خاران: ڈیتھ اسکواڈ نیٹورک کا سربراہ حافظ کبیر سمیت دو کارندے گرفتار جبکہ دو کو ہلاک کردیا- میجر گہرام بلوچ

343

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 18 جولائی 2026 کی رات خاران کے علاقے کُلان میں قابض ریاست کے پالے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف ایک منظم آپریشن کرتے ہوئے قابض دشمن کے اہم کارندے حافظ کبیر کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران حافظ کبیر کے بیٹے عبد الحکیم نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے موقع پر ہی ہلاک کر دیا- اس آپریشن میں ہمارے سرمچاروں نے قابض ریاست کے اہم کارندہ حافظ کبیر کو اس کے بیٹے حافظ نوید سمیت حراست میں لے لیا جن کو مکمل تفتیش کے بعد بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہاکہ ایک اور کاروائی میں ہمارے سرمچاروں نے 18 جولائی 2026 کی رات خاران کے علاقے گواش میں ریاستی کارندے صوفی ممتاز کے قریبی ساتھی قومی مجرم غمی ساسولی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا- مذکورہ مجرم سال 2015 میں احمد نواز ساسولی کے ہمراہ دشمن کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے تھے۔ سرنڈر کے بعد غمی ساسولی احمد نواز کے زیرِ قیادت بلوچ قومی جہد کے خلاف سرگرم تھا۔ احمد نواز کی ہلاکت کے بعد وہ قومی جہد آزادی کے خلاف صوفی ممتاز کے نیٹورک سے منسلک ہوکر علاقے میں بلوچ نوجوانوں کی جبری اغوا، ماورائے عدالت قتل سمیت چوری و ڈکیتی کے جرائم میں براہ راست شامل تھا ۔

انہوں نے کہاکہ بی ایل ایف حافظ کبیر اور اس کے بیٹے حافظ نوید کو حراست میں لینے، قومی مجرم عبد الحکیم اور غمی ساسولی کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ حافظ کبیر اور حافظ نوید کی تقدیر کا فیصلہ مکمل تفتیش کے بعد بلوچ قومی عدالت میں کیا جائے گا۔