بی ایل اے نے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے ساتھیوں کی تفصیلات جاری کردیں

721

بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے 7 سرمچاروں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل “ہکل” پر جاری کردی ہیں۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید شیر باز بلوچ عرف گزین، ولد حاجی امام بخش بنگلزئی، کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی کے رہائشی تھے، انہوں نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور مستونگ اور دشت کے محاذوں پر سرگرم رہے 14 جولائی 2026 کو دشت، مستونگ میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق شہید شیر باز ایک بہادر اور قومی درد و احساس سے پُر سرمچار تھے، جنہوں نے اس حقیقت کا مکمل ادراک کر لیا تھا کہ بلوچستان پر قائم قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت وہ واحد حل ہے، جہاں سے بلوچ ایک آزاد اور خودمختار زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنی ریاستی خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں۔ 

“اسی مقصد کو عملی طور پر حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم کا انتخاب کرتے ہوئے رواں سال تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی اور مستونگ کے انقلابی محاذ پر منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے تنظیم کی طرف سے دیے گئے بنیادی جسمانی کورسز کو محنت، لگن اور قومی جذبے کے ساتھ مکمل کیا”

تنظیم کے مطابق شہید شیر باز گزشتہ سال اگست میں دشمن کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ بھی کیے گئے تھے، جہاں انہیں شدید جسمانی و ذہنی اذیت دی گئی، لیکن دشمن کی غیر انسانی اذیت سے زیادہ اُن کے لیے یہ حقیقت ہمیشہ اہم تھی کہ بلوچ اجتماعی طور پر اپنی ہی سرزمین پر غلامی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں اور بلوچستان پر ایک ایسی غیرفطری ریاست نے قبضہ کر رکھا ہے، جس کی اپنی کوئی شناخت و پہچان نہیں اور جو ہماری لوٹ مار پر گزارہ کر رہی ہے۔ 

بی ایل اے نے کہا اسی لیے ان کے قومی مقصد و سوچ کے سامنے دشمن کی اذیت کی کوئی حیثیت نہ رہی اور انہوں نے رواں سال قومی آزادی کے مقصد کو اپنا لیا۔ وہ مستونگ کے جنگی محاذ پر سرگرم رہے اور دشمن پر جاری حملوں میں بھرپور حصہ لیا، جبکہ علاقے میں تنظیمی برتری و طاقت قائم رکھنے میں ساتھیوں کی کمک کی اور اپنا انفرادی کردار ادا کیا۔

تنظیم کے مطابق شہید شیر باز نے اپنے متعلقہ علاقے میں ایک متحرک و آپریشنل سطح پر فعال جنگجو کے طور پر پوزیشن اختیار کر لی تھی اور ساتھیوں کے درمیان کم عرصے میں ایک منفرد حیثیت حاصل کی، جو ان کی قومی، شعوری اور انقلابی فکر کا احاطہ کرتی تھی۔ 

“وہ آپریشنل مقاصد کے تحت دشت میں موجود تھے، جہاں دشمن کے ایک ڈرون حملے میں انہوں نے شہادت حاصل کی اور بلوچ تاریخ میں ان عظیم سرمچاروں کے ساتھ اپنی شناخت بنا لی، جنہوں نے وطن کا انتخاب کرکے اپنی زندگیاں قربان کر دیں”

تنظیم نے اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید محمد شریف نوتوانی عرف شئے مرید، ولد محمد امین نوتوانی، مولہ، خضدار کے رہائشی تھے، انہوں نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور قلات، سوراب کے محاذ پر سرگرم رہے 18 اگست 2026 کو سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق شہید محمد شریف نوتوانی نے رواں سال سوراب کے محاذ سے بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں شمولیت اختیار کی اور اپنے عمل و کردار اور محنت سے جلد ساتھیوں کے درمیان ایک متحرک سرمچار کے طور پر اپنی شناخت بنا لی۔ 

“سوراب کے جنگی محاذ پر انہوں نے کم مدت میں دشمن پر تابڑ توڑ حملوں میں حصہ لیا، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور دشمن کی صفوں میں ماتم بپا کیا۔ انہوں نے تنظیم کی پیش قدمی اور علاقوں میں برتری قائم رکھنے کی جنگی پالیسیوں کو نہ صرف اپنایا بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا اور دشمن کے لیے ایک قہر ثابت ہوئے”

