ایک ہفتے کے دوران 36 کارروائیوں میں قابض فوج کے 33 اہلکار ہلاک کرنے کی ذمہ دار قبول کرتے ہیں – بی ایل اے

29

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 36 مختلف نوعیت کی کارروائیاں کیں، جن میں قابض فوج کے 33 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سرمچاروں نے ضلع پشین کے شہر سرانان پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے سرکاری عمارتوں کو تباہ کردیا جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود تحویل میں لے لیا۔ قابض کی معاشی ناکہ بندی کے تحت مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری رہا، جہاں 11 مختلف مقامات پر ناکہ بندیوں کے دوران 16 تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں اور جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے 5 سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 16 اگست: بسیمہ میں پتک اور زیک کے مقام پر، اور سوراب میں گدر کے مقام پر سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ پر تین مختلف جگہوں پر ناکہ بندیاں قائم کرکے گھنٹوں چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ زیک کے مقام پر قابض فوج نے پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ اس حملے میں قابض فوج کے 6 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے جبکہ ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے کا ایک سرمچار، مشتاق عرف کوہ یار، شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگیا۔

17 اگست: ہوشاپ کے قریب ‘تل’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور مزید 4 زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ خاران کے علاقے زاروزی میں سرمچاروں نے ایک کارروائی کے دوران ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے سرغنہ صوفی ممتاز کے اہم کارندے علی حیدر ولد جان شاہ ساسولی (سکنہ برشونکی) کو حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش مذکورہ آلہ کار نے اعتراف کیا کہ وہ ڈیتھ اسکواڈ سے منسلک ہوکر قابض فوج کی سہولت کاری اور مخبری میں ملوث رہا ہے۔ اس نے بی ایل اے کے سرمچار سنگت علی جان عرف سدیس کی شہادت کے واقعے میں بھی اپنے براہِ راست ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ علی حیدر نے مزید انکشاف کیا کہ یہ جتھہ خواتین کی تصاویر ایڈٹ کرکے انہیں بلیک میل کرنے اور خاران شہر وگردونواح میں چوری و ڈکیتی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ دورانِ تفتیش اس نے اپنے دیگر جرائم پیشہ ساتھیوں کے نام افشا کرنے سمیت کئی دیگر اہم راز بھی اگل دیئے۔ اس نیٹ ورک سے منسلک سمیر ولد رفیق (سکنہ برشونکی) پہلے ہی ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کارندوں کو بھی جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ قومی غداری کے جرم میں بلوچ قومی عدالت نے علی حیدر کو سزائے موت سنائی، جس پر سرمچاروں نے عمل درآمد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز چاغی تجارتی روٹ پر چارسر کے مقام پر سرمچاروں نے 2 تجارتی گاڑیوں کو ضبط کیا جبکہ نوکچاہ کے مقام پر ایک تجارتی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ مزید برآں، نوشکی-خاران روٹ پر زرین جنگل کے مقام پر 2 تجارتی گاڑیوں کے ٹائروں کو ناکارہ کر دیا گیا۔ اسی روز خاران-کوئٹہ روٹ پر پتکن کے مقام پر سرمچاروں نے شاہراہ پر گھنٹوں ناکہ بندی جاری رکھی۔

18 اگست: چاغی میں دالبندین اور یکمچ کے درمیان سرمچاروں نے قابض فوج اور تجارتی گاڑیوں کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ 30 منٹ سے زائد جاری رہنے والے اس حملے میں قابض فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ تجارتی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے چارسر کے علاقے میں فوج کے کانوائے کو مزید 3 مقامات پر نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا۔

ترجمان نے کہا کہ قلات میں مکئی کے علاقے کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کے اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا جب وہ فوجی گاڑیوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیئے ایک خالی مورچے میں داخل ہو رہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں قابض فوج کے 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز چاغی کے علاقے کرودک میں سرمچاروں نے قابض فوج کو حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ نوکچاہ کے مقام پر ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کی ایک گاڑی تباہ کر دی گئی۔ مزید برآں قابض فوج کی پیش قدمی کی کوشش کو بھی حملے میں ناکام بنایا گیا۔ ان حملوں میں قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے مجموعی طور پر 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ علاوہ ازیں، چاغی میں تجارتی روٹ پر بارتاگزی کے مقام پر دورانِ ناکہ بندی سرمچاروں نے ایک بس سے 2 مشکوک افراد کو حراست میں لیا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ کوئٹہ سے تفتان کی جانب بغیر کسی شناختی دستاویز کے سفر کرنے والے ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار ہیں۔ بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت دونوں کارندوں کو ہلاک کردیا گیا۔ سرمچاروں نے اسی مقام پر ایک تجارتی گاڑی بھی تحویل میں لے لی۔

انہوں نے کہا کہ سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار، سنگت مرید اور سنگت بہاول، شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ تربت کے علاقے زوربازار میں سرمچاروں نے ایک کارروائی کے دوران ملٹری انٹیلی جنس کے کارندے انیس فقیر کو ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص جارحیت میں قابض فوج کی سہولت کاری اور مخبری میں براہِ راست ملوث تھا۔

