بی ایل اے نے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے چار سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیں

11

بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے چار ساتھیوں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردی ہیں۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید مشتاق مینگل عرف کوہ یار ولد عبدالستار مینگل، بلوچستان کے علاقے بسیمہ کے رہائشی تھے اور ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرچکے تھے۔

تنظیم نے انکے حوالے کہا ہے انہوں نے 2021 میں شہری گوریلا محاذ پر بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 10 فروری 2022 کو پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے، وہ بولان، نوشکی اور بسیمہ کے محاذوں پر سرگرم رہے اور گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔

تنظیم کے مطابق وہ 16 اگست 2026 کو زیک، بسیمہ میں شہید ہوئے۔

تنظیم نے بتایا کہ شہری محاذ پر ایک سال کی خدمات کے بعد کمان کی ہدایت پر وہ بولان محاذ پر منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے گوریلا جنگ کے آغاز میں ہی خود کو ایک جنگجو اور فوجی کے طور پر منوایا۔

بی ایل اے کے مطابق شہری محاذ پر حاصل کیے گئے تجربات کے بعد جب کوہ یار نے پہاڑی محاذ میں شمولیت اختیار کی تو انہوں نے جنگ، اس کی حکمت عملیوں اور ضروریات کی گہری سمجھ رکھنے والے جنگجو کے طور پر خود کو منوایا اور جلد ہی تنظیم کے انقلابی طریقہ کار پر عمل پیرا ہوئے۔ وہ جنگ کے چیلنجز کو سمجھنے اور تحریک و تنظیم کے معاملات کو حل کرنے میں نہایت حساس رویہ رکھتے تھے۔

تنظیم کے مطابق غیر یقینی حالات میں بھی عوام کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت انہیں دیگر ساتھیوں سے ممتاز کرتی تھی، وہ ایک تربیت یافتہ اور پڑھے لکھے نوجوان تھے جنہوں نے جنگ میں صرف لڑنے کے لیے حصہ نہیں لیا بلکہ ایک ایسی مضبوط اور قابلِ عمل طاقت قائم کرنے کے مقصد سے شمولیت اختیار کی جو دشمن کو اپنی شرائط پر شکست دے سکے۔

“محاذِ جنگ میں شمولیت کے بعد انہوں نے ایک غیر معمولی جنگجو کے طور پر اپنی صلاحیتیں ثابت کیں جبکہ عوام میں رہتے ہوئے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی کام کیا”

بی ایل اے کے مطابق انہی صلاحیتوں کی بنیاد پر مشتاق مینگل کو تنظیم کی جانب سے گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

تنظیم نے بتایا کہ بولان محاذ پر شاندار کارکردگی کے بعد انہیں نوشکی کے محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں ساتھی انہیں ان کی بہادری اور جنگی مہارتوں کی بنا پر جانتے تھے، بعد ازاں علاقے میں تنظیم کی بالادستی قائم کرنے کے لیے وہ بسیمہ منتقل ہوئے اور دشمن کے خلاف متعدد اہم فوجی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے متعلقہ علاقے میں تنظیم کی آپریشنل صلاحیتوں کے فروغ میں خدمات انجام دیں۔

بی ایل اے نے کہا کہ شہید مشتاق کی قربانیاں بلوچ تاریخ کا لازوال حصہ بنی رہیں گی اور ان کی وابستگی، بہادری اور خدمات کو بلوچ عوام اور وہ ساتھی ہمیشہ یاد رکھیں گے جو بلوچ وطن کی آزادی کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید ابوبکر نیچاری عرف لالی ولد محمد اکبر نیچاری، کلی کمالو، سریاب مل کوئٹہ کے رہائشی تھے اور بی ایس نرسنگ کی تعلیم حاصل کرچکے تھے۔