تنظیم کے مطابق شہید شریف نے جنگ کو ایک جذباتی عمل نہیں سمجھا بلکہ انہوں نے اس کے گہرے مقصد کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اور اس مقصد کے لیے خود کو فنا کر دیا۔ وہ عملی میدان میں ایک انتہائی بہادر اور میدانِ جنگ کی حقیقت کا ادراک رکھنے والے سرمچار تھے اور جنگی حالات میں کسی بھی وقت دشمن کی پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت سے پُر تھے، ان کے اندر موجود دیگر صلاحیتوں میں دشمن کے خلاف سخت جنگ لڑنے کا جذبہ و طریقہ کار بھی شامل تھا، جو انہیں منفرد بناتا تھا یہ جنگی صلاحیتیں سوراب کے محاذ پر دشمن کا گھیرا تنگ کرنے سمیت، شدید حملوں کی صورت میں بھرپور انداز میں ثابت ہوئیں۔ وہ حالات جنگ کے دوران حاضر دماغی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے والے سرمچار تھے، جو جنگ کے میدان میں انتہائی اہم ہوتی ہیں۔

“شہید شریف نے جنگ کے عملی میدان میں حصہ لے کر خود کو ثابت کیا اور آخری دم تک اپنے مقصد کے ساتھ مخلصی سے جڑے رہے۔ انہوں نے قومی آزادی و ریاست کی بحالی کی جدوجہد میں اپنی انفرادی زندگی قربان کر دی، انہوں نے سوراب کے محاذ پر دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی اور اپنا لہو بہا کر وطن کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا فرض ادا کیا۔ ان کی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ایک عظیم جہدکار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی”

تنظیم نے اپنے تیسرے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید مولوی عمران عرف عمر فاروق، ولد مولوی محمد سعید، زامران، کیچ کے رہائشی تھے، انہوں نے 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور واشک کے محاذ پر سرگرم رہے 7 اگست 2026 کو واشک میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق مولوی عمران نے گزشتہ سال بلوچستان کی آزادی کے عظیم کاروان کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے قومی بلوچستان کی آزادانہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کی تنظیم کے سخت جسمانی، ذہنی و فکری تربیتی کورسز کو کامیابی سے پاس کرنے کے بعد تنظیمی کمان کی ہدایت پر انہیں واشک کے محاذ پر منتقل کیا گیا واشک کے جنگی محاذ پر انہوں نے اپنی مہارتوں کا بہترین استعمال کیا اور دشمن کے خلاف اہم اقدامات اٹھائے۔ 

“انہوں نے علاقے میں تنظیمی فوجی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لینے کے ساتھ ساتھ دشمن کی پیش قدمی کی پالیسیوں کو شدید دھچکہ پہنچایا”

تنظیم کے مطابق مولوی عمران ایک حافظِ قرآن اور قومی و دینی فرائض و ذمہ داریوں سے آگاہی رکھتے تھے، انہوں نے بلوچستان کے حالات کا نہایت گہرائی سے ادراک کر لیا تھا اور وہ قبضہ گیر کے ان عزائم سے بھی واقف تھے، جن کا مقصد بلوچ قومی شناخت و ہستی کو ہمیشہ کے لیے تباہ کرنا ہے۔ 

“اس لیے انہوں نے اس عظیم راستے کا انتخاب کرتے ہوئے مزاحمت کے عملی طریقہ کار کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا وہ جنگی میدان میں ایک حوصلہ مند ساتھی تھے اور ہمیشہ اپنے ساتھی سرمچاروں کے حوصلے بڑھانے اور انہیں ہمت دینے کے لیے پیش پیش رہتے تھے اور کسی بھی حالت و سخت جنگی مرحلے میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے، وہ جنگی میدان میں ایک اعلیٰ پائے کے جنگجو تھے، جو دشمن کے لیے ہمیشہ تباہ کن نتائج دینے کا کام کرتے تھے۔ ان کی یہ صلاحیتیں انہیں ہمیشہ ایک منفرد اور بامقصد جہدکار کے طور پر ثابت کرتی تھیں”

