شفیق مینگل: بلوچستان کا ایک متنازع کردار
ٹی بی پی اداریہ
8 جولائی کی دوپہر بلوچستان کے سب سے بڑے ضلع، خضدار، میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر کار بم دھماکے کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں کیساتھ گھنٹوں تک جاری رہنے والا ایک حملہ ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی۔ بی ایل اے کے مطابق یہ کارروائی اس کے فدائی ونگ، مجید بریگیڈ، نے انجام دی ہے۔ 2011 کے بعد یہ شفیق مینگل پر مجید بریگیڈ کا دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل 30 دسمبر 2011 کو کوئٹہ کے ارباب کرم خان روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ کو ‘فدائی’ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جو بی ایل اے کے فدائی ونگ کی پہلی کارروائی تھی۔
شفیق مینگل خضدار کے رہائشی ہیں اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور سابق نگران وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے بیٹے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا نام بلوچستان کے سب سے متنازع کرداروں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں، لاپتا افراد کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر مسلح گروہوں (ڈیتھ اسکواڈز) کی سرپرستی، جبری گمشدگیوں، تشدد اور سیاسی کارکنوں کے قتل جیسے سنگین الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ توتک کی اجتماعی قبروں سے لے کر شاہ نورانی درگاہ پر ہونے والے خودکش حملے، بی ایس او آزاد کی ریلی پر فائرنگ، خضدار یونیورسٹی کے ثقافتی پروگرام پر دستی بم حملے، وڈھ میں لیویز اہلکاروں پر حملوں اور ان کی ہلاکتیں، نیز بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت جیسے متعدد متنازع واقعات میں بھی شفیق مینگل کا نام سامنے آتا رہا ہے۔
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے حال ہی میں خضدار کی خالی نشست پر انہیں اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ عوامی تنقید کے باوجود ایک شخصیت کو پارٹی ٹکٹ دینا محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ ان کی خواہشات، احساسات اور سیاسی حساسیت کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔ اس نوعیت کے فیصلوں کو صرف انتخابی حکمتِ عملی کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا، بلکہ انہیں ریاست، سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان تعلقات اور اعتماد کے وسیع تر تناظر میں بھی پرکھا جاتا ہے۔
شفیق مینگل کا نام بلوچ حلقوں میں شدید تنازعات اور الزامات کے ساتھ لیا جاتا ہے، بالخصوص بلوچ نسل کشی کے الزامات اور توتک اجتماعی قبروں کے معاملے سے ان کے تعلق کی وجہ سے انہیں بلوچ معاشرے کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ بلوچ سماج ایسے کرداروں کو اپنے اجتماعی شعور، تاریخی جدوجہد اور قومی مفادات کے خلاف تصور کرتا ہے، اسی لیے انہیں مسلسل عوامی ردعمل اور سیاسی تنہائی کا سامنا ہے۔
بلوچ عوام کی نظر میں ایسے عناصر کسی فرد واحد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے تاریخی اور سماجی تناظر کا حصہ ہیں، جہاں انسانی حقوق، شناخت، انصاف اور عزتِ نفس جیسے معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفیق مینگل جیسے متنازع کرداروں کے خلاف بلوچ معاشرے میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے اور ان کی موجودگی کو بلوچستان کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا سماجی کردار محض وقتی اثر رکھ سکتا ہے۔
بی ایل اے کی جانب سے شفیق مینگل کو “غدارِ اعظم” کا لقب دیا جا چکا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے اور امکان موجود ہے کہ مستقبل میں بھی انہیں مزید بڑے یا منظم حملوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔












































