کابل کے بحالی مرکز پر پاکستان کے فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل

57

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کی گئی ایک نئی تحقیق میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے دار الحکومت کابل میں ایک منشیات بحالی مرکز پر ہونے والے فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔

یاد رہے کہ 16 مارچ کو ہوئے اس حملے میں اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 269 شہری ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کابل میں کیے گئے فضائی حملے میں ’تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم طالبان حکام اس دعوے کو رد کرتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو پاکستانی فوج کے اس دعوے کی تائید کرتے ہوں کہ حملے کے وقت ’امید ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹر‘ کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے یا کسی دوسرے فوجی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ منشیات بحالی مرکز پر ہوئے فضائی حملوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی مراکز کو حاصل خصوصی تحفظ اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