19 اگست: خاران کے علاقے سوتکگان میں سرمچاروں نے بھاری مشینری کی مدد سے ایک مرکزی پل تباہ کر دیا جبکہ اسی شب چاغی (چارسر) میں قابض فوج کے زیرِ استعمال اسپورٹس اسٹیڈیم کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ اسی روز قلات کے علاقے دشتِ بابا میں سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ پر ایک تجارتی کنٹینر تحویل میں لے لیا اور علاقے میں پیش قدمی کرنے والی بکتر بند ودیگر فوجی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔

20 اگست: پشین کے شہر سرانان پر سرمچاروں نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں کے مختلف دستوں نے شہر کے اہم مقامات پر پوزیشنز سنبھال کر پولیس تھانہ، نادرا آفس اور دیگر سرکاری عمارتوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس دوران 10 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تاہم انہیں تنظیمی پالیسی کے تحت بعد میں رہا کردیا گیا۔ سرمچاروں نے تھانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دیگر جنگی سامان اور گاڑیاں تحویل میں لیں اور تھانے کو بعد میں دھماکہ خیز مواد سے مکمل تباہ کر دیا۔ اس دوران دیگر دستوں نے شاہراہوں پر کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔

ترجمان نے کہا کہ شام کے وقت سرمچاروں نے قلعہ عبداللہ کے علاقے سلطان میں قابض فوج کی 15 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ قابض فوج کی 3 گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آ کر تباہ ہوگئیں جبکہ مزید 2 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ حملے میں قابض فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز چاغی کے علاقے جوجکی میں 2 تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے بعد نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ واشک (ارماگئے) میں 2 گاڑیوں کے ٹائر تباہ کر دیئے گئے۔

بلیدہ کے علاقے میناز میں سرمچاروں نے قابض فوج کے لیے راشن لے جانے والی 2 مال بردار گاڑیوں اور ایک پک اپ کو نشانہ بنایا، جبکہ کوچگ کے مقام پر فوج کے 2 ٹریکٹروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ دریں اثناء زامران (دشتوک) میں قابض فوج کے لیئے راشن لے جانے والی 2 گاڑیوں کو دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا۔

21 اگست: خاران کے علاقے البت میں تعمیراتی کمپنی کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جو قابض فوج کے لیے پوسٹ تعمیر کر رہے تھے، مذکورہ افراد سے تفتیش جاری ہے۔ اسی روز چاغی (چارسر) میں سرمچاروں نے تجارتی روٹ پر 5 مزید گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل، سرمچاروں نے 8 اگست کو بلیدہ زومدان میں جبکہ 12 اگست کو تربت کے دیہی علاقوں میں قابض فوج کی پوسٹوں کو گرنیڈ لانچر اور راکٹ لانچروں کے ذریعے نشانہ بنا کر دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

29 جولائی کو کوئٹہ کے علاقے کلی سردہ میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار حاجی حافظ محمد اقبال شاہوانی عرف ماسٹر سکنہ کلی سردہ، کوئٹہ شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ زہری کے علاقے سوہندہ میں 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوئے، ان جھڑپوں میں سرمچار سنگت ابوبکر نیچاری عرف لالی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار، نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں اور قابض فوج کی عسکری نقل وحرکت کے خلاف ‘معاشی ناکہ بندی’ کی پالیسی پوری سختی سے نافذ رہے گی۔ بلوچستان کی تمام اہم تجارتی ومعاشی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا، اور قابض فوج کے معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والی تمام گاڑیوں ومنصوبوں کو ہدف بنایا جاتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ اسی طرح زامران اور اس کے ملحقہ علاقوں میں قابض فوج کے لیئے راشن اور لاجسٹک سامان کی نقل وحمل پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔ تمام مقامی ڈرائیوروں، ٹھیکیداروں اور تاجروں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ قابض فوج کو راشن یا کسی بھی قسم کی امداد کی فراہمی سے مکمل طور پر گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ہونے والے تمام جانی ومالی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر خود عائد ہوگی۔ سرمچار قومی آزادی کے ہدف تک اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وطن کی آزادی کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو بلوچ لبریشن آرمی انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید مشتاق عرف کوہ یار، شہید سنگت علی جان، شہید سنگت مرید، شہید سنگت بہاول، شہید سنگت حاجی حافظ محمد اقبال شاہوانی اور شہید سنگت ابوبکر نیچاری کی بے لوث قربانیاں قومی جدوجہد کا تابناک باب ہیں۔ شہدا کا بہایا گیا ایک ایک قطرہ خون آزادی کے کاروان کو مزید توانا بناتا ہے اور سرمچاروں کے عزم کو حوصلہ بخشتا ہے۔ بی ایل اے اپنے ان شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ان کے ادھورے مشن کو اس کے منطقی انجام یعنی آزاد بلوچستان کے قیام تک ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