شام میں داعش کے خلاف جنگ میں عالمی سطح پر نمایاں ہونے والی کرد خواتین جنگجوؤں کی تنظیم ’’وائی پی جے‘‘ شام کی نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے تاکہ اپنی منظم جنگجو فورس کا کردار برقرار رکھا جاسکے۔
خواتین کی تحفظ یونٹس نے امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز “ایس ڈی ایف” کے ساتھ مل کر شام کی خانہ جنگی کے دوران ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے داعش کو پسپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
تمام خواتین پر مشتمل اس فورس کو داعش کے خلاف لڑائی کے دوران عالمی سطح پر خاصی شہرت حاصل ہوئی۔
سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے اواخر 2024 میں خاتمے اور اسلام پسند باغیوں کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد شام میں خودمختار مسلح گروہوں کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے شامی جمہوری فورسز کو باضابطہ طور پر تحلیل کردیا گیا جبکہ اس کے کمانڈر مظلوم عبدی کو صدر احمد الشرع کا مشیر مقرر کیا گیا اور دیگر ارکان کو وزارت دفاع میں شامل کیا گیا۔
تاہم وائی پی جے کی کمانڈر نوروز احمد کے مطابق نئی شامی وزارت دفاع میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے اور صدر احمد الشرع کے ساتھ گزشتہ ہفتے دمشق میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان کی خواتین جنگجوؤں کے لیے فوج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
نوروز احمد نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹریوں میں بتایا کہ وائی پی جے نے ایک آزاد بریگیڈ یا بٹالین کی صورت میں منظم انداز میں شامی فوج میں شامل ہونے کی تجویز دی تھی، تاہم حکام نے اسے مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وائی پی جے اب وزارت داخلہ کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے اور اس نے وزارت داخلہ کی اسپیشل آپریشنز فورس میں شمولیت کی تجویز دی ہے، جو ان کی موجودہ جنگی صلاحیتوں سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔
نوروز احمد کے مطابق وائی پی جے میں 1,500 سے زائد خواتین جنگجو شامل ہیں اور انہوں نے وزارت داخلہ سے پوچھا ہے کہ آیا پوری فورس کو ایک منظم یونٹ کے طور پر ضم کیا جائے گا یا نہیں، ان کے بقول وزارت کی جانب سے جواب آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے کرد میڈیا ادارے روداؤ کو بتایا کہ وائی پی جے کی جنگجوؤں کو وزارت کی صفوں میں خوش آمدید کہا جائے گا، تاہم انہوں نے ان کے ممکنہ کردار کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فورسز کو شام بھر میں تعینات کیا جائے گا اور انہیں کسی ایک جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔
وائی پی جے اور نئی شامی حکومت کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب کرد آبادی میں نئی حکومت کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے، کئی کرد حلقے 2025 میں اقلیتوں کے خلاف حکومت سے وابستہ فورسز کی جانب سے ہونے والے تشدد اور احمد الشرع کے ماضی میں القاعدہ کی شامی شاخ کی قیادت سے تعلقات کے باعث حکومت سے محتاط ہیں۔
وائی پی جے کی جنگجو خواتین اس فورس کو کرد خواتین کی سیاسی اور سماجی جدوجہد کی علامت سمجھتی ہیں۔
20 سالہ وائی پی جے جنگجو گوکسو سییاگر نے کہا کہ خواتین اپنی طاقت مردوں یا موجودہ ریاست سے حاصل نہیں کرتیں، جبکہ 31 سالہ وائی پی جے یونٹ کمانڈر پینابر باران نے کہا کہ شام کے آئین میں اس فورس کے کردار کی واضح ضمانت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کرد خواتین نے اب تک کسی کے دفاع کا انتظار نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنا دفاع کیا ہے۔



















































