انقلاب شور: تحریک کی قومی، اخلاقی، نظریاتی، عملی، میرٹوکریسی اور اعتقادی تشکیل کا ماڈل – ہارون بلوچ

1

انقلاب شور: تحریک کی قومی، اخلاقی، نظریاتی، عملی، میرٹوکریسی اور اعتقادی تشکیل کا ماڈل

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب سے میں بلوچ تحریک کے محاذ کا حصہ بنا ہوں، شور نہیں مگر انقلاب شور میرے لیے ایک اہم تربیتی، علمی اور انقلابی معنوی آگاہی و احساس کا حصہ رہا ہے۔ انقلاب شور صرف ایک رویہ نہیں بلکہ جنگ کو لے کر ایک ایسی سوچ، فکر، نظریے اور طریقہ کار کو واضح کرتا ہے، جہاں جنگ صرف دو طاقتوں کا مقابلہ نہیں ہوتا، ہتھیار صرف جنگی استعمال کا نام نہیں ہوتا اور عمل صرف الفاظ کا ہیر پھیر نہیں ہوتا، سنگتی اور مہر صرف ایک جذباتی تعلق نہیں ہوتا اور سرمچار صرف جہدکار نہیں ہوتا بلکہ کردار کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہاں سے پھر سرمچاریت اپنی معنویت میں وسعت اختیار کرتی ہے، جنگ پھر انقلاب کی حقیقی شکل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہے، کردار اپنے عمل میں وسیع تر ہوتا جاتا ہے کیونکہ وہاں انقلابی انتظامیہ اور رویے اسے عام انقلابیت میں رہنے کی گنجائش نہیں دیتا، اور پھر سنگتی خود میں ایک ایسے جذباتی اور اخلاقی تعلق میں تبدیل ہوتی ہے کہ وہ ایک عام رشتے سے بدل کر ایک گہرے تعلق میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو کامریڈشپ کو اپنے آپ میں ایک وسیع معنی میں تبدیل کر دیتی ہے۔

زندگی مزید معنویت اختیار کرتی جاتی ہے کیونکہ یہاں مہر، انقلاب، عمل، شخصیت، کردار، علم اور اہلیت ایک ساتھ پروان چڑھتے ہوتے ہیں، کردار بن رہے ہوتے ہیں، انسانی حقیقت اس حد تک معنویت اور مقصدیت اختیار کرتی جاتی ہے کہ جنگ صرف ایک مقصد کے لیے لڑنے کا مطلب نہیں ہوتی بلکہ وہ زندگی اور انسانی معیار کو واضح کرنے کا ایک مقام بن جاتی ہے، جہاں انسان صرف اجتماعی مقصد نہیں بلکہ انفرادی مقصد اور اہلیت و صلاحیت بھی حاصل کرتا ہے، جو عام زندگی میں انسان کے لیے بنیادی ہوتے ہیں۔ یہاں سے انقلاب صرف لکھنے کے عمل سے بڑھ جاتا ہے، عمل کام کرنے سے بڑھ جاتا ہے، تعلق صرف مفادات کی وابستگی سے بڑھ کر ایک ہی احساس میں ڈھل جاتے ہیں اور وہاں جینے کے مقصد ایک نہیں، درجن بن جاتے ہیں۔ عمل صرف اپنی انفرادی حد تک کچھ کرنے سے بڑھ کر اپنی انفرادیت کی حدود اور قیود سے آگے بڑھ کر کرنے کی شکل اختیار کرتا ہے اور انفرادیت کی حدود وسیع ہو جاتی ہیں۔

