وفا، باہوٹ اور پیٹھ میں خنجر: بلوچستان کی تاریخ کا تلخ سچ
تحریر: حانی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان کی تاریخ کسی سرکاری نصاب یا سکرین کی رنگین نمائش کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ پہاڑوں کی ان خاموش وادیوں میں لکھی گئی ہے جہاں ہر پتھر وفا اور جفا کی داستان سناتا ہے۔ بلوچ روایت میں “باہوٹ” (پناہ گزین) کو چھت دینا اور “میڑھ” کی لاج رکھنا کوئی عام سیاسی یا سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ روح اور ایمان کا سودا ہے۔ لیکن اس خطے کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ ہم نے جس کے سر پر دستِ شفقت رکھا، اس نے طاقت ملتے ہی اسی ہاتھ کو کاٹنے کی کوشش کی، اور جس سے قرآن پاک پر عہد لیا گیا، اس نے وقت نکلتے ہی قسمیں طاقِ نسیاں پر سجا دیں۔
تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھیں تو پناہ کا بدلہ ہمیشہ دھوکے اور قبضے سے دیا گیا۔ جب بھی کسی مظلوم، سیاسی پناہ گزین یا شکست خوردہ حاکم نے بدحالی کے عالم میں بلوچستان کا رخ کیا، بلوچوں نے اپنے روایتی سادگی اور غیرت کے تحت اپنے خیموں کے دروازے کھول دیے، اپنے نان و نفقہ میں انہیں شریک کیا۔ لیکن جیسے ہی ان کی سانسیں بحال ہوئیں، انہوں نے بلوچ کی مہمان نوازی کو اس کی کمزوری سمجھ لیا۔ انہوں نے انہی پہاڑوں اور وسائل پر نظریں جمائیں جنہوں نے انہیں زندگی دی تھی، اور مالک کو ہی اپنے گھر میں بے گھر کرنے کے جتن شروع کر دیے۔
اسی طرح، عہد و پیمان کی خلاف ورزی کا ایک طویل اور دردناک سلسلۂ عمل ہے۔ امن کی خاطر، اور اس زمین کے بچوں کے خون کو بہنے سے روکنے کے لیے جب بھی گفتگو کا راستہ اختیار کیا گیا، تو سامنے سے سچائی نہیں بلکہ مکر اور چال بازی ملی۔ قرآنی آیات اور مقدس صحائف کو ضمانت بنا کر معاہدے کیے گئے، لیکن وقت کی ضرورت پوری ہوتے ہی تمام قول و قرار اور وعدے ہوا میں اڑا دیے گئے۔ جن لوگوں نے بات چیت پر بھروسہ کیا، انہیں انہی وادیوں اور دروں میں گھیر کر دھوکے اور ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔
جہاں تک وسائل کا تعلق ہے، بلوچستان کا سونا، گیس اور ساحل دہائیوں سے دوسروں کے محلوں کو روشن اور معیشتوں کو مستحکم کر رہے ہیں، لیکن اس زمین کے اپنے وارث آج بھی بنیادی انسانی حقوق، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے لیے ترس رہے ہیں۔ جب اپنے ہی حق کی بات کی جائے تو الٹا محرومی کا تحفہ دیا جاتا ہے اور قوم کو غاصب یا نااہل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
سکرین کی جھوٹی چمک دمک اور تجارتی ڈراموں میں اکثر حقیقی محسنوں کی تاریخ کو مسخ کر کے من گھڑت ہیرو تراشے جاتے ہیں۔ بلوچوں کی بے مثال قربانیوں، خودداری اور بے باک تاریخ کو بھی قلم کے ایک جھٹکے سے شکوک و شبہات کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی۔
احسان فراموشی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ مال و متاع لٹ جاتا ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر کے اعتماد اور محبت کے جذبے کو قتل کر دیتی ہے۔ بلوچ قوم نے اپنی روایت اور غیرت سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا، لیکن تاریخ کا یہ تلخ باب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ جن کے لیے سینہ ڈھال بنایا گیا، انہوں نے پیٹھ دکھاتے ہی خنجر گھونپنے میں ایک پل کی بھی تاخیر نہیں کی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