تنظیم نے کہا ہے مولوی عمران نے اپنی عملی سرگرمیوں اور جدوجہد سے ثابت کیا کہ وطن کی آزادی کسی بھی قوم کا بنیادی انسانی حق ہے اور اسے حاصل کرنا کسی بھی قومی خوشحالی کے لیے بنیادی مرحلہ ہے، اور انہوں نے اسی مقصد کے لیے اپنی انفرادی زندگی قربان کر دی۔ بلوچ قوم اور ساتھی سرمچار مولوی عمران کو ایک عظیم قومی ہیرو کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی قربانیوں کو ایک آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام کی صورت میں عملی جامہ پہنائیں گے۔

تنظیم نے اپنے چوتھے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید مولانا منیر احمد عرف عبدالبصیر، زہری کے رہائشی تھے۔ انہوں نے 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور واشک کے محاذ پر سرگرم رہے، تنظیم کے مطابق وہ 7 اگست 2026 کو واشک میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق شہید مولانا منیر احمد قومی و دینی فرائض سے آشنائی حاصل کر چکے تھے اور اسی فکر و سوچ نے انہیں قومی آزادی کے لیے جنگی عمل کو اپنانے کے لیے قائل کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی کی انقلابی اور عملی صفوں میں شامل ہونے کا تاریخی فیصلہ کیا اور جنگی محاذ پر متحرک ہو گئے بنیادی ٹریننگ اور تربیتی پروگرامز کو پاس آؤٹ کرنے کے بعد انہوں نے جنگ کے سخت عملی میدان میں قدم رکھا اور دشمن کے خلاف مختلف جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے جنگی میدان میں خود کو ایک ثابت قدم، بہادر اور طاقتور جنگجو کے طور پر ثابت کیا۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے میدانِ عمل اور جنگی آزمائشوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ہر معرکے میں اعلیٰ حوصلوں کا مظاہرہ کیا اور دشمن پر ہیروفی اثر چھوڑا۔ انہوں نے دشمن کے خلاف بلوچ قومی آزادی کی جنگ کے تاریخی معرکے، آپریشن ہیروف دوم میں بھی حصہ لیا، جہاں ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر انہوں نے دشمن کو ایک ایسی تاریخی شکست دی، جس کے اثرات برسوں تک قائم رہیں گے، ان کا تمام جنگی دورانیہ ایک اعلیٰ پائے کے گوریلا جنگجو کے طور پر ثابت ہوا اور ہر مقام پر انہوں نے بہترین ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے لیے تباہی کا سبب بنتے رہے وہ جنگی میدان میں وسائل کے بہترین استعمال کے فن سے مکمل آگاہی رکھتے تھے، ان کی حکمتِ عملی میں کم وسائل سے دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا مقصود تھا۔

شہید مولانا منیر احمد نے اپنی دو سالہ جنگی عمل کے دوران خود کو ان عظیم انقلابیوں کی صفوں میں شامل کیا، جنہوں نے وطن و قوم کی آزادی کے لیے آخری سانس تک ثابت قدمی دکھائی ان کی قربانیاں قوم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہر طبقے و فکر کے لوگوں کو اس عظیم جنگ کا حصہ بننا چاہیے، جو انسانیت کے خدمت اور بہترین مستقبل کی علامت ہے۔ ان کی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں لکھی جائیں گی۔

تنظیم نے اپنے پانچویں ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید علی حیدر محمد شہی عرف کمال، ولد شاہ محمد محمد شہی، نیام غنڈی، کوئٹہ کے رہائشی تھے، انہوں نے مئی 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور مستونگ کے محاذ پر سرگرم رہے تنظیم کے مطابق انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں اور وہ 22 اگست 2026 کو مستونگ میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق علی حیدر عرف کمال ایک باہمت، بہادر اور جنگ کے میدان میں دشمن پر قہر ثابت ہونے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے اپنی جنگی قائدانہ صلاحیت، عملی زندگی اور دشمن پر بدترین قہر ڈھا کر اپنی طاقتور انفرادی شخصیت واضح کی۔ کمال نے گزشتہ سال مئی میں بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں شمولیت اختیار کرکے مستونگ کے جنگی اور متحرک محاذ پر منتقل ہوئے، بنیادی فوجی کورسز کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد کمان کی ہدایت پر انہیں مستونگ کے متحرک جنگی فرنٹ پر بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی انفرادی صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی جنگی محاذ کے تقاضوں کو سمجھا اور انہیں عملی شکل میں انجام دینا شروع کردیا۔

