چاغی آپریشن میں پورے شہر کا محاصرہ، تھانوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ، پولیس و لیویز تھانوں پر حملہ، اسلحہ ضبط: میجر گہرام بلوچ

59

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مورخہ 9 جولائی 2026 کو ایک منظم و مربوط کارروائی کرتے ہوئے پورے چاغی شہر کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔ سرمچاروں کے ہراول اور حفاظتی دستوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ چاغی شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں سمیت اردگرد کے پہاڑی سلسلوں اور اہم گزرگاہوں پر  پوزیشنیں سنبھالتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔ شہر کے اندرونی و بیرونی راستوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، ناکہ بندی پر مامور سرمچاروں کے دستوں نے چاغی کی اہم شاہراہوں پر عارضی چوکیاں قائم کر دیں اور سڑکوں پر ہر قسم کی مشکوک گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ ریاستی کمک، فورسز یا مخبروں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بلاک کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ محاصرے کی کامیابی کے بعد، سرمچاروں کے مخلتف گوریلا دستے چاغی شہر کے اندر داخل ہوئے اور انہوں نے وہاں قائم پولیس اور لیویز کے تھانوں، بینک اور دیگر سرکاری عمارتوں پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش کے عمل سے گزارا گیا۔ تفتیش کے بعد تمام اہلکاروں کو قومی تحریکِ آزادی کے خلاف قابض فوج کا آلہ کار بننے سے باز رہنے اور قوم دشمن سرگرمیوں سے دور رہنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ چونکہ پولیس اہلکاروں کو بلوچ دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہ پایا گیا اسلئے جنگی اصولوں و اخلاقیات، اور انسانیت کے تحت تمام اہلکاروں کو بحفاظت رہا کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس تھانے میں موجود سرکاری اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔

ترجمان نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران جب قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تو وہاں پہلے سے مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے پے در پے حملے کیے۔ سرمچاروں کے حملے کے نتیجے میں دشمن فوج پسپا ہو کر وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا اصل ہدف چاغی جیسے اہم ترین تزویراتی شہر کو اپنے کنٹرول میں لے کر دنیا کے سامنے قابض ریاست کی عمل داری کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنا، اور یہ دکھانا تھا کہ بلوچستان پر اصل عمل داری قابض پاکستانی ریاست کی نہیں بلکہ سرمچاروں کی ہے ۔ اس کارروائی کے ذریعے ہم ریاستی شراکت داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے سرمائے کو قابض فوج کے جھوٹے بھروسے پر یہاں جھونکنے سے گریز کریں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین سے قابض افواج کے مکمل خاتمے اور آزادیِ کے حصول تک سرمچاروں کے فیصلہ کن حملے مستقبل میں بھی مزید شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