بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنماؤں کی گرفتاری: یورپی یونین کا پاکستان سے جواب طلب

0

یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، خاص طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی حقوق سے متعلق معاملات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک قرارداد کی تحریک کو 95 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور بنیادی شہری حقوق کے تحفظ سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے۔

تحریک میں خاص طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ زیرِ حراست افراد کے معاملات کو شفاف قانونی طریقۂ کار کے مطابق حل کیا جائے اور سیاسی کارکنوں و انسانی حقوق کے نمائندوں کے خلاف اقدامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔

یورپی قانون سازوں کے مطابق یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تعلقات صرف تجارتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے بھی وابستہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ پاکستان انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور جی ایس پی پلس شرائط پر مطلوبہ پیش رفت نہیں کر رہا تو مستقبل میں اس تجارتی سہولت کے حوالے سے نظرثانی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کی حالیہ جائزہ رپورٹ میں بھی پاکستان میں انسانی حقوق کے معاہدوں کے نفاذ میں موجود نظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیوں، اقلیتوں کے حقوق، میڈیا کی آزادی، آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے حق سے متعلق خدشات برقرار ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا فقدان ایک اہم مسئلہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

یورپی کمیشن کے مطابق جبری گمشدگیوں سے متعلق انکوائری کمیشن متاثرین کے خاندانوں کو مؤثر انصاف فراہم کرنے یا ذمہ دار عناصر کو جواب دہ بنانے میں محدود ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جبری گمشدگیوں کے کسی کیس میں کسی فرد کو سزا نہیں دی گئی۔

کمیشن کی جانب سے 9 ہزار سے زائد مقدمات بند کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقدمات میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ تاہم، ایسے مقدمات جن میں افراد کے واپس آنے یا وفات پانے کی بنیاد پر کارروائی ختم کی گئی، ان میں دورانِ گمشدگی پیش آنے والے حالات کی مکمل تفصیلات ریکارڈ نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور بعض صوبائی قوانین میں ترامیم پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق ان قوانین کے تحت حفاظتی حراست کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بغیر الزام عائد کیے، بغیر مقدمہ چلائے اور محدود عدالتی نگرانی کے تحت افراد کو حراست میں رکھنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے اختیارات کا غیر متناسب استعمال سیاسی مخالفین، اقلیتی گروہوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، طلبہ اور متاثرہ خاندانوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔

یورپی جائزے میں “تشدد اور حراستی موت (روک تھام اور سزا) ایکٹ” کے نفاذ کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا، تاہم کہا گیا کہ قانون میں موجود خامیوں کے باوجود اس پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی حکام کی تربیت شروع کی ہے، لیکن تشدد کے مقدمات میں تحقیقات، شکایات اور سزاؤں سے متعلق اعداد و شمار ابھی تک واضح بہتری کی نشاندہی نہیں کرتے۔

یورپی کمیشن نے سیاسی حقوق سے متعلق بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں اور کہا ہے کہ عدالتی کارروائیوں کے مبینہ غلط استعمال اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں نے سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں سابق وزیرِ اعظم کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے منصفانہ ٹرائل، وکلا تک رسائی، ملاقاتوں اور طبی سہولیات سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات بین الاقوامی معیار، خصوصاً شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کے آرٹیکل 14 کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے، جو آزاد اور غیر جانبدار عدالت میں منصفانہ اور کھلے ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے۔

میڈیا کی آزادی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کی گئی، تاہم صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے ماحول مزید مشکل، خطرناک اور دباؤ کا شکار ہوا ہے۔