انسان کی کوئی حدود نہیں، معاشرہ، سماج، ادارے، قانون، فرد، ذمہ داری اور ماحول، یہ انسانی حدود کو قید کرتے ہیں۔ شور ان کے خلاف خلاف بغاوت کا نام ہے۔ وہ انسانی حدود اور طاقت کو دباتا نہیں، اسے وسیع شکل دیتا ہے۔ انسان اپنی حد سے بڑھ کر جدوجہد شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہاں انسان کو اپنی طاقت کا علم ہو جاتا ہے، صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے اور خود سے ایک حقیقی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ انسان جب اپنی حقیقی شکل اختیار کرے، جب اپنی حقیقی طاقت اور مقصد کو حاصل کرے، پھر وہ انتہائی وسیع بن جاتا ہے۔ وہ عام انسانی قد سے بڑھ جاتا ہے اور ایک ایسا مقام حاصل کرتا ہے جہاں وہ مکمل ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنی زندگی میں مکمل ہو تو وہ وسیع آزادی کے لیے عام حدود سے بڑھ کر لڑنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ وسیع آزادی میں اس معیار کے ساتھ لڑتا ہے جو اس کی حقیقی طاقت ہے۔ وہ خود کو ثابت کرنا چھوڑ دیتا ہے، اپنی شناخت حاصل کرنا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ شوری انقلابیت اسے وہ شناخت دے دیتی ہے۔ اسے یہ احساس دیا جاتا ہے کہ وہ انقلاب کے لیے اہم ہے اور وہ انقلاب کی حقیقت اور سچائی سے وابستگی اختیار کرتا ہے۔

یہاں سے انسان اپنی عظمت کے معیار پر کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے عمل وسیع نتائج دینا شروع کر دیتا ہے۔ وسیع نتائج بندشوں سے پیدا نہیں ہوتے، وہ انسانی طاقت اور عظمت کو دبانے سے پیدا نہیں ہوتے، وہ ایک انقلابی جہدکار اور انقلابی کردار کو کنٹرول کرنے، اسے نیچا دکھانے یا کمزور ثابت کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتے، بلکہ وہ انقلابی جہدکار کے انفرادی معیار کو تسلیم کرنے، اسے حقیقت بنانے اور اسے حقیقی معیار و مقام تک پہنچانے سے شروع ہوتے ہیں۔ آزادی ایک عام انسان کو بھی انتہائی عظیم بنانے کا موقع دیتی ہے، اور اگر انقلاب میں انسان کو انفرادی آزادی اور حقیقت مل جائے تو وہ دنیا کی ہر چیز فتح کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ان عام انسانی حدود سے بہت بڑھ چکا ہوتا ہے، جن کا معیار اور اسٹینڈر عام حالات میں موجود رہتا ہے۔

انقلاب شور اس لیے ایک عام جنگی محاذ سے آگے بڑھ جاتا ہے، وہاں انقلابی جہدکار عام انقلابی عمل سے عظیم بننا شروع ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے انقلابی معیار اور مقام میں انقلابی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں جو غلامی کے اثرات سے آزاد ہے۔ غلامی کے اثرات سے آزادی کا مطلب صرف ہتھیار اٹھانا نہیں ہوتا، وہ کمان کا عہدہ سنبھالنا نہیں ہوتا، وہ کمانڈر یا سرمچار بننا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس نفسیات، اخلاقیات اور سوچ و رویوں سے آزادی کا نام ہوتا ہے جو عام سماجی اور انسانی رویوں سے آزاد ہوتی ہے۔ اگر کمان کے لیے کمانڈ اور کنٹرول کرنے کا مطلب ہے تو وہ آزادی کی جنگ کا حصہ بن سکتا ہے، وہ انقلابی کمان کبھی نہیں بن سکتا۔ اگر ایک سرمچار میں اپنے ساتھی سرمچاروں کے لیے، قوم کے لیے اور عوام کے لیے بے انتہا محبت اور مہر نہیں، پھر وہ ہتھیار بردار جہدکار ہو سکتا ہے، وہ سرمچاریت کے حقیقی مقام پر پہنچا ہوا انقلابی سرمچار نہیں ہو سکتا۔

اگر انقلاب میں آپ انفرادیت سے آزاد نہیں، پھر آپ غلامی سے آزاد نہیں ہیں۔ اگر آپ کے لیے جنگ ذاتی مقام حاصل کرنے کا نام ہے، پھر آپ انفرادی مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں، انقلاب کی جنگ نہیں لڑ رہے، قومی مقصد کے لیے نہیں لڑ رہے۔ انقلاب شور یہاں آزادی کا سبب بنتا ہے کہ وہاں کمان اور کنٹرول کرنے کا مطلب نہیں، بلکہ عمل، نتائج، مہر، سنگتی، محنت، جذبات، نظریاتی وابستگی اور عشقِ وطن کی فکری و شعوری سوچ بن جاتا ہے۔ وہاں سرمچاریت اجتماعیت کی فکری روح بن جاتی ہے۔ وہاں انفرادیت اپنی حیثیت صرف عمل میں نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی کھو دیتی ہے، اور معیار کا تعلق صرف عملی ہنر سے نہیں بلکہ انسانی، نظریاتی، قومی اور فکری ہنر کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ کیونکہ ہنر اگر مقصد کے کام نہیں آ رہا، ہنر اگر حقیقی انسانی جذبات سے تعلق نہیں رکھتا، ہنر اگر انقلابیت سے وابستہ نہیں ہوتا اور انقلابیت سے تعلق نہیں رکھتا، پھر ہنر اور صلاحیت انفرادی میراث ہوتے ہیں، وہ قومی میراث نہیں بن سکتے۔ انہیں قومی میراث بننے کے لیے شخصی طور پر انقلابیت میں ڈھل جانا ضروری ہوتا ہے۔

