کراچی: خاتون حبیبہ پیرجان جبری گمشدگی کا شکار

99

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن سے ایک خاتون کی جبری گمشدگی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی، ایم آئی اور پولیس اہلکاروں نے رات گئے گھر پر چھاپہ مار کر خاتون کو اپنے ساتھ لے گئے۔

اہلخانہ کے مطابق 25 مئی 2026 کی رات تقریباً 12:40 بجے اہلکاروں نے گشینِ مزدور تھرڈ اسٹریٹ، بلدیہ ٹاؤن، نیول کالونی کے قریب واقع گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ کارروائی کے دوران دو موبائل فون، ایک گھڑی اور گھریلو ڈائریاں بھی اپنے ساتھ لے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

متاثرہ خاتون کے بیٹے یاسر بلوچ نے بتایا کہ اہلکار بغیر کسی خاتون اہلکار کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کی والدہ حبیبہ پیرجان کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق انہیں بھی اسلحے کے زور پر گاڑی میں بٹھایا گیا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام منتقل کیا گیا جہاں ان سے مختلف سوالات کیے گئے۔ بعد ازاں انہیں صبح تقریباً ساڑھے چار بجے شیر شاہ میں ایک بینک کے سامنے چھوڑ دیا گیا۔

یاسر بلوچ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے ان کی والدہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حبیبہ پیرجان کی دوسری مرتبہ جبری گمشدگی ہے۔ اس سے قبل بھی انہیں 22 مئی 2022 کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور تین روز بعد واپس چھوڑ دیا گیا تھا۔

اہلخانہ نے حبیبہ پیرجان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے یا فوری طور پر رہا کیا جائے۔