“انہوں نے ستمبر 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور قلات و زہری کے محاذوں پر سرگرم رہے، تنظیم کے مطابق ان کے رشتہ دار شہید ابراہیم نیچاری بھی بی ایل اے سے وابستہ تھے ابوبکر نیچاری 11 اگست 2026 کو سوہندہ، زہری میں شہید ہوئے”

بی ایل اے کے مطابق شہید ابوبکر نیچاری عرف لالی نے گزشتہ سال ستمبر میں تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد قلات اور زہری کے جنگی محاذوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں، بنیادی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ان محاذوں پر دشمن کا مقابلہ کیا اور قابض فوج کے خلاف ہونے والی مختلف حملوں میں حصہ لیا۔

تنظیم نے بتایا کہ انہوں نے جنگ کے فرنٹ لائن پوزیشنز پر اپنی فوجی اور ذہنی تربیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدمات انجام دیں، جو تنظیم کے مطابق بی ایل اے کی جنگی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔

بی ایل اے کے مطابق شہید ابوبکر نیچاری نے گشت اور فوجی ذمہ داریوں کے دوران ایمانداری، مخلصی اور فوجی پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا، انہوں نے جنگ کے میدان کو محض ہتھیار چلانے کا عمل نہیں سمجھا بلکہ اسے ذمہ داری، اخلاقی اقدار، پیشہ ورانہ رویے اور نظم و ضبط پر مبنی ایک منظم نظریاتی مقصد کے طور پر لیا۔

تنظیم کے مطابق ان کی جدوجہد میں ایک انقلابی اور قومی سرمچار کی تمام خصوصیات موجود تھیں، تنظیمی کمانڈ کی جانب سے سونپی جانے والی ذمہ داریوں کو وہ منظم انداز میں انجام دیتے رہے اور جنگی و غیر جنگی دونوں محاذوں پر خود کو ثابت قدم اور نظم و ضبط کا پابند ساتھی ثابت کیا۔

بی ایل اے کے مطابق انہوں نے آخری وقت تک اسی طرز عمل کو برقرار رکھا۔

تنظیم نے بتایا کہ زہری کے جنگی محاذ پر دشمن فوج کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جھڑپوں کے بعد انہوں نے متعدد اہلکاروں کو ہلاک کیا اور ساتھی سرمچاروں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے شہادت حاصل کی۔

بی ایل اے نے کہا کہ قومی آزادی کے راستے میں جان کا نذرانہ پیش کرکے شہید ابوبکر نیچاری نے تاریخ کے صفحات میں ایک انقلابی جہدکار کی حیثیت حاصل کی، جبکہ بلوچ دھرتی کے لیے ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

تنظیم کے مطابق شہید عنایت اللہ بنگلزئی عرف بہاول ولد رحمت اللہ بنگلزئی، سرخین قلات کے رہائشی تھے، انہوں نے مئی 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ناگاہو، قلات کے محاذ پر سرگرم رہے وہ 18 اگست 2026 کو سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے کے مطابق شہید عنایت اللہ بنگلزئی نے گزشتہ سال تنظیم میں شمولیت کا قومی اور فکری فیصلہ کیا اور ناگاہو کے محاذ پر منتقل ہوگئے، بنیادی فوجی کورسز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے متعدد فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا اور دشمن کے خلاف ناکہ بندی اور متعلقہ علاقوں میں تنظیمی برتری قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

تنظیم نے بتایا کہ عنایت اللہ بنگلزئی تنظیمی گشت کے دوران انتہائی منظم اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے ساتھی تھے اور ایک سرمچار کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ فوجی رویوں سے بھی آشنا تھے، بی ایل اے کے مطابق یہ صلاحیتیں آخری وقت تک ان کے ساتھ رہیں۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے مختلف جنگی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے اپنی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور متعدد مرتبہ دشمن کو سخت ضربیں لگائیں، وہ محض جنگ کے میدان میں ایک مضبوط سپاہی نہیں تھے بلکہ انقلابی جذبے اور فکر سے بھی سرشار ساتھی تھے۔

