بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 25 مئی 2026 کو دشت کے علاقے سبدان پھل میں قابض پاکستانی فوج کے چار گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو بھاری ہتھاروں سے حملہ کرکے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران دشمن کے قافلے میں شامل ایک گاڑی مکمل حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں اس میں سوار ڈرائیور سمیت تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 24 مئی 2026 کو تمپ کے علاقے کسانو میں قائم پاکستانی فوجی چیک پوسٹ کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے فائرنگ کر کے چیک پوسٹ پر نصب نگرانی کے کیمرے بھی تباہ کر دیے۔ اس حملے میں فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 24 مئی 2026 کو نوشکی کے علاقے سر ملّ میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ اس میں سوار چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 23 مئی 2026 کو شاہراہِ این-70 پر بارکھان کے علاقے چنگ ندی چھپر، رکھنی کے مقام پر ناکہ بندی کی۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ کا کنٹرول حاصل کر کے گاڑیوں کی سخت اسنیپ چیکنگ کی۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد علاقے پر اپنی عسکری گرفت مضبوط رکھنا اور دشمن فورسز کی نقل و حرکت سمیت ان کے مقامی سہولت کاروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا تھا۔
مزید کہاکہ اس دوران سرمچاروں نے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف، کوئلے سے لدے ایک ٹرک کو قبضے میں لے کر نذرِ آتش کر دیا۔ دریں اثنا، سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے شاہراہ پر نصب کردہ فوجی نگرانی کے کیمروں کو بھی فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔ ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک گاڑی نے رکنے کے اشارے کی تعمیل نہیں کی اور فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے فوری فائرنگ کر کے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اسی دوران شاہراہ کے دونوں اطراف قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کی پوسٹوں سے اہلکاروں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں پہلے سے پوزیشن سنبھالے سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے فائرنگ کر کے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔
بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے 22 مئی 2026 کو حب کے علاقے بھوانی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی نئی چوکی اور اس سے منسلک سڑک کی تعمیر میں مصروف اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قبض فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 22 مئی 2026 کو مند کے علاقے سورو میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر مختلف سمتوں سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو حب کے علاقے دُریجی میں قیمتی پتھروں کی ٹرانسپورٹیشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، پتھروں سے لدی دو گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کے ٹائر برسٹ کر دیے۔ یہ حملہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بی ایل ایف کی جاری مہم کا حصہ ہے۔
ترجمان نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو تمپ کے علاقے رودبن میں قائم پاکستانی فوجی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے اسے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ حملے کے دوران سرمچاروں نے چوکی پر نصب نگرانی کا کیمرہ بھی فائرنگ کر کے تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو چاغی کے علاقے کرودک میں ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ اور کڑی نگرانی کا عمل برقرار رکھا۔ یہ ناکہ بندی مسلسل تین گھنٹے تک جاری رہی، جس کا بنیادی مقصد علاقے پر عسکری گرفت مضبوط کرنا اور دشمن کی مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔
تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران سرمچاروں نے پورے علاقے کا عسکری کنٹرول سنبھالے رکھا اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران فوج کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے سرمچاروں کے حفاظتی دستے الرٹ رہے اور ناکہ بندی کا عمل کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد تمام سرمچار اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشت، تمپ، نوشکی، بارکھان، حب اور مند میں قابض فوج پر حملوں میں سات فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، شاہراہوں پر ناکہ بندی اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔














































