کتابوں کی دم توڑتی سانسیں اور ان کی منتظر نگاہیں – ملک عیسیٰ خان رند

13

کتابوں کی دم توڑتی سانسیں اور ان کی منتظر نگاہیں

تحریر: ملک عیسیٰ خان رند

دی بلوچستان پوسٹ

میرا کتابیں پڑھنے کا شوق جب بیروزگاری کی وجہ سے اتفاقاً میرا ذریعہ روزگار بنا۔ 1998 میں انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے میں نوکری کی تلاش میں سرگرداں پھرتا رہا، اور پھر ایک دن نساء ٹریڈرز (مطبوعات النساء بک سیلرز اینڈ پبلشرز)، سیٹلائٹ ٹاؤن میں بطور سیلز مین اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ یوں کتابیں پڑھنے کا شوق بھی پورا ہوا اور ساتھ میں کتب فروشی کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔

اس زمانے میں کوئٹہ کی علمی، ادبی اور کتابی دنیا میں بخاری فیملی کا سکہ چلتا تھا۔ مرحوم عابد بخاری صاحب کے نساء ٹریڈرز، مطبوعاتُ النساء اور مسٹر ری پرنٹس کے نام سے بک شاپس تھیں، جو کہ اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ پھر ان کے ہی بڑے بھتیجے مرحوم منصور بخاری کے گوشہ ادب اور سیلز اینڈ سروس کے نام سے بک شاپس تاحال موجود ہیں، اور منصور بخاری صاحب کے بڑے فرزند زعیم بخاری اپنے آباؤ اجداد کے علم دوستی اور کتاب دوستی کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عابد بخاری کے دوسرے بھتیجے سلیم بخاری نے بک لینڈ کے نام سے بک شاپ قائم کیا تھا، جو کہ ابھی چند سال پہلے بند ہو گیا۔ بک لینڈ کے ساتھ ہی جمشید صاحب کا کوئٹہ بک اسٹال تھا، جو کہ اب صرف چند سکولوں کی نصابی کتب فروخت کرنے تک محدود ہو چکا ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے ساتھ سابق سینٹر مرحوم زمرد حسین صاحب کا قائم کیا ہوا بک شاپ قلات پبلشر کے نام سے تاحال موجود ہے، اور اب ان کے فرزند میجر (ریٹائرڈ) نذر حسین زمرد کے زیرِ نگرانی علم و ادب کے فروغ میں کوشاں ہے۔ جناح روڈ پر سوئس پلازہ میں ہمارے دوست روزالدین کا غزنوی کتب خانہ ہوا کرتا تھا، جو کتاب دوستوں کی عدم توجہی اور نامساعد حالات کی وجہ سے بند ہو گیا، اور روزالدین آج کل سائنس کالج چوک پر سڑک کنارے تھڑے پر کتابیں فروخت کر کے کتاب دوستی کا حق ادا کر رہا ہے اور رزقِ حلال کی جستجو میں ہے۔ میزان چوک پر اخبار مارکیٹ کے نام سے کتابوں کی درجن بھر چھوٹی دکانیں تھیں، جو کہ بند ہو گئیں۔ موتی رام روڈ پر انصاری بک اسٹال بھی تاحال قائم ہے۔ اس کے علاوہ بھی کوئٹہ کی کافی چھوٹی بک شاپس تھیں، اب جن کا وجود نہیں رہا۔

میں 1998 سے کتابوں کے پیشے سے وابستہ ہوں، اور 2012 سے اپنے بک شاپ یونیورسٹی بک پوائنٹ کا آغاز کیا، اور تاحال یونیورسٹی بک پوائنٹ کے پلیٹ فارم سے کتاب دوستی کے فروغ میں کوشاں ہوں۔

ایک زمانہ تھا جب کتاب انسان کی بہترین دوست سمجھی جاتی تھی۔ کتاب خریدنا علم سے محبت، مطالعے کا شوق اور فکری بیداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ شام کے اوقات میں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اپنی ضرورت کی کتابیں خریدنے کے لیے بک شاپس کا رخ کرتے؛ اساتذہ، دانشور، ادیب، صحافی، وکلاء، بیوروکریٹس، الغرض تمام کتاب دوست نئی کتابوں کی تلاش میں بک شاپس کے چکر لگاتے رہتے۔ ان کتاب دوستوں سے ہماری بھی علمی ادبی گفتگو ہوتی اور ایک دوسرے کے علم اور تجربات سے مستفید ہوتے۔ نوجوان سیاسی، تاریخی، ادبی اور علمی موضوعات پر کتابیں پڑھتے، اور گھروں میں کتابوں کی الماریاں خاندان کے علمی ذوق کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔

مگر آج کتاب اور قاری کے درمیان ایک عجیب فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ بک شاپس کی الماریوں میں کتابیں خاموش کھڑی ہیں۔ ان کے صفحات قاری کی انگلیوں کے منتظر ہیں، ان کے سرورق کسی خریدار کی نظر کے منتظر ہیں، اور کتاب فروش اس امید میں بیٹھا ہے کہ شاید آج کوئی کتاب خریدنے آ جائے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک کاروبار کے زوال کی داستان نہیں، بلکہ معاشرے کے فکری اور علمی مزاج میں آنے والی تبدیلی کا آئینہ بھی ہے۔

اور اگر اس منظر کو بلوچستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتِ حال مزید تشویش ناک دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان کی ویران ہوتی بک شاپس اپنی بقاء کی تگ و دو میں ہیں؛ یوں سمجھیں کہ آئی سی یو میں ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی کے پھیلاؤ، دور دراز علاقوں، محدود تعلیمی سہولیات اور معاشی مشکلات کے باعث یہاں کتاب اور قاری کے درمیان فاصلے پہلے ہی بہت زیادہ رہے ہیں۔

چند سال پہلے کوئٹہ کی مختلف بک شاپس پر طلبہ، اساتذہ، ادیبوں اور کتاب دوست لوگوں کی رونق نظر آتی تھی۔ نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ افسانے، ناول، شاعری، تاریخ، سیاست، فلسفہ، تحقیق، سوانح اور مختلف زبانوں کی ادبی کتابیں بھی فروخت ہوتی تھیں۔ مگر آج بلوچستان کے کئی علاقوں میں بک شاپس کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ بعض دکانیں محدود ہو گئی ہیں، بعض نے کتابوں کے بجائے اسٹیشنری اور دیگر اشیا پر زیادہ انحصار شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر کتابوں کی دکان چلانا ہی مشکل کاروبار بن چکا ہے۔

کتابوں سے بھری الماریوں کے سامنے بیٹھا کتاب فروش جب گاہک کا انتظار کرتا ہے، تو یہ منظر صرف ایک دکاندار کی پریشانی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی علمی رویے پر ایک بڑا سوال ہے۔ کیا بلوچستان کا نوجوان کتاب سے دور ہوتا جا رہا ہے؟ اور میرے جیسے جو چند کتاب دوست کتب فروش 50 سے 60 فیصد رعایت پر کتابوں پر سیل لگاتے ہیں، تاکہ ہم بلوچستان کے نوجوانوں اور علم دوست حضرات کو دوبارہ کتاب کی طرف لائیں۔

بلوچستان کی موجودہ علمی و ادبی پسماندگی اور تعلیمی حالات میں یہاں پر کتاب کی ضرورت شاید پہلے سے زیادہ ہے۔ بلوچستان میں کتاب کی ضرورت کسی دوسرے خطے سے کم نہیں، بلکہ بعض حوالوں سے زیادہ ہے۔ یہاں کے پڑھے لکھے طبقے اور نوجوانوں کے لیے تاریخ، سیاست، معاشرت، ثقافت، قبائلی روایات، زبانوں، ادب، وسائل، ترقی، پسماندگی اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے بے شمار موضوعات ہیں، جن پر سنجیدہ مطالعے اور تحقیق کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کے نوجوان اگر اپنی تاریخ پڑھیں گے، تو وہ اپنے ماضی کو بہتر سمجھ سکیں گے۔ اگر ادب پڑھیں گے، تو زبان اور ثقافت سے ان کا رشتہ مضبوط ہوگا۔ اگر سائنس پڑھیں گے، تو جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھ سکیں گے۔ اگر معیشت اور سیاست پڑھیں گے، تو اپنے معاشرے کے مسائل کو گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اگر دنیا کی تاریخ اور تہذیبوں کا مطالعہ کریں گے، تو اپنے صوبے اور ملک کو عالمی تناظر میں دیکھ سکیں گے۔

