پنجاب کے ٹرانسپورٹرز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کوئلہ سمیت ایل پی جی لانے والی گاڑیوں پر حملوں سے پنجاب میں کمپنیاں بند ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جتنی بھی ایل پی جی یا کوئلہ ہے، وہ بلوچستان سے آتا ہے، لیکن آئے روز حملوں سے صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے اور ہمیں شدید نقصان کا سامنا ہے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں پنجاب طرز پر موٹروے پولیس تعینات کرکے ان کی گاڑیوں اور سرمایہ کو تحفظ دیا جائے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے شاہراہوں کی ناکہ بندی کے دوران متعدد بوزر گاڑیوں، کوئلہ ٹرکوں اور آئل ٹینکرز کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ استحصالی کمپنیوں سے منسلک متعدد گاڑیوں کو تباہ کیا گیا اور اہم شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول برقرار رکھا گیا۔
اور بلوچ لبریشن آرمی اس پریس ریلیز کے ذریعے یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر بی ایل اے اب مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہے اور یہ پوری شاہراہ اب بی ایل اے کے زیرِ کنٹرول خطے کا حصہ ہے۔ ہم اب کسی بھی صورت بلوچ وسائل اور معدنیات کو لوٹ کر لے جانے والی گاڑیوں، ٹرکوں، ٹریلرز یا کسی بھی قسم کے قافلوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ جو بھی کمپنیاں، ٹھیکیدار یا ٹرانسپورٹرز بلوچ وسائل کی اس غاصبانہ لوٹ مار کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا تھاکہ ہم ان تمام مقامی و غیر مقامی کمپنیوں اور معدنیات لے جانے والے عناصر کو آخری بار سخت اور حتمی وارننگ دیتے ہیں کہ وہ اب سرزمینِ بلوچستان سے بلوچ وسائل کو چرانے کی تمام تر کوششیں فوری طور پر ترک کر دیں، بصورتِ دیگر بی ایل اے کے سرمچاروں کی اگلی ضربیں ان کے لیے مزید عبرت ناک ہوں گی۔

















