انقلاب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ موجودہ نفسیات، سوچ اور طریق کار کو تبدیل کرنے کا تقاضا ہوتا ہے۔ اگر انسان اور سماج کو تبدیل کرنا مقصود نہیں، پھر انقلاب بے معنی ہو جاتا ہے۔ انقلاب اور تحریک کو اس وقت معنی ملنا شروع ہو جاتا ہے جب وہاں موجودہ حالات، معیارات، مقام، نفسیات اور خیالات کو چیلنج کرنا شروع کیا جائے۔ انقلاب کے ساتھ بہترین انصاف، موجودہ نظام کے خلاف صرف ایک جنگی آغاز نہیں، بلکہ یہ ایک مختلف ماڈل ہوتا ہے۔ شوریِ انقلاب اپنے آپ میں ایک ماڈل اس لیے ہے کیونکہ وہاں میرٹ انتظامی نہیں بلکہ انقلابی مقام کا ہے، وہاں انتظامی نظام کا تعلق انفرادیت سے نہیں بلکہ انقلابیت سے ہے۔ ماڈل ایک متبادل طریقہ کار ہے، لیکن متبادل طریقہ کار میں صرف افراد کی تبدیلی نہیں بلکہ انقلابی نفسیات، سوچ، کلچر اور رویوں میں تبدیلی کا نام ہے۔

انقلابی ذمہ داریوں کا تعلق صرف شخصیت کی تبدیلی سے نہیں بلکہ انقلابی فکر، سوچ، نفسیات، کلچر اور خیالات کی تبدیلی سے ہے، کیونکہ انقلابی کلچر ایک متبادل کلچر نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک معیاری اور الگ کلچر ہوتا ہے۔ اس کا تعلق صرف اختیارات سے نہیں بلکہ آگہی سے ہوتا ہے، سوچ سے ہوتا ہے، نفسیات سے ہوتا ہے۔ اگر ایک کمان اثرانداز نہیں ہوتی، پھر وہ ایک ہنرمند انسانی ڈھانچہ ہو سکتی ہے، وہ انقلابی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکتی، کیونکہ عظیم تبدیلیاں عام معیارات سے پیدا نہیں ہوتیں، وہ ایک الگ اور نئے حقیقی عقیدے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور چونکہ جس انقلاب کا آپ پرچار کر رہے ہیں، وہ جب تک ایک نئے عقیدے کی شکل اختیار نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ شخصی اور انفرادی مقاصد ہمیشہ انقلاب کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

اس لیے انقلاب کو ایک عقیدہ بنانا اہم ہے، کیونکہ عقیدے کو ہزاروں، لاکھوں لوگ آنکھیں بند کرکے فالو کرتے ہیں اور عقیدے کے لیے سچائی اور حقیقت بنیاد ہوتے ہیں۔ انقلاب میں اگر سچائی نہیں تو وہ پھر انقلاب کی حقیقی شکل نہیں ہو سکتا، وہ بامعنی تبدیلی کا سبب نہیں ہوتا، وہ اجتماعیت کے مفادات کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ انقلاب کو عقیدہ بنانے کے لیے انقلاب کو حقیقت بنانا اہم ہے، اور انقلاب میں حقیقت کے لیے انقلابی کمان و جہدکاروں کا حقیقی اور متاثر کن بننا اہم ہے۔ اور انقلابی جہدکاروں کو انقلابی کرداروں میں تبدیل کرنے کے لیے جنگی محاذ کو انقلابی معیارات اور بنیاد پر تیار کرنا ضروری ہے۔