اس لیے بلوچستان میں کتاب کا فروغ محض ایک ادبی سرگرمی نہیں، بلکہ علمی، تعلیمی اور سماجی ضرورت ہے۔ اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کوئٹہ کے کتب فروش ہمیشہ سے محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔

بک شاپس کی ویرانی صرف کاروباری مسئلہ نہیں، بلکہ معاشرے میں کتابوں سے دوری اور عدم دلچسپی کی عکاسی ہے۔ عام طور پر جب کسی بک شاپ کی فروخت کم ہوتی ہے، تو اسے ایک کاروباری مسئلہ سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ بک شاپ معاشرے کا ایک چھوٹا سا علمی مرکز ہوتی ہے۔ وہاں آنے والا طالب علم صرف کتاب نہیں خریدتا، بلکہ علم کا ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔ ایک نوجوان تاریخ کی کتاب خریدتا ہے، تو وہ ماضی سے جڑتا ہے۔ کوئی شاعری کی کتاب لیتا ہے، تو اس کے اندر احساس اور جمالیات پروان چڑھتے ہیں۔ کوئی فلسفہ پڑھتا ہے، تو سوال کرنا سیکھتا ہے۔ کوئی سائنسی کتاب خریدتا ہے، تو تجسس اور تحقیق کی طرف بڑھتا ہے۔ اس لیے جب بک شاپ ویران ہوتی ہے، تو دراصل معاشرے کا ایک علمی راستہ بھی ویران ہوتا ہے۔

موبائل فون اور سوشل میڈیا کے آنے سے کتب بینی میں کمی، اور خاص طور پر نوجوان نسل کی کتاب دوستی کے درمیان ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ ایک بڑی وجہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ آج ایک نوجوان کے ہاتھ میں دنیا بھر کی معلومات موجود ہیں۔ چند سیکنڈ میں خبر، ویڈیو، تصویر یا مختصر تحریر اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن معلومات کی فراوانی نے مطالعے کی عادت کو لازماً مضبوط نہیں کیا۔ سوشل میڈیا نے انسان کو مختصر مواد کا عادی بنا دیا ہے: ایک پوسٹ، ایک ویڈیو، ایک ریل، اور پھر اگلی ریل۔ کتاب اس کے برعکس یکسوئی مانگتی ہے۔ کتاب پڑھنے کے لیے انسان کو رکنا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے، سوال کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ایک ہی صفحہ دوبارہ پڑھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ شاید کتاب کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ توجہ کی کمی ہے۔

تاہم موبائل فون کو کتاب کا دشمن سمجھنا بھی غلط نہ ہوگا؛ کیونکہ موبائل پر غیر ضروری مواد دیکھا جا سکتا ہے، تو اسی موبائل پر ای بکس، تحقیقی مواد، ادبی تحریریں، آڈیو بکس اور آن لائن کتابیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو موبائل یا لیپ ٹاپ کے مقابلے میں کتاب کا وزن زیادہ لگتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان کو موبائل کی لت سے نکالنے کے لیے کتب فروشوں کے ساتھ ساتھ پبلشرز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ کتابوں کی مناسب قیمت رکھ کر نوجوانوں اور کتاب دوستوں تک کتاب پہنچائی جائے۔ اساتذہ کرام بھی نوجوان نسل کو کتب بینی کی ترغیب دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس طرح شاید کتابوں کی دم توڑتی سانسیں ایک بار پھر سے بحال ہو جائیں۔

بلوچستان میں تعلیمی مسائل بھی کتب بینی کے کم ہوتے رجحان سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں میں اچھی لائبریریاں موجود نہ ہوں، جہاں طلبہ کو نصابی کتاب کے علاوہ کچھ پڑھنے کی ترغیب نہ دی جائے، اور جہاں تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا رہ جائے، وہاں مطالعے کی وسیع عادت کیسے پیدا ہوگی؟ طالب علم کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ تعلیم صرف کتابِ نصاب کے چند ابواب یاد کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور دلیل کے ساتھ اپنی رائے قائم کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اور یہ صلاحیت صرف نصاب سے نہیں، بلکہ وسیع مطالعے سے پیدا ہوتی ہے۔

بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہر شخص کے لیے کتابیں خریدنا ممکن نہیں۔ ایسے میں عوامی لائبریریاں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہر ضلع میں جدید اور فعال لائبریری ہونی چاہیے۔ بڑے شہروں کے علاوہ تحصیل اور دیہی سطح پر بھی چھوٹی کمیونٹی لائبریریاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ ان لائبریریوں میں اردو کے ساتھ بلوچی، براہوی، پشتو، فارسی اور انگریزی زبانوں کی معیاری کتابیں دستیاب ہونی چاہئیں۔ خصوصاً بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، ادب، شخصیات اور سیاسی و سماجی موضوعات، اور عالمی حالاتِ حاضرہ، پاکستان کے سیاسی و معاشی اور قومی وسائل و مسائل پر لکھی گئی ہر نئی کتاب بک سیلرز سے خرید کر ان لائبریریوں میں رکھ کر کتاب دوستوں اور طلبہ کی دسترس تک پہنچائی جائے۔ لائبریری ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں نوجوان کو صرف کتابوں کے ساتھ ساتھ کتب بینی اور تحقیق کی سہولت اور فکری گفتگو کا موقع بھی ملے، اور پرسکون ماحول بھی دستیاب ہو۔

کتب بینی کے فروغ میں زبان کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ جس نوجوان کو اپنی زبان میں دلچسپ اور معیاری کتابیں دستیاب ہوں گی، اس کے لیے مطالعے کی طرف آنا آسان ہوگا۔ بلوچی، براہوی، پشتو اور بلوچستان میں رائج دیگر زبانوں میں بچوں، نوجوانوں اور عام قارئین کے لیے جدید موضوعات پر کتابیں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف کلاسیکی ادب کافی نہیں۔ نوجوانوں کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، ماحولیات، تاریخ، سوانح، کاروبار، معیشت، نفسیات اور دنیا کے جدید موضوعات پر بھی مقامی زبانوں میں کتابیں دستیاب ہونی چاہئیں۔

بچوں کو کتاب سے محبت اسکول جانے کے بعد نہیں، بلکہ گھر سے ملتی ہے۔ اگر گھر میں والدین سارا وقت موبائل فون پر مصروف رہیں گے، اور بچے کو صرف موبائل سے دور رہنے کا کہیں گے، تو یہ طریقہ زیادہ مؤثر نہیں ہوگا۔ والدین خود کتاب پڑھیں۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق کتابیں خرید کر دیں۔ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے کیا پڑھا۔ رات کو سونے سے پہلے چند صفحات پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اگر گھر میں روزانہ صرف بیس منٹ بھی مطالعے کے لیے مخصوص کیے جائیں، تو چند برسوں میں بچے کے اندر ایک مضبوط علمی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔

بلوچستان میں بک شاپس کی رونق بحال کرنے کے لیے صرف کتاب فروش کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں۔ اس کے لیے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر:

  • کتابوں پر خصوصی رعایت

  • اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے کتب میلوں کا انعقاد کر کے خصوصی رعایت متعارف کرائی جا سکتی ہے

  • پبلشرز اور بک سیلرز کے باہمی اشتراک سے کوئٹہ کے بک شاپس پر ہر تین ماہ بعد سہ روزہ بک فیئرز منعقد کیے جائیں

  • بلوچستان کے تمام بڑے شہروں اور ضلعی مراکز میں کتاب میلے منعقد کیے جائیں، جس میں قارئین کو 50% رعایت پر کتابیں فراہم کی جائیں

  • اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بک ایکٹیویٹی/بک کلب قائم کیے جائیں، جس میں “ایک طالب علم، ایک کتاب” کا نعرہ نافذ ہو

  • ہر طالب علم کو ماہانہ کم از کم ایک غیر نصابی کتاب پڑھنے کی ترغیب دی جائے

  • تمام کتاب دوست اور بک شاپ مل کر بک شاپس میں مصنفین سے ملاقات، ان کی نئی کتاب کی رونمائی، ادبی نشست اور مطالعاتی گفتگو کا اہتمام کریں؛ تو اس سے معاشرے میں کتب بینی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے

میں چاہتا ہوں کہ مجھ سمیت بلوچستان کے کتاب فروش آن لائن آرڈر اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کریں، تاکہ دور دراز علاقوں کے قارئین بھی کتابیں حاصل کر سکیں۔ اگر بلوچستان کے سرکاری ادارے، تعلیمی ادارے اور لائبریریاں مقامی بک شاپس اور ناشرین سے باقاعدگی سے کتابیں خریدیں، تو اس سے مقامی کتب فروش تاجروں کی مالی مدد بھی ہوگی، اور کتب فروشی کے کاروبار کے ساتھ کتب بینی کو بھی مقامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوگی۔

