بلوچستان میں چار افراد جبری لاپتہ، پانچ بازیاب

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے جاری سلسلے میں چار افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے، جبکہ پانچ افراد کے بازیاب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں یکم ستمبر کو ثناء اللہ ولد محمد انور کو فرنٹیئر کور (ایف سی) نے صبح 9 بجے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

کوئٹہ کے حاجی قاسم شاہوانی اسٹریٹ سے 30 سالہ امداد شاہوانی ولد رؤف شاہوانی کو 30 اگست کی صبح 7 بجے پولیس اور سی ٹی ڈی نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا۔

اسی طرح کوئٹہ سے 18 سالہ شامروز شاہوانی ولد منیر احمد کو 12 مئی کی رات 9 بجے سی ٹی ڈی اور پولیس نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا، جبکہ اسی علاقے سے طالب علم حذیف شاہوانی ولد نظام الدین کو 7 اپریل کی رات 2 بجے سی ٹی ڈی اور پولیس نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا۔

دوسری جانب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی بازیابی کی بھی اطلاعات ہیں۔ آواران کے علاقے گیشکور کولواہ سے شاکر بلوچ ولد عبداللہ کو 22 اگست کو لاپتہ کیا گیا، جو 24 اگست کو اسی علاقے سے بازیاب ہو گئے۔

واشک کے سیاہوزئی، بسیمہ سے زبیر بلوچ ولد محمد یعقوب کو 23 اگست کو لاپتہ کیا گیا، جو 31 اگست کو کراچی سے بازیاب ہوئے۔

سوراب سے سعید احمد ولد عبدالعزیز کو 12 جولائی کو لاپتہ کیا گیا، جو 20 اگست کو مین آر سی ڈی روڈ، سوراب سے بازیاب ہوئے، جبکہ سوراب سے خلیل احمد ولد محمد نور کو بھی 12 جولائی کو لاپتہ کیا گیا تھا، جو 25 اگست کو مین آر سی ڈی روڈ، سوراب سے بازیاب ہوئے۔

خاران کے کلی سراوان سے سیف الدین بلوچ ولد محمد اقبال بلوچ کو 23 اگست کو لاپتہ کیا گیا تھا، جو 31 اگست کو کراچی سے بازیاب ہو گئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر کیسز ریاستی دباؤ، خوف اور مختلف رکاوٹوں کے باعث بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے، جس کے سبب جبری گمشدگیوں کی اصل تعداد ریکارڈ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