شوریِ انقلاب اثرانداز اس لیے ہے کیونکہ وہ صرف انتظامی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہاں جس انقلاب کی بنیاد قائم ہے، اُس میں انتظامی تبدیلی سے بڑھ کر نفسیاتی، کلچرل، شخصی، انسانی، معیاری اور سماجی انقلابیت شامل ہے۔ غلامی کے خلاف جنگ صرف ایک انتظامی ڈھانچے کے خلاف جنگ نہیں ہوتی، بلکہ وہ نفسیاتی، کلچرل اور اخلاقی معیارات کی تبدیلی کی بھی جنگ ہوتی ہے، کیونکہ جب تک آپ اخلاقی، انفرادی، شخصی اور روایتی کلچر کو تبدیل نہیں کریں گے، انقلاب اپنی حقیقی معنی میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ شوری انقلاب ان روایات کو انتظامی طور پر چیلنج نہیں کرتا بلکہ انہیں اس معیاری نوعیت پر چیلنج کرتا ہے، جہاں تنظیم، نظم و ضبط، احساس، اخلاقیات، سوچ، نفسیات اور کلچر کی تبدیلی موجود ہے، کیونکہ یہ انسانی شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ایک باضمیر، بااخلاق سرمچار ہی انقلابی احساس سے پُر ہوتا ہے، اور انقلابی احساس سے پُر ایک جہدکار عوامی حمایت، تنظیمی نظم و ضبط اور قومی مقاصد کے لیے اپنی ذات کی ہر سطح پر قربانی دیتا ہے۔ اور اپنی ذات کو ہر مقام پر فنا کیا ہوا سرمچار ہی قومی مقاصد کے لیے ہر انتہا تک جانے کے لیے تیار ہوتا ہے، جہاں ہر کمان اپنے سرمچاروں کو پہنچانا چاہتا ہے۔

اجتماعیت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ساتھیوں میں ہم آہنگی موجود ہو، جہاں انتشار و افراتفری سے سخت نفرت کی جائے اور جہاں عمل صرف مقصد کے لیے ہو۔ اس معیار کے لیے ضروری ہے کہ انقلاب کو ایک اخلاقی اور احساس سے پُر مقام پر لایا جائے، اور انقلاب کو اس مقام اور اثرانداز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک سرمچار کی تشکیل صرف جسمانی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ وہ اخلاقی، انتظامی، شعوری، ہنرمندی، اجتماعی، قومی اور معیاری مقام حاصل کر سکے۔ جہاں صرف جسمانی زندگی انقلاب کی نہیں ہوتی بلکہ انسان روح سے بھی، خواب سے بھی، آگاہی اور شعور سے بھی، اور ذات کے ذرے ذرے سے انقلاب کا ہو جاتا ہے، کیونکہ ذرے ذرے سے انقلاب کا مقام تحریک پر عقیدے کی حد تک ایمان لانے کا مقام ہوتا ہے۔

احساس و ایمان ہو مگر ہنر نہ ہو تو کوئی کام مکمل نہیں ہوتا، ہنر اور ہوشیاری ہو مگر جذبہ قربانی نہ ہو، اجتماعی مقصدیت نہ ہو تو یہ بے مقصد رہتا ہے۔ جہدکار ہو مگر انتظامی صلاحیتیں نہ ہوں تو ہزاروں جہدکار بھی ایک چھوٹے سے نتیجے تک پہنچنے میں ناکام ہوتے ہیں، اور اگر انتظامی صلاحیتیں ہوں مگر اجتماعی شعور، آگاہی، بھروسہ، اعتماد، سنگتی اور اخلاقیات نہ ہوں تو انتظامی صلاحیتیں ٹوٹ پھوٹ، انتشار اور فریب کا سبب بنتی ہیں۔ اور تحریک جب تک عقیدے کی حد تک مقصد سے عاری ہو تو وہ طویل مسافت میں ناکام ہو جاتی ہے۔ اس لیے انقلاب کی شروعات سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جگہ ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی، لیکن کامیابی اکثر ایک ایک حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، کیونکہ وہ ایک الگ، حقیقی، اخلاقی، سائنسی، معیاری اور نفسیاتی تبدیلی کی طرف جاتے ہیں اور انقلاب کی بنیاد عقیدے کی حد تک تیار کرتے ہیں۔

