10 دنوں کی 45 کارروائیوں میں قابض فوج کے 49 اہلکار ہلاک: بلوچ لبریشن آرمی

0

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے 10 روز کے دوران بلوچستان بھر میں 45 مختلف کارروائیاں کیں، جن میں قابض پاکستانی فوج اور اس کے آلہ کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے 49 اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوگئے، جبکہ فورسز کی متعدد چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر کے اسلحہ وجنگی سامان تحویل میں لے لیا گیا۔ ان کارروائیوں میں آئی ای ڈی دھماکے، چھاپے (ریڈز) اور براہِ راست مسلح حملے شامل ہیں۔ قابض پاکستان کی بلوچستان میں معاشی ناکہ بندی کے تحت مرکزی شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول بدستور برقرار رہا۔

ترجمان کے مطابق 19 اگست: کوئٹہ شہر میں سرمچاروں نے کیچی بیگ پولیس تھانے اور منیر احمد روڈ پر قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر دستی بموں سے بیک وقت حملے کیئے۔ ان حملوں میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

22 اگست: زہری کے علاقے بلبل میں ‘چوتو’ کے مقام پر آئی ای ڈی حملے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور مزید 2 شدید زخمی ہوگئے۔ دشمن فوج کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک عارضی مورچے میں داخل ہو رہی تھی۔ اسی روز نوشکی میں ‘چڑھائی’ کے مقام پر سرمچاروں نے ایک تجارتی گاڑی اور بعد ازاں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو مسلح حملوں میں نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ قلات کے علاقے مرجان میں قابض فوج کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، جس میں 4 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جبکہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بلوچ لبریشن آرمی کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے قابض فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے تباہ کردیا۔ اس کے بعد ایک اور بکتر بند گاڑی کو بھاری ہتھیاروں سے شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ قابض فوج کی ایک اور گاڑی بھی اس حملے کی زد میں آئی۔ اس شدید حملے میں قابض فوج کے 13 اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ ان جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کا ایک سرمچار، علی حیدر عرف کمال، شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو راکٹوں ودیگر بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دریں اثناء خاران میں ‘نیامدرگی’ کے مقام پر سرمچاروں نے شاہراہ پر گھنٹوں ناکہ بندی جاری رکھی۔ اسی روز واشک کے علاقے ارماگئے میں سرمچاروں نے قابض فوج کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، جس میں قابض فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ایک فوجی گاڑی ناکارہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ مزید برآں، چاغی کے علاقے دالبندین میں ‘چارسر’ کے مقام پر سرمچاروں نے تجارتی گاڑیوں اور قابض فوج کے قافلے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ تجارتی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

23 اگست: تربت کے علاقے حیر آباد میں سرمچاروں نے پہلے قابض فوج کے قافلوں کو سیکورٹی فراہم کرنے والے پیدل اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد دشمن کے مرکزی قافلے پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 3 اہلکار ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہوگئے۔

24 اگست: ماشکیل میں سرمچاروں نے 2 لیویز اہلکاروں کو حراست میں لیا، جن کے خلاف بھتہ خوری میں ملوث ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ مذکورہ اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کرکے انہیں سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ اسی روز پشین کے علاقے سرانان میں سرمچاروں نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلی جنس کے 6 آلہ کاروں کو ہلاک کر دیا۔ مذکورہ اہلکاروں کو دورانِ سفر حراست میں لیا گیا تھا۔

مزید برآں، سرمچاروں نے چاغی (دالبندین) میں ‘چہتر’ کے مقام پر تجارتی روٹ سے 4 تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لے کر ناکارہ کر دیا۔

25 اگست: خاران کے علاقے دالی میں سرمچاروں نے کسٹمز کے 3 اہلکاروں کو حراست میں لیا، جن سے تفتیش جاری ہے۔ اسی روز خاران (البت) میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر تعینات ایک اہلکار کو سنائپر حملے میں ہلاک کردیا گیا۔ علاوہ ازیں، سوراب میں ‘مل مدرسہ’ کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس میں 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔

26 اگست: 26 اگست کی شب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے خاران شہر کے ریڈ زون سمیت دیگر اہم مقامات پر کامیابی سے کنٹرول حاصل کر کے چیک پوائنٹس قائم کیئے اور اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ سرمچاروں نے ریڈ زون میں ڈی آئی جی آفس کے سامنے 3 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ ضبط کرلیا اور پولیس وین کو نذرِ آتش کر کے تباہ کردیا۔ مذکورہ پولیس اہلکاروں کو بعد میں رہا کردیا گیا۔ سرمچاروں نے ریڈ زون کے وسط میں واقع دشمن کے زیرِ استعمال چوکی اور سرویلنس ٹاور کو دھماکوں سے تباہ کردیا، جبکہ ایک اور دستے نے کلان بائی پاس کے مقام پر ‘لتاڑ چیک پوسٹ’ پر راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز نوشکی کے علاقے گرانو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے آلہ کار ثناء اللہ ولد عطاء اللہ جمالدینی (سکنہ کلی جمالدینی، نوشکی) کو ہلاک کردیا۔ مذکورہ شخص گزشتہ سال بی ایل اے کے حملے میں ہلاک ہونے والے اہم ریاستی کارندے معاویہ جمالدینی کا قریبی ساتھی تھا۔ آلہ کار ثناء اللہ قابض فوج کے لیئے مخبروں کی بھرتی، ٹارگٹ کلنگ اور شہریوں کے گھروں پر چھاپوں میں براہِ راست ملوث تھا۔

