معروف تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے کا ایک پشتون علاقے میں دن دہاڑے آ کر ایک پولیس سٹیشن کو تباہ کرنا اور بغیر کسی رکاوٹ یا مزاحمت کے واپس چلے جانا ایک اہم پیشرفت ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بی ایل اے نے پشین سے متصل قلعہ عبداللہ میں ایک پولیس سٹیشن کو تباہ کیا تھا لیکن یہ قلعہ عبداللہ کے ایک سرحدی علاقے میں ہوا تھا۔
سرانان کا علاقہ تو کوئٹہ چمن کے درمیان مین ہائی وے پر واقع ہے۔ یہاں پر اُن کا دن دہاڑے آنا بہت ہی حیران کن ہے اور یہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ’وہ (بی ایل اے) دن کی روشنی میں کوئٹہ چمن ہائی وے جیسی مرکزی جگہوں پر واقع پشتون علاقوں میں آ سکتے ہیں۔ یہ مسلح تنظیموں کی بڑھتی ہوئی مضبوطی اور اعتماد کا بھی اظہار ہے، جو کہ ایک لحاظ سے سکیورٹی کی ناکامی ہے۔
سکیورٹی اُمور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ سرانان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی کارروائی کا مقصد بظاہر اس علاقے میں اپنی موجودگی کو ظاہر کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہم اب بلوچ علاقوں سے نکل کے پشتون علاقوں میں بھی آ چکے ہیں۔
انھوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پشتون علاقوں میں اس طرح کے واقعات یہ پہلے بھی کر چکے ہیں جن میں بعض واقعات میں شناخت کی بنیاد پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مارا گیا، لیکن پشین کے حوالے سے اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ تو کوئٹہ سے بالکل متصل ہے۔
















































