اسلام آباد میں ‘بلوچستان کانفرنس، پاکستان فوج کے سربراہ شرکاء پر برہم

107

ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان میں ممکنہ فوجی آپریشن اور مختلف اضلاع میں آبادیوں کے انخلا کی تیاریاں جاری ہیں۔ رواں سال نوشکی، زہری، جیونی سمیت کئی علاقوں میں کرفیو اور مقامی آبادی پر فضائی کارروائیوں کے بعد مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں بھی مقامی آبادی کے انخلا کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں جاری تین روزہ بلوچستان کانفرنس کے آخری سیشن میں پاکستانی فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا سے سخت لہجے میں خطاب کیا اور خاص طور پر بلوچ سرداروں کو سرعام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے کردار کو غداری اور ملک دشمنی پر مبنی قرار دیا۔

عاصم منیر نے نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان میں 2013 سے 2018 کے درمیان وزیر اعلیٰ رہنے والے سیاست دان ڈاکٹر مالک پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مالک آ کر بلوچستان کے مسئلے کا حل نکالیں اور فوجی آپریشن کی حمایت کریں، جو ہر صورت میں بہت جلد شروع کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق عاصم منیر کے بار بار بلانے کے باوجود ڈاکٹر مالک اپنی جگہ سے نہیں اٹھے اور شرکا سے خطاب سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی نے جو 17 نکات دیے ہیں، وہی ان کا موقف ہے اور بلوچستان کے مسئلے کا حل بھی انہی میں سے نکلتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ نے بلوچستان میں بہت جلد بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے شرکا سے کہا کہ نوشکی اور مستونگ کے اضلاع کی پوری آبادی کا انخلا کرکے جیٹ طیاروں سے بمباری کی جائے گی۔ ان کے مطابق جہاں بھی ضرورت محسوس ہوئی، پوری آبادی کو نکال کر وہاں بمباری کے ذریعے ’دہشت گردوں‘ کا صفایا کیا جائے گا۔

عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کسی کے باپ کی میراث نہیں، یہ پاکستان کا دل اور معاشی شہ رگ ہے۔ اپنے ہاتھوں اپنی شہ رگ کسی کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے شازین بگٹی اور گھرام بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئےالزام عائد کیا کہ اکبر بگٹی نے گیس رائلٹی اور پیسوں کی خاطر پہاڑوں کا رخ کیا اور عام نوجوانوں کو ورغلا کر دہشت گردی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ان کے مطابق اکبر بگٹی کی تمام آل اولاد پاکستان کے غدار ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان کے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اگر چاہیں تو شوق سے بی ایل اے میں شامل ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق، اس دوران طیش میں آکر عاصم منیر نے ہاتھ اپنی گردن پر پھیرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، سب کو مار دیں گے، لیکن بلوچستان کی زمین کا ایک انچ بھی جانے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں‘ کو سرداروں اور قوم پرستوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق فوج کو معلوم ہے کہ کس کو، کب اور کہاں پکڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو پاکستانی فوج کی جنگی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق فوج کے پاس تمام سرداروں اور قوم پرستوں کی باتیں اور تاریخ موجود ہے اور کوئی بچ کر نہیں جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بار بلوچستان کو ’دہشت گردوں‘ اور ان کے ’سہولت کاروں‘ سے ہمیشہ کے لیے صاف کیا جائے گا، جس کے بعد بلوچستان میں کبھی شورش پیدا نہیں ہوگی۔

تاہم اس کانفرنس میں بلوچستان سے متعلق اہم فیصلے عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

دوسری جانب بلوچستان کے کئی علاقے غیر اعلانیہ فوجی آپریشن کی زد میں ہیں۔ رواں سال پسنی کے شادی کور میں مقیم تقریباً پانچ ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو علاقے سے بے دخل کیا گیا تھا۔

جبکہ مکران کے بعض علاقوں میں مقامی لوگوں کے کھجور کے باغات بھی فوج کی جانب سے مسمار کیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف مقامی سطح پر کارروائیوں اور حمایت حاصل کرنے کی کوششوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