چاغی (دالبندین) میں گیس پلانٹ پر تعینات ایک اہلکار کو حراست میں لے کر اس کا اسلحہ ضبط کر لیا گیا۔

27 اگست: چاغی کے علاقے چہتر میں سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ریسٹ ہاؤس پر کنٹرول حاصل کرکے اسے نذرِ آتش کردیا۔ اسی روز بارکھان کے علاقے اشانی میں سرمچاروں نے ایک مواصلاتی ٹاور اڑا کر تباہ کردیا۔

28 اگست: مستونگ کے علاقے پنگو میں سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ اسی شب سرمچاروں نے چاغی کے علاقے چہتر بازار کا کنٹرول حاصل کر کے 4 گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔ دریں اثناء خضدار کے علاقے ونگو میں سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے ناکہ بندی قائم کی جو تمام شب جاری رہی۔ اگلے روز صبح 11 بجے قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ قابض فوج کی بکتر بند اور دیگر گاڑیاں حملے کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 3 دشمن اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم 4 زخمی ہوگئے۔

29 اگست: تربت کے علاقے حیر آباد میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، جس میں 3 اہلکار ہلاک اور 4 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء مستونگ کے علاقے گرو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ رسد پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی، حملے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز چاغی (چہتر) کے مقام پر سرمچاروں نے ایک تجارتی گاڑی تحویل میں لے لی، جبکہ چہتر، کرودک، نوکچاہ اور گیس پلانٹ کے مقامات پر کئی گھنٹوں تک شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔ دریں اثناء حب شہر میں گلف ہوٹل کے قریب قابض فوج سے منسلک ادارے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے ایک ٹینکر کو مقناطیسی بم سے تباہ کر دیا گیا۔ مزید برآں کیچ کے علاقے دشت میں ‘دریا چم’ کے مقام پر سرمچاروں نے موٹر سائیکل پر سوار قابض فوج کے اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔

30 اگست: قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سرمچاروں نے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ٹھکانوں پر بیک وقت حملہ کیا۔ اس حملے میں 2 کارندے ہلاک اور کم از کم 3 زخمی ہوگئے جبکہ ٹھکانے کا ایک مورچہ تباہ ہوگیا۔ اسی روز چاغی (چہتر) میں تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے ایک تجارتی گاڑی تحویل میں لے لی۔

مستونگ شہر کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار سید نور ولد بختیار خان سمالانی (سکنہ شاہرگ) کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ شخص نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں اور فوجی جارحیت میں قابض فوج کی سہولت کاری میں براہِ راست ملوث تھا۔

اسی روز واشک میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کا جانباز سرمچار، سنگت لال خان عرف دُرک، شہید ہوگیا۔ جبکہ سوراب میں ‘جوری کراس’ کے مقام پر قابض فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مزید دو سرمچار، سنگت ظہور احمد لانگو عرف شکاری اور عرف فوجی، شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

31 اگست: خاران کے علاقے دالی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے دو مختلف کارروائیوں کے دوران ایک تجارتی گاڑی تحویل میں لی جبکہ تجارتی گاڑیوں کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ مزید برآں، چاغی میں ‘کانال’ اور ‘لیڑہ ریک’ کے مقامات پر لیویز فورس کی دو چوکیوں کا کنٹرول حاصل کرکے اسلحہ اور گاڑیاں ضبط کرلیں، جبکہ حراست میں لیئے گئے اہلکاروں کو تنظیمی پالیسی کے تحت رہا کردیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ 7 اگست کو واشک میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں بی ایل اے کے دو سرمچار، مولوی عمران عرف عمر اور منیر احمد عرف عبدالبصیر، شہید ہوگئے۔ جبکہ 14 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے دشت میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں سنگت شیرباز بنگلزئی عرف گزین شہید ہو گئے۔

بلوچ لبریشن آرمی وطن کی آزادی کے معرکے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے عظیم شہدا، شہید علی حیدر عرف کمال، شہید سنگت لال خان عرف دُرک، شہید سنگت ظہور احمد لانگو عرف شکاری، شہید سنگت عرف فوجی، شہید مولوی عمران عرف عمر، شہید منیر احمد عرف عبدالبصیر اور شہید سنگت شیرباز بنگلزئی عرف گزین کی بے لوث قربانیوں کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان شہدا کا مقدس لہو اور بے مثال ایثار بلوچ قومی جدوجہد کا تابناک باب اور سرمچاروں کے عزم واستقلال کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ بی ایل اے اپنے ان شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض پاکستانی فوج، اس کے آلہ کاروں اور استحصالی منصوبوں کے خلاف ‘معاشی ناکہ بندی’ سمیت تمام محاذوں پر نبرد آزمائی پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، اور ان کے مشن کو آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