یہاں لفظ ’’عقیدہ‘‘ سے شاید چند لوگوں کو اعتراض ہو، کیونکہ عقیدہ ایمان کی حد تک کسی نظریے اور فکر پر یقین رکھنے کا نام ہوتا ہے، جو اکثر مذہبی تناظر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ لیکن جب تک آپ کسی تحریک، جدوجہد اور انقلاب کو اس مقام تک حقیقت اور معیاری نہیں بناتے، اسے اس حد تک اخلاقی اور شعوری بنیاد پر قائم نہیں رکھتے، اس وقت تک لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کو اجتماعی طور پر اسے قبول کرنے اور جینے کے لیے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب عقیدہ اس لیے ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں لوگ اس کی سچائی اور حقیقت پر عقیدے کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ انقلاب میں حقیقت کا معیار اس مقام پر لانا ہوگا کہ وہ اس معیار پر آ جائے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انقلاب کو ہر حوالے سے معیارات کی انتہا تک لے جایا جائے۔ شوری جنگ اس لیے انقلابی معیار پر پورا اترتی ہے کیونکہ وہاں سچائی اور حقیقت اس مقام تک قائم ہیں جہاں انقلاب کو کسی بھی مقام پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

انقلاب کو حقیقی اور معیاری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صاف، شفاف اور حقیقت پر قائم رکھا جائے۔ اُسے ایک ایسے فلسفے اور سوچ کی شکل دی جائے جو پہلے موجود نہ ہو، اور یہ بدترین حقیقت کے ساتھ جینے کے بغیر ممکن نہیں ہوتا ہے۔ بدترین حقیقت سے مراد جنگی سچائی پیدا کرنا ہے، اور جنگی سچائی پیدا کرنے کے لیے اخلاقی اور انسانی سچائی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بھروسہ کہاں قائم ہوتا ہے؟ جہاں سچائی اور حقیقت وجود رکھتی ہیں، اور بھروسہ و اعتماد کے بغیر کوئی بھی نظام، تنظیم اور سسٹم چل نہیں سکتا۔ ہم ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن بھروسہ قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہم انقلاب لانا چاہتے ہیں لیکن ذاتی شخصیت کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے ہم انقلاب کو صرف ایک نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو سمجھتے ہیں، لیکن ہماری عادتیں، رویے، سوچ، خیالات اور معیارات کسی بھی حوالے سے انقلابی نہیں ہوتے۔

اس لیے ہم جنگ کا حصہ تو بن جاتے ہیں لیکن انقلاب کا حصہ نہیں بن پاتے، کیونکہ جنگ کا حصہ بننے اور انقلابی بننے میں فرق رہتا ہے۔ انقلابی بننے کے لیے انقلابی عادتیں، سوچ، رویے اور انقلابی عمل کی تشکیل کرنا اہم ہوتا ہے۔ شوری جنگ اس لیے ایک حقیقی انقلاب ہے کیونکہ وہاں انقلابیت کو سب سے زیادہ مقدم سمجھا جاتا ہے۔ وہاں انسان کو کمزور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے کمزوری سے نکالا جاتا ہے۔ وہاں تعصب نہیں، پسند نہیں، شوق نہیں، جھوٹ نہیں، فریب نہیں، بلکہ عمل، مہر، ہنر، معیار، ہر چیز میں حقیقت سب سے مضبوط ہے۔

یہ انقلاب شور اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ اس کا تعلق ایک فرد سے نہیں بلکہ ایک پورے محاذ ہے، ایک پورے سرکل اور درجنوں افراد پر مشتمل ایک مجمع سے تعلق رکھتا ہے۔ اور جب کوئی سوچ، عمل اور خیال ایک فرد سے درجنوں تک پھیل جائے تو وہ حقیقی معنوں میں انقلاب کہلاتا ہے، کیونکہ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس سوچ اور معیار کا تعلق ایک فرد سے نہیں بلکہ ایک سسٹم، ایک کلچر اور ایک نفسیات و ذہنیت سے ہے، اور وہ کلچر اس انقلابیت کو انسان میں یقینی بنا رہا ہے، کیونکہ سرمچار کی تشکیل کا عمل پہلے سے موجود ایک نظام کرتا ہے۔

