوثیوں نے اتوار کو یہ بھی اعلان کیا تھا کہ انھوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے جنوبی سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر لکھا کہ سعودی شہر شرورہ میں واقع اڈے پر حملے کا ہدف ’اسلحہ گودام، کمانڈ اور کنٹرول رومز تھے۔‘
ترجمان نے کہا کہ حملے میں ’بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز‘ استعمال کیے گئے اور دعویٰ کیا کہ ’نشانہ درست اور براہ راست تھا‘، تاہم انھوں نے حملے کے وقت کی وضاحت نہیں کی۔
یمنی حکومت نے بھی مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر کے فوجی ساز و سامان تباہ کرنے اور حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

















