بی ایل اے نے بتایا کہ دیگر انقلابی ساتھیوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنا، ہر وقت ساتھی سرمچاروں کی کمک کے لیے حاضر رہنا اور عوام کے ساتھ بہترین اخلاقی و پیشہ ورانہ رویہ برقرار رکھنا ان کے عمل کا حصہ تھا وہ ان ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو تنظیم کی ہر چھوٹی بڑی ذمہ داری کو انتہائی خلوصِ نیت کے ساتھ اور بروقت انجام دیتے تھے۔

تنظیم کے مطابق قومی آزادی کے مقصد کے ساتھ آخری وقت تک مخلص رہتے ہوئے عنایت اللہ بنگلزئی نے قابض فوج کے ساتھ سوراب کے مقام پر ایک جھڑپ کے دوران شہادت حاصل کی۔

بی ایل اے نے کہا کہ شہید عنایت بنگلزئی کی قربانی ان شہداء کی قربانیوں کا تسلسل ہے جو تنظیم کے مطابق بلوچستان کی آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام تک جاری رہیں گی۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید میر محمد اقبال شاہوانی عرف ماسٹر ولد میر حاجی خان محمد شاہوانی، کلی سردے، سریاب کوئٹہ کے رہائشی تھے، وہ عالم دین تھے اور ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرچکے تھے۔

“انہوں نے 11 جون 2024 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور کوئٹہ کے شہری گوریلا محاذ پر سرگرم رہے۔ تنظیم کے مطابق وہ 29 جولائی 2026 کو کوئٹہ کے علاقے کلی سردہ میں شہید ہوئے”

بی ایل اے کے مطابق میر محمد اقبال نے تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ کرنے کے بعد تنظیمی کمانڈ کی ہدایت پر شہری جنگ کے سخت اور مشکل محاذ کو اختیار کیا اور بنیادی ٹریننگ و تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔

تنظیم نے بتایا کہ وہ کوئٹہ کے شہری محاذ پر متحرک رہے، جہاں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے سے لے کر اس کے خلاف مختلف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے اور تنظیم کے مطابق اس امر کے لیے سرگرم رہے کہ بلوچ شہری آبادی دشمن کے رحم و کرم پر نہ رہے۔

بی ایل اے کے مطابق انہوں نے کوئٹہ کے شہری محاذ پر اہم معلومات فراہم کرنے، دشمن کے مقامات کی ریکی کرنے، ٹیکٹیکل سطح پر ساتھیوں کو کمک دینے اور مختلف فوجی آپریشنز و کارروائیوں میں حصہ لینے سمیت متعدد ذمہ داریاں انجام دیں۔

تنظیم نے کہا کہ اپنے عمل اور کردار کے ذریعے وہ دیگر شہری گوریلا ساتھیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے۔

تنظیم کے مطابق میر محمد اقبال حافظِ قرآن تھے، ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرچکے تھے اور دینی تعلیم بھی حاصل کررہے تھے، تاہم انہوں نے ذاتی کیریئر بنانے کے بجائے قومی مقصد اور ریاستِ بلوچستان کی آزاد حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کیا۔

بی ایل اے نے کہا کہ ان کا فیصلہ اس تاریخی حقیقت سے تعلق رکھتا تھا جہاں آزادی اور شناخت انسانی زندگی گزارنے کا بنیادی فلسفہ ہے۔

تنظیم کے مطابق میر محمد اقبال نے آخری وقت تک اپنی قومی اور فوجی ذمہ داریاں پوری کیں جب دشمن نے انہیں گھیرے میں لے کر گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے تنہا دشمن سے لڑنے کا فیصلہ کیا اور شدید جھڑپ کے بعد گولیاں ختم ہونے پر تنظیم کے بیان کردہ ’آخری گولی‘ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔

بی ایل اے نے کہا کہ میر محمد اقبال شاہوانی کی قربانیاں تاریخ میں ایک گوریلا جہدکار، ثابت قدم سرمچار اور قومی ہیرو کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