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “کتاب پڑھو”۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نوجوان کیا پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر نوجوان کو تاریخ میں دلچسپی ہے، تو اسے دلچسپ تاریخی کتاب دی جائے۔ اگر وہ سائنس پسند کرتا ہے، تو سائنسی کتاب دی جائے۔ اگر اسے ناول پسند ہے، تو اچھا ناول دیا جائے۔ اگر اسے سیاست میں دلچسپی ہے، تو غیر جانب دار اور معیاری سیاسی و تاریخی کتابیں فراہم کی جائیں۔ کتاب مسلط نہیں کی جاتی، کتاب سے محبت پیدا کی جاتی ہے۔

کتاب اور بلوچستان کا مستقبل

بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں میں نہیں، بلکہ تعلیم اور شعور میں بھی ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان اپنے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ ایک مطالعہ کرنے والا شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ ایک کتاب پڑھنے والا انسان اختلافِ رائے کو سمجھنے اور دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں کتب بینی کا فروغ صوبے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کا نوجوان دنیا کے نوجوانوں کے ساتھ علم، تحقیق، سائنس، ادب اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کھڑا ہو، تو ہمیں اس کے ہاتھ میں صرف موبائل نہیں، بلکہ کتاب بھی دینی ہوگی۔

کتابیں آج بھی ہماری منتظر ہیں

آج بلوچستان کی کئی بک شاپس میں کتابیں خاموش کھڑی ہیں۔ وہ کسی طالب علم کی منتظر ہیں، کسی استاد کی منتظر ہیں، کسی نوجوان کی منتظر ہیں، کسی ایسے والد کی منتظر ہیں جو اپنے بچے کے لیے ایک کتاب خریدے۔ وہ اس معاشرے کی منتظر ہیں جو دوبارہ انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کتابیں ہم سے کوئی بہت بڑا مطالبہ نہیں کرتیں۔ وہ صرف ہمارا تھوڑا سا وقت مانگتی ہیں: روزانہ بیس منٹ، ایک ہفتے میں چند صفحات، ایک مہینے میں ایک کتاب۔ لیکن یہی چند صفحات انسان کے اندر ایسی دنیا آباد کر سکتے ہیں، جو کسی موبائل اسکرین پر نہیں مل سکتی۔

بلوچستان میں ویران ہوتی بک شاپس ہمیں ایک سنجیدہ پیغام دے رہی ہیں۔ یہ صرف کتاب فروش کا نقصان نہیں۔ یہ صرف ناشر کا مسئلہ نہیں۔ یہ صرف ادیب کی پریشانی نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اگر بک شاپس ویران ہوتی رہیں، لائبریریاں خالی رہیں، اور نوجوان کتاب سے دور ہوتے گئے، تو آنے والے وقت میں ہمارے پاس معلومات کے ذرائع تو بہت ہوں گے، مگر گہری سوچ رکھنے والے قارئین کم ہوتے جائیں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسل کو صرف اسکرین دینا چاہتے ہیں، یا اسکرین کے ساتھ کتاب بھی۔ ہمیں موبائل فون چھیننے کی نہیں، مطالعے کی عادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کتاب کو ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ مستقبل کی ضرورت بنانا ہوگا۔ خاص طور پر بلوچستان میں یہ کام ایک ادبی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک علمی تحریک بننا چاہیے۔

آئیے، اپنے گھروں میں کتاب واپس لائیں۔ اپنے اسکولوں اور کالجوں میں لائبریریاں آباد کریں۔ بک شاپس سے کتابیں خریدیں۔ مقامی ادیبوں اور ناشرین کی حوصلہ افزائی کریں۔ بچوں کو کتابیں تحفے میں دیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود کتاب پڑھیں۔ کیونکہ: بک شاپ کی روشنیاں صرف اس وقت دوبارہ روشن ہوں گی، جب ہمارے اندر مطالعے کی روشنی دوبارہ روشن ہوگی۔ کتابیں آج بھی ہماری منتظر ہیں؛ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کب ان کی طرف واپس لوٹیں گے؟

اور آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ:
ہمارا خواب: ہر ہاتھ میں کتاب


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