جب کوئی شخص ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں کا رخ اختیار کرتا ہے تو اس کی کئی وجوہات میں سب سے اہم اور بنیادی نکتہ صرف قبضے کے خلاف لڑنا، آزادی حاصل کرنا اور قربانی دینا ہوتا ہے۔ پھر اس کی تشکیل کی ذمہ داری انقلاب میں موجود نظام اور ادارہ کرتا ہے۔ اگر ایک سرمچار کمزور بنتا ہے تو اس کی کمزوری کی وجہ انفرادی طور پر وہ خود نہیں ہوتا بلکہ وہ نظام ہوتا ہے جو اسے حقیقی انقلاب سے آشنا کرانے میں ناکام ہوتا ہے۔ انقلاب کی تشکیل ادارے اور نظام میں یقینی بنانا اہم ہوتا ہے کیونکہ نظام انسان کی تشکیل کرتا ہے۔

انقلاب بنیادی طور پر ایک انفرادی عمل کا نتیجہ یا سوچ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک اجتماعی عمل اور سوچ ہوتا ہے، اور جب تک آپ ایک فکر و نظریے کو اجتماعیت میں سمانے میں کامیاب نہیں ہوتے، وہ انقلابی مقام حاصل نہیں کرتا۔ اور انقلاب کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اثرانداز ہو، بامعنی ہو اور مختلف و اپنے آپ میں الگ معیارات کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہو۔ شوری جنگ انقلاب کے معیار پر اس لیے اترتا ہے کیونکہ وہاں نظام اور شخص دونوں انقلابی معیارات پر اترتے ہیں، جہاں ہر فرد ایک کردار کی شکل میں نظر آتا ہے۔

میں جس انقلاب کی بات کر رہا ہوں، وہ احساس اور ہنر سے پُر اس جذبے اور یقین پر قائم ہے کہ اسے انقلاب کو ان معیارات تک پہنچانا ہے جہاں وہ حقیقی تبدیلی کا سبب بنے۔ جہاں وہ روایتی طریقہ کار، سوچ، ذہنیت اور خیالات پر قائم نہیں بلکہ انقلابی معیارات اور مقام پر قائم ہے۔ جہاں شعور کا تعلق جستجو سے ہے، عمل کا تعلق علم سے ہے، انقلاب کا تعلق حقیقی تبدیلی سے ہے، عشق کا تعلق وطن سے محبت کی اس گہرائی سے ہے جہاں وطن کا عشق اور محبت خود ایک عقیدہ بن جاتے ہیں، جہاں قربانی ایک احسان نہیں بلکہ ایک احساس ہے، جہاں سنگتی کا تعلق صرف ہمراہ داری سے نہیں بلکہ اس گہری کیفیت سے تعلق رکھتا ہے کہ وہاں روحیں ایک ہوتی ہیں، احساسات اور جذبات ایک ہو جاتے ہیں۔ انسان مختلف جسمانی ڈھانچوں میں ایک ہی سانس جی رہے ہوتے ہیں، گویا ایک سنگت کی شہادت ہر سنگت کی اندرونی ذات کی شہادت سے جڑی رہتی ہے۔ کیفیات اپنی اس گہرائی سے تعلق رکھتی ہیں کہ وہاں انسان عام زندگی و انقلاب سے بڑھ کر مطلب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے ہر قربانی، ہر عمل میں ایک ایسی گہرائی موجود ہے جس کو اگر تلاش لیا جائے تو یہ علم کی ایک نئی صورت اور ایک نئے راستے کی بنیاد بنے گا۔

احساس اس گہرائی تک جاتے ہیں کہ وہ عشق بن جاتے ہیں اور عمل سے لگاؤ بن جاتا ہے، جہاں درد کا اظہار ہوتا نہیں بلکہ وہ بس محسوس کیا جاتا ہے، جہاں عمل کی کوئی حدود نہیں ہیں بلکہ وہ انتہا تک قائم ہے، اور وہاں ہر جہدکار میں اس کی حقیقی شناخت اور انسانیت دیکھنے کو ملتی ہے، جیسے گویا انسان کو انقلاب شناخت دے رہا ہے۔ ہر کسی کی طاقت کو نکالا جاتا ہے۔ جب انقلاب اتنا طاقتور ہو کہ وہ انسان کو شناخت دے سکے، طاقت دے سکے، عملی آزادی دے سکے، تو اسے شکست صرف وہی قوت دے سکتی ہے جو اس سے بڑے انقلاب پر یقین رکھتی ہو، اور جہاں معیارات کا تعلق اس سے بھی بڑے مقام سے ہو۔ انقلاب کی کامیابی کی یقینیت دیکھنا ہو تو انقلاب کو موجودہ حالات کے ہر پہلو میں دیکھا جائے، جہاں انسان کو انقلابی یقین کا علم ہو جاتا ہے۔

