بلوچستان کے ضلع سوراب میں 12 اگست کو پیش آنے والے واقعے پر بلوچ نیشنل موومنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے واقعے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سفارتی، سیاسی اور انسانی حقوق کی مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت فرانس، بیلجیم، نیدرلینڈز، اٹلی، سویڈن، جرمنی، آئرلینڈ، برطانیہ اور امریکا میں 300 سے زائد منتخب نمائندوں، سیاسی دفاتر، بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا رابطوں سے رابطہ کیا گیا ہے۔
بی این ایم کے مطابق مہم کا بنیادی مقصد سوراب واقعے کی آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات، بلوچستان تک بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی بلا روک ٹوک رسائی، واقعے سے متعلق شواہد کے تحفظ اور شہری ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے احتساب کے لیے عالمی دباؤ پیدا کرنا ہے۔
بی این ایم کے مطابق اس کی فارن ڈپارٹمنٹ مہم کے تحت اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR)، یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے تجارت، یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS)، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد اور یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور (AFET) اور انسانی حقوق (DROI) کمیٹیوں سے رابطہ کیا گیا۔
بی این ایم کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC)، فریڈم ہاؤس، انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس اور انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس سمیت انسانی حقوق کے اداروں کو بھی خطوط اور شواہد ارسال کیے گئے۔
بی این ایم کے مطابق فرانس، بیلجیم، نیدرلینڈز، اٹلی اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے 230 ارکانِ یورپی پارلیمنٹ (MEPs) کو بھی خطوط اور مبینہ شواہد فراہم کیے گئے، جبکہ جرمنی میں اس کے مقامی باب نے مزید 95 سیاسی، پارلیمانی، میڈیا اور انسانی حقوق کے رابطوں تک رسائی حاصل کی۔
برطانیہ میں تنظیم نے Foreign, Commonwealth & Development Office (FCDO) اور 15 ارکانِ پارلیمنٹ سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکا میں پانچ سینیٹرز اور ایوانِ نمائندگان کے نو ارکان سے رابطے کیے گئے، جبکہ آئرلینڈ کے ارکانِ پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی مہم میں شامل کیا گیا۔
بی این ایم نے اپنے مطالبات میں سوراب واقعے کی آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات کو سرفہرست رکھا ہے۔ بی این ایم کا مؤقف ہے کہ کسی بھی فریق کے دعوے کو حتمی قرار دینے کے بجائے جائے وقوعہ، ہلاکتوں، زخمیوں، تباہ شدہ مکانات اور دستیاب شواہد کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔بلوچستان میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو غیر محدود رسائی دینے، تمام شواہد محفوظ رکھنے اور شہریوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
بی این ایم نے یورپی یونین سے پاکستان کے GSP+ تجارتی درجے کے حوالے سے بھی سنجیدہ جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان 2014 سے GSP+ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت پاکستان کو یورپی منڈی میں متعدد مصنوعات پر ترجیحی تجارتی سہولت حاصل ہے، تاہم اس سہولت کے ساتھ انسانی و مزدور حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان کی GSP+ ذمہ داریوں کی نگرانی یورپی کمیشن، EEAS، رکن ممالک، یورپی پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کی سطح پر کی جاتی ہے۔
یورپی یونین نے 2026 میں اپنے نئے GSP نظام کو بھی منظور کیا ہے، جو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا اور انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق شرائط اور نگرانی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
اسی لیے BNM کا مطالبہ ہے کہ سوراب اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو پاکستان کی GSP+ ذمہ داریوں کے تناظر میں بھی دیکھا جائے۔
بی این ایم کا کہنا ہے کہ سوراب کے متاثرین کا معاملہ صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو یورپی یونین، اقوام متحدہ، برطانوی و امریکی حکومتوں، پارلیمانوں اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے مسلسل اٹھایا جائے گا۔
بی این ایم کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سوراب کے متاثرین کو انصاف ملے، مبینہ شہری ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات ہوں اور بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں پر بین الاقوامی نگرانی اور جواب دہی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

















