تنظیم کے مطابق شہید کمال کے اندر موجود جنگی اور انتظامی صلاحیتیں مستونگ کے متحرک اور فعال گراؤنڈ میں دشمن کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوئیں اور انہوں نے دشمن کے خلاف جنگی معرکوں میں بھرپور حصہ لیا انہی جنگی اور انتظامی صلاحیتوں کو دیکھ کر کمان نے انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں دے دیں اور انہوں نے دشمن کے خلاف علاقے میں پیش قدمی، آپریشنل سطح پر اسٹریٹجک مقاصد کے تحت جاری شاہراہوں پر ناکہ بندیوں، اور دشمن کے خلاف اہم فوجی آپریشنز و عوامی دفاع میں اٹھائے جانے والے فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ اہم تنظیمی امور کی انجام دہی میں نہایت بہترین کردار ادا کیا علاقے میں دشمن کو پیچھے دھکیلنے اور تنظیمی برتری قائم کرنے میں دیگر ساتھیوں سمیت ان کا کردار نہایت اہم تھا اور وہ آخر تک ان ذمہ داریوں کے ساتھ جڑے رہے۔

بی ایل اے کے مطابق کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے اس بہادر انقلابی کمانڈر نے اپنے عمل و کردار سے قابض دشمن کو شدید نقصان پہنچایا اور تنظیمی طاقت و قوت اور علاقائی برتری کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور آخر تک دشمن کے خلاف اپنی پوزیشنز کو برقرار رکھتے ہوئے لڑتے رہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دشمن پر ایک تباہ کن حملہ کرنے اور ساتھیوں سمیت مل کر 13 دشمن اہلکاروں کو ہلاک کرنے اور انہیں شدید مالی و جانی نقصانات پہنچانے کے بعد وہ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے تاریخ انہیں ایک عظیم جنگجو و سرمچار کے طور پر یاد رکھے گی۔

تنظیم نے اپنے چھٹے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید ظہور احمد لانگو عرف شکاری، ولد عبدالمجید لانگو، زہری، خضدار کے رہائشی تھے انہوں نے 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور بولان، شور پارود اور سوراب کے محاذوں پر سرگرم رہے تنظیم کے مطابق وہ 30 اگست 2026 کو جوری، سوراب میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق بولان سے شور پارود، اور پھر پارود سے سوراب تک بلوچستان کے مختلف جنگی محاذوں پر دشمن پر قہر ثابت ہونے اور بہترین جنگی مہارتوں سے آشنا شہید ظہور احمد لانگو نے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم کا انتخاب کرتے ہوئے 2023 میں قومی آزادی کے کاروان کا حصہ بن گئے۔ 

“تین سال کے دوران انہوں نے اہم اور تاریخی جنگی معرکوں میں حصہ لیا اور ہر مقام پر اپنے انقلابی اثرات چھوڑتے رہے۔ انہوں نے مسلح مزاحمت کا انتخاب جس شعوری مقصد کے ساتھ کیا تھا، اسے آخری سانس تک برقرار رکھا اور وطن کی عظمت و آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا”

تنظیم کے مطابق وہ جنگ کے میدان میں ایک حقیقت پسند اور جنگی حقائق کو سمجھنے والے سرمچار تھے، جو ہر حالات کے اندر اور ہر ماحول، محاذ اور جنگی تقاضوں کو اپنانے کی صلاحیت و مہارت رکھتے تھے، جو انہیں ساتھیوں میں ہمیشہ ایک منفرد کردار کے طور پر ثابت کرتی تھی وہ تین سال تک مسلسل جنگی محاذ پر فعال رہے اور اس دوران انہوں نے نہایت اہم اور تاریخی معرکوں میں حصہ لیا، جنہوں نے دشمن کو جنگی میدان میں پیچھے دھکیلنے اور ان کے اہم دفاعی مورچوں پر ایسی ضربیں لگائیں، جو دشمن کی تاریخی ناکامیوں کا حصہ رہیں گی، جبکہ بلوچ وطن و آزادی کی راہ میں انہیں عظیم فتوحات کے طور پر یاد رکھا جائے گا وہ جنگی ذہانت سے بھرپور تھے اور یہی جنگی ذہانت تنظیمی حکمتِ عملی و منصوبہ بندی اور دشمن کو پیچھے دھکیلنے میں اہم ثابت ہوئی۔

