ریاستی آلہ کار ملا کبیر اور زبیر کے خلاف موجود شواہد اور ان کے اپنے اعترافِ جرم کی بنیاد پر انھیں ان کے منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔ میجر گہرام بلوچ

10

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 جولائی 2026 کی رات خاران کے علاقے کُلان میں آپریشن کے دوران قابض فوج اور آئی ایس آئی کے اہم کارندے ملا کبیر ایجباڑی ساکن پُرپیٹ، حال مقیم خاران شہر کو اس کے بیٹے حافظ نوید سمیت اس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزم اور اس کے گرفتار بیٹے کو خفیہ مقام پر منتقل کر کے ان سے تفصیلی تفتیش کی گئی۔
دورانِ تفتیش ملا کبیر نے بلوچ قوم، قومی تحریک آزادی اور سرمچاروں کے خلاف اپنے تمام جرائم کا بلا کم و کاست اعتراف کیا۔ اعترافِ جرم اور تمام تر شواہد کے بعد معاملہ بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا۔ قومی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم کو خاران کے علاقے گواش میں ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ 8 جولائی کے آپریشن میں ملا کبیر کے ساتھ حراست میں لیے گئے اس کے بیٹے حافظ نوید کے حوالے سے بھی مکمل تفتیش کی گئی۔ دورانِ تفتیش کسی بھی جرم میں ملوث نہ ہونے اور بے گناہ ثابت ہونے پر، تنظیمی اصولوں اور عدالتی انصاف کی پاسداری کرتے ہوئے حافظ نوید کو 21 جولائی کو باحفاظت رہا کر دیا گیا۔
تفتیش کے دوران ملا کبیر نے اعتراف کیا کہ اس نے ملا زبیر کے ذریعے آئی ایس آئی کے کیپٹن جہانگیر سے رابطہ قائم کیا، جس کے بعد سے وہ مسلسل بلوچ قوم کے خلاف ریاستی آلہ کار کے طور پر پیش پیش رہا۔ اس نے صوفی ممتاز (حافظ ممتاز) کے ساتھ مل کر چار بلوچ نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی، جن میں سے ارشاد نامی نوجوان کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش ویرانے میں دفن کر دی گئی تھی۔
مزید برآں، اس نے ملا ناصر اور شاہد ملازی کے ساتھ مل کر بلوچ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے مزید منصوبے بنائے۔ ملزم نے رحیم فقیرزئی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر بی ایل ایف کے سرمچار مجاہد سیاپاد کو نوراللہ نورُک اور کلیم اللہ کے ذریعے، جبکہ تنظیم کے ہمدرد نذر محمد سیاپاد ولد سلام جان کو اپنے بیٹے حکیم اللہ اور نوراللہ نورُک کے ذریعے شہید کرایا۔ اس کے علاوہ وہ ایف سی کے کرنل ویدان کے ساتھ مل کر دالبندین کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح جتھے تشکیل دینے کی کوششوں میں بھی براہِ راست ملوث رہا۔ ان تمام جرائم کا اس نے خود اعتراف کیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے تمام ثبوت بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
ملزم نے آئی ایس آئی کے کیپٹن جہانگیر کی سرپرستی میں علاقے میں چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتیں بھی شروع کر رکھی تھیں، جن کا بنیادی مقصد عوامی سوچ کو بلوچ قومی تحریک سے ہٹا کر چوری و ڈکیتی جیسے مسائل تک محدود کرنا تھا، اور ان بڑی ڈکیتیوں کے لیے آئی ایس آئی کی جانب سے اسے سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے موبائل فون سے کئی کمسن بچوں کی نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں، جن کے ذریعے وہ بچوں کو بلیک میل کر کے ان سے مخبری کا کام لیتا تھا۔
تفتیش کے دوران ملا کبیر نے اپنے پورے نیٹ ورک اور تمام ساتھیوں کے نام افشا کر دیے ہیں، جنہیں جلد ان کے عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 13 جولائی 2026 کو دوپہر تقریباً 3 بجے، تنظیمی انٹیلی جنس کی معتبر معلومات کی بنیاد پر تربت شہر میں خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ایک اہم اور فعال رکن زبیر ولد عبدالغنی، ساکن شاہی تمپ تربت کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا۔ ملزم پچھلے کئی برسوں سے تنظیم کی ہٹ لسٹ پر تھا اور انتہائی مطلوب تھا۔
گرفتاری کے بعد ملزم سے کی گئی تفصیلی تفتیش کے دوران مزید ثبوت بھی تنظیم کے ہاتھوں لگی ہیں۔ ابتدائی طور پر بلیدہ کے رہائشی لالا نذیر نے بابو ڈکیت کے ذریعے زبیر کو ریاستی دلالی کے نیٹ ورک میں شامل کرایا۔ زبیر تقریباً چھ ماہ تک بابو کا گن مین رہا اور اس دوران بلوچ تحریکِ آزادی کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں میں اس کا دست و بازو بنا رہا۔
بعد ازاں زبیر، راشد پٹھان کے ڈیتھ اسکواڈ گینگ میں شامل ہو گیا اور تربت، بلیدہ اور دشت کے علاقوں میں متحرک رہا۔ اس گینگ کے ساتھ رہتے ہوئے وہ چوری، ڈکیتی اور شاہراہوں پر ناکہ بندی جیسی مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اسی دوران اس نے براہِ راست قابض فوج کے افسران سے روابط بھی قائم کیے۔ وہ میجر دانش کے ساتھ رابطے میں رہ کر گھروں پر چھاپوں میں شریک ہوتا رہا اور منشیات کی اسمگلنگ بھی کرتا رہا۔

ترجمان نے کہا کہ میجر دانش کے تبادلے کے بعد اس نے زبیر کا رابطہ ڈی بلوچ میں تعینات میجر امان سے کروایا، اور زبیر آخری وقت تک میجر امان سے منسلک رہا۔ میجر امان کی مکمل سرپرستی میں زبیر ڈیزل کے ٹینکرز سے تیل بطور بھتہ وسول کرتا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم دونوں کے درمیان تقسیم ہوتی تھی۔ علاوہ ازیں، وہ تربت شہر کے اندر غیر قانونی ناکہ بندیاں قائم کر کے عوامی استحصال میں بھی ملوث رہا۔
تفتیش کے دوران ڈیتھ اسکواڈ کے اس رکن نے اعتراف کیا کہ وہ نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کر کے انہیں پاکستانی فوجی افسران کے پاس لے جاتا تھا، جہاں ان کی نجی تصاویر و ویڈیوز بنا کر ان کے اہل خانہ کو بلیک میلنگ کیا جاتااور ان سے بھاری رقم وصول کی جاتی تھی۔
ملزم کے موبائل فون سے فوج کے ساتھ براہِ راست رابطوں، سرمچاروں کی نقل و حرکت کے راستوں کی نشاندہی، ناکہ بندیوں، اور فوجی کیمپوں کے اندر فوجیوں کے ساتھ حاصل کردہ تربیت کے اہم اور ناقابلِ تردید تصویری اور  دیگر ثبوت حاصل کر لیے گئے ہیں۔ زبیر نے تفتیش کے دوران ڈیتھ اسکواڈ کے دیگر اہم ارکان اور مخبروں کے نام بھی افشا کیے ہیں۔ یہ تمام ثبوت تنظیم کے پاس محفوظ ہیں اور وقت آنے پر قوم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
ان تمام جرائم کے اعتراف اور شواہد کی روشنی میں قومی عدالت کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے 15 جولائی کی رات ناصر آباد کے علاقے میں مجرم کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی مجرم ملا کبیر اور زبیر کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