بلوچستان میں تجارتی گاڑیوں پر حملے: پنجاب میں گیس کا بحران

1

ایران سے بلوچستان کے زمینی راستوں کے ذریعے پاکستان کے دیگر شہروں کو جانے والی گیس اور ایل پی جی کی سپلائی معطل۔

ایران سے بذریعہ بلوچستان پاکستان کے دیگر شہروں کو جانے والی گیس اور ایل پی جی کی زمینی ترسیل معطل ہوگئی ہے، جس کے باعث پاکستان کے مختلف بڑے شہروں، بالخصوص پنجاب، کو گیس کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

بلوچستان میں ایران بارڈر ٹریڈ پر سیکیورٹی خدشات اور گیس و دیگر معدنیات لے جانے والی تجارتی گاڑیوں پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل حملوں کے باعث ایران سے آنے والے سینکڑوں ایل پی جی باؤزرز اور دیگر گیس بردار گاڑیوں کی آمد مکمل طور پر رک گئی ہے۔

گیس اور ایل پی جی کی زمینی سپلائی معطل ہونے کے باعث پیدا ہونے والے شارٹ فال کو پورا کرنے اور مقامی گیس مارکیٹ میں طلب و رسد کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بین الاقوامی مارکیٹ سے مہنگے داموں ایل این جی کارگو کی اسپاٹ خریداری کے لیے ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اس ہنگامی خریداری کا مقصد پنجاب کے گیس نیٹ ورک میں پریشر برقرار رکھنا اور گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو ایندھن فراہم کرنا ہے تاکہ بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن اور طویل لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تصادم اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان ایران کے ساتھ بلوچستان کے زمینی راستوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تجارت اور توانائی کی درآمد کی کوشش کر رہا ہے، تاہم بلوچستان میں تجارتی گاڑیوں پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل حملوں کے باعث اس سپلائی روٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے رواں سال بلوچستان کو ایران سے ملانے والی اہم شاہراہوں پر معاشی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے تجارتی گاڑیوں، بالخصوص ایران سے پنجاب جانے والے تیل اور گیس بردار ٹرکوں اور باؤزرز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح بلوچستان سے پنجاب کی فیکٹریوں کو فراہم کیے جانے والے کوئلے کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی سمیت مختلف بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں نے بلوچستان سے پاکستان کے دیگر شہروں کو جانے والی تجارتی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

تجارتی گاڑیوں اور ان کی سیکیورٹی پر مامور پاکستانی فورسز کے اہلکاروں پر مسلسل حملوں کے باعث بلوچستان سے گزرنے والا اہم تجارتی روٹ عملی طور پر شدید متاثر ہوا ہے، جس کے اثرات اب پاکستان کے بڑے شہری مراکز، خصوصاً پنجاب، میں توانائی کی فراہمی پر بھی نظر آ رہے ہیں۔