“شہید ظہور لانگو نے اپنی زندگی میں جو انقلابی اور قومی خدمات انجام دی ہیں، وہ قومی آزادی کی جدوجہد میں بطور عظیم کارنامے یاد رکھی جائیں گی اور بلوچ تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ ایک انقلابی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے غلامی کو قبول کرنے اور انفرادی زندگی پر توجہ دینے کے بجائے وطن اور اس کی آزادی کے لیے قربانی کے فلسفے کو اپنایا۔ ان کی قربانیاں بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں بطور مثال ہمیشہ قائم رہیں گی، جنہوں نے ہمت، بہادری اور انقلابی عمل کا غیر معمولی مظاہرہ کیا”‎

مزید برآں بی ایل اے نے اپنے ساتویں شہید سرمچار کی شناخت کے حوالے بتایا ہے کہ  بولان میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے طالب علم ڈاکٹر لال خان عرف دُرک، ولد نواز علی سکنہ پنجگور، پروم نے سال 2024 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور سال 2025 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے اور شور پارود، نوشکی، واشک کے محاذ پر گشتی کمانڈ کے طور پر ذمہ داری سرانجام دیتے ہوئے 30 اگست 2026، واشک میں شہید ہوگئے۔

تنظیم نے کہا ہے ڈاکٹر لال خان ایک تعلیم یافتہ، باشعور، قابل، محنتی اور سنجیدہ و علمی اپروچ رکھنے والے نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے بی ایل اے کے جانباز سرمچار تھے، جنہوں نے علم کو عمل، ذاتی زندگی کو اجتماعی مقصد و زندگی اور انفرادی خواہشات کو قومی مفاد کے لیے وقف کرنے کا شعوری اور انقلابی فیصلہ لیا اور ایک مثال بن گئے کہ قومیں جب جنگی حالات کا شکار ہوتی ہیں تو ان کا تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ خاموشی و انفرادی زندگی گزارنے کو اہمیت دینے کے بجائے اجتماعی مقصد کو اپنی زندگی کا فلسفہ بنا لیتا ہے اور خود کو اجتماعی مقصد کے لیے فنا کر دیتا ہے۔ 

“اسی تاریخی، علمی اور فکری اپروچ نے انہیں بی ایل اے کی مسلح مزاحمت کے انتخاب پر قائل کیا اور انہیں تاریخ کے ایک عظیم انقلابی سنگت کے طور پر تشکیل دیا”

بی ایل اے کے مطابق ڈاکٹر لال خان صرف تعلیمی حوالے سے ہی ایک قابل اور باصلاحیت انسان نہیں تھے بلکہ جب انہوں نے عملی میدان میں مسلح محاذ کا انتخاب کیا تو جنگ کی انتظامی، انقلابی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تنظیم کے نظم و ضبط کی پابندی، علاقوں میں تنظیمی برتری قائم کرنے اور مختلف جنگی ہنر و صلاحیتوں کی پیدائش کو انہوں نے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ 

“شور کے محاذ پر انہوں نے کم مدت میں اپنی انقلابی و انتظامی صلاحیتیں ثابت کیں ہیروف دوم کے تاریخی آپریشن میں نوشکی کے محاذ پر وہ چھ دن تک مسلسل دشمن کے سامنے لڑتے رہے، جس کے بعد وہ تنظیمی پالیسی کے تحت واشک کے محاذ پر تنظیمی طاقت و برتری قائم کرنے کے لیے منتقل ہو گئے اور گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے نہ صرف دشمن کو جنگی میدان میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا بلکہ اپنی بہترین قائدانہ صلاحیتوں سے علاقے میں تنظیمی، انتظامی و آپریشنل ایریا کو بھی وسعت دی”

تنظیم نے مزید کہا ہے پڑھنے سے نکل کر ایک ہونہار طالب علم کی حیثیت سے میڈیکل کی تعلیم اور بعدازاں تعلیمی سفر سے جنگی محاذ پر ایک قابل جنگی اور انتظامی قائد تک، وہ اپنی زندگی کے ہر محاذ پر ایک عظیم جہدکار تھے، ڈاکٹر لال خان نے شہادت تک اس معیار کو قائم رکھا، جو انہوں نے اپنی زندگی کا اصول بنایا تھا، اور تمام باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک پیغام چھوڑ گئے کہ وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر انفرادی زندگی کے بجائے قومی مقصد اور آزادی و خودمختاری کے راستے کا انتخاب کریں، جو ایک بہترین مستقبل کی ضمانت ہے بلوچ تاریخ میں ڈاکٹر لال خان ایک نہ ختم ہونے والے باب کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