انقلاب بنیادی طور پر اس احساس اور مقصد کو جینے کا نام ہوتا ہے جس کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہوتی ہے۔ اگر انقلاب جیا نہیں جا رہا تو یہ ایک سرگرمی ہو سکتا ہے، ایک کام ہو سکتا ہے اور مختلف طرزِ عمل ہو سکتا ہے، لیکن وہ انقلابی معیارات پر کبھی پورا نہیں اترتا، بلکہ انقلاب جینے کا عمل ہوتا ہے، جہاں ہر عمل، سوچ اور فکر میں انقلابی سوچ حاوی ہوتی ہے۔ اس کے ذرے ذرے کو جینا، اس کے درد و تکلیف اور خوشی و سکون، دونوں کو جینے کا عمل، کسی بھی حالات میں فرسٹریشن کے بجائے صرف عمل کو جینا، جو حقیقت ہے، اور انقلاب کی اپنی حقیقت کو جینا، خود میں اس خوشی اور احساس کا وہ مقام ہے جہاں سکونیت کی گہرائی ایک حد تک اختتام ہوتی ہے۔ انقلاب شور بنیادی طور پر ایک جہدکار کو انقلابیت کی زندگی کا وہ مقصد دیتا ہے، جس مقصد کے لیے انہوں نے شعوری یا لاشعوری طور پر اس جنگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

انقلاب اس وقت بامعنی مقصد اختیار کرتا ہے جب وہ حقیقی معنوں میں حقیقی جذبات، احساسات اور عمل کی شکل میں وجود رکھتا ہو۔ انقلاب کے اندر اگر وہی رویے، سوچ، خیالات اور طریقہ کار ہوں گے جو عام انسان میں موجود ہیں تو ایسی جدوجہد یا تحریک حقیقی انقلاب کو کامیاب نہیں کر سکتی، کیونکہ انقلاب بنیادی طور پر صرف ایک نظام کی نہیں بلکہ انسانی وجود کی تبدیلی کے عمل کا نام ہوتا ہے، جہاں اس کے اخلاق، طرزِ زندگی اور رویے، فکر، انسانیت کی گہرائی، احساس اور محبت سماجی حالات و زندگی سے تبدیل ہوتے ہیں۔

انقلاب شور میں وہ تبدیلی دکھائی دیتی ہے، وہاں احساس، محبت اور عمل اپنی حقیقی شکل میں موجود ہیں، جہاں ہر سرمچار انقلاب کی گواہی کا پیغام لاتا ہے۔ شہید نذر و رواف کی صورت میں ایسے کمال جنگجوؤں کی پیدائش، جو جنگ کی گہرائی کو اس شدت سے اپنا لیتے ہیں کہ وہ وہاں اپنی ذاتی زندگی کا ہر احساس کھو دیتے ہیں اور صرف وطن کے ہو جاتے ہیں، یا شہید کامریڈ سمیر جیسا انسان، جو صرف سیاسی حوالے سے، علمی اور فکری حوالے سے ہی نہیں بلکہ عملی حوالے سے بھی اس انتہا تک پختگی اختیار کرتا ہے کہ وہ ہر جنگی مقصد کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے سیاسی اور فکری علم کو میدان عمل میں ثابت کرتا ہے اور دشمن کے خلاف آپریشن ہیروف جیسے عظیم جنگ کی قیادت کرتا ہے۔

کامریڈ سے نکل کر جب سلال جان اور زبیر جان کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ سرمچار کی شکل میں انقلاب کی ایسی رنگت اختیار کرتے ہیں کہ ان کے چہروں میں وطن کی عظمت اور انقلاب کی کامیابی کی علامت دیکھنے کو ملتی ہے، اور وہ صرف محبت کی انتہا تک وطن کے نہیں ہوتے بلکہ عملی شکل میں انقلاب کے بن جاتے ہیں۔ پھر ان کے لیے اپنی ذات اور زندگی کی کوئی حیثیت و اختیار نہیں ہوتی۔ ان جیسے انقلابیوں کی سوچ سے نکلو تو شہید فیصل، ماما ہارون اور چنکا جنید سے ملاقات ہو جاتی ہے، جن کے لیے زندگی انقلاب کی ایک امانت ہوتی ہے اور وہ انقلاب کے لیے ہر انتہا کو پار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، جہاں انسان کی سوچ اور فکر پہنچ نہیں سکتی۔

