پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے طالبعلم رہنما مجیب اکبر لاہور سے لاپتہ

86

پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالبعلم رہنما اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجیب اکبر کو لاہور سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

مجیب اکبر کی اہلیہ فائزہ خان کے مطابق انہیں جمعہ 17 جولائی کو دوپہر تقریباً 2 بجے لاہور کے علاقے ایجوکیشن ٹاؤن، وحدت روڈ پر واقع ان کے فلیٹ سے چند اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

فائزہ خان نے بتایا کہ دروازے پر دستک کے بعد جب انہوں نے دروازہ کھولا تو کم از کم پانچ اہلکار زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ان کے مطابق دو اہلکار سیاہ وردیوں میں ملبوس اور مسلح تھے، جبکہ دیگر افراد سول کپڑوں میں تھے اور خود کو سرکاری ادارے سے وابستہ ظاہر کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اہلکار مجیب اکبر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ فائزہ خان کے مطابق اہلکار انہیں پیدل سڑک تک لے کر گئے، جہاں کچھ فاصلے پر ایک ایمبولینس موجود تھی، جس میں بٹھا کر انہیں لے جایا گیا۔ ان کے بقول اس ایمبولینس پر کوئی نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی۔

فائزہ خان نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ پولیس تھانے میں درخواست جمع کرائی، تاہم تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دینے کے بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی، جس میں اہلکاروں کو مجیب اکبر کو لے جاتے ہوئے اور ایک ایمبولینس کو ان کے پیچھے آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ مجیب اکبر کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

مجیب اکبر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کو عدالتی کارروائی کے بغیر حراست میں رکھنا غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے۔

دوسری جانب جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ترجمان نے ایک بیان میں مجیب اکبر کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مجیب اکبر جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کے سلسلے میں سرگرم تھے اور اسی وجہ سے انہیں جبری طور پر حراست میں لیا گیا۔

تنظیم کے مطابق ماضی میں بھی جموں کشمیر کے متعدد سیاسی اور سماجی کارکنوں کو اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے مبینہ طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بعض افراد کو عدالتی احکامات کے بعد جموں کشمیر پولیس کے حوالے کیا گیا، تاہم کئی کارکنوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

جے کے این ایس ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ مجیب اکبر سمیت تمام جبری لاپتہ کیے گئے افراد کو فوری طور پر بازیاب کر کے رہا کیا جائے۔