ہر ایک کردار پر الگ سے مہینوں تک لکھا جا سکتا ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنے مزاج اور سوچ میں انقلاب کی اس گہرائی کو قبول کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی میں اسے ثابت کرتا ہے۔ وسیم جیسا انسان، جس کے لیے ہمت، برداشت، حوصلے اور انقلابیت خود میں الگ معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ یا وہ سلامت سنگت (ہمیشہ سلامت رہیں) جو اپنے ساتھی سنگتوں کی سلامتی کے لیے ہر اس انتہا کو پار کر جاتے ہیں جہاں انسان سوچنا ترک کر دیتا ہے، کیونکہ اگر عمل کی گہرائی آپ کی سوچ سے اونچی ہو تو اس کی انتہا تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔

شور انقلاب کا چیدہ اس لیے ہے کہ وہاں ہر چیز انقلابیت کی جھلک اور شکل میں موجود رہتی ہے، کیونکہ وہ مکمل الگ، تبدیل اور مختلف شکل میں وجود رکھتی ہے، جو انسانوں کو بدلنے، انہیں ان کے احساس و مقام تک پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اسے انقلاب شور اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ تبدیلی ایک شخصیت اور ایک انسان میں موجود نہیں بلکہ ایک اجتماعی خیال، سوچ، فکر اور نظریے کی شکل میں وجود رکھتی ہے، جو ہر نئے فکر اور سوچ کو قبول کرتا ہے۔ انقلاب شور ایک انقلابی جہدکار کو قومی مقصد، قومی فکر اور آزادی کے لیے جینے اور مرنے کی ایک معنوی اور گہری حقیقت عطا کرتی ہے۔ ایک ایسا ماڈل جس میں ہر چیز انقلابی معیارات پر قائم ہے، جہاں ہر چیز کو تبدیل کرنے کی سوچ، مقام اور مقصد، تینوں موجود ہیں۔انقلاب کو کامیاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ کے میدان میں حقیقی انقلابی حالات پیدا کیے جائیں۔ انقلابی حالات اور نظام انقلاب کی کامیابی کے لیے راہیں بناتے ہیں۔

انقلاب انسانی شخصیت کو متاثر کرنے اور بدلنے کا مقام ہے۔ اگر جنگ آپ کی شخصیت کو متاثر نہیں کر رہی، اسے تبدیل نہیں کر رہی اور اس کی وجودیت کو مقصد نہیں دے رہی، اگر وہ انقلاب میں حصہ لے کر بھی انقلابی احساس حاصل کرنے سے قاصر ہے، اگر قربانی دینے کے لیے تیار ہونے کے باوجود بھی وہ ذہنی اور فکری حوالے سے پاک، شفاف اور حقیقی گہرائی تک نہیں پہنچتا، اگر وہ جنگ میں شامل ہونے کے باوجود بھی انا، غرور، مکر و فریب، جھوٹ اور انتشاری ذہنیت کا شکار ہے، تو یہ انقلاب کے معیار پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟

انقلاب شور اس لیے انقلاب کی علامت ہے کیونکہ وہ آپ کی عام شخصیت کو جھنجھوڑ لیتا ہے، اسے تبدیل کرتا ہے، آپ کی غیر انقلابی عادتوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے۔ یہاں انقلاب صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک انسانی کردار کی تشکیل کا کام کرتا ہے، کیونکہ انقلاب اگر غیر معنویت کا شکار ہے تو وہ انقلاب کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر انقلاب اپنے حقیقی مقام پر تبدیلی پیدا کرنے سے قاصر رہے تو وہ عوامی اور عام زندگیوں کو کیسے معیاری بنا سکتا ہے؟ انقلاب شور اس حقیقی انقلابی کردار کی تشکیل کا مقام ہے، جہاں ایک عام انسان انقلاب کی عظمت تک پہنچ جاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