بلوچ لبریشن آرمی نے جانبحق سرمچار کی تفصیلات جاری کردیئے

9

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل ہکّل نے پاکستانی فوج کیساتھ جھڑپ میں جانبحق سرمچار کی تفصیلات شائع کردیے ۔

ہکل میڈیا کے مطابق حمل بلوچ عرف کامریڈ سالم ولد نیک بخت سکنہ: کسر، ڈنوک، تربت ،تعلیم: ایل ایل بی (آٹھویں سمسٹر)نے 2023 میں تنظیم میں شمولیت کی ۔

ہکل میڈیا کے مطابق وہ تمپ، کلبر، تربت شہر، کوسٹل ایریا کے محاذ میں کیمپ کمانڈ کی حثیت سے سرگرم اور 15 اکتوبر 2026، کوھاڈ، تمپ میں جانبحق ہوئے ۔

ہکل میڈیا کے مطابق حمل بلوچ عرف کامریڈ سالم بلوچ لبریشن آرمی کے ان تعلیم یافتہ، باشعور اور سیاسی حوالے سے پختہ ساتھیوں میں شامل تھے، جو طالبِ علمی کے زمانے سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ تھے اور قومی آزادی کا مقصد حاصل کرنے اور دشمن کے قبضے کا خاتمہ کرنے کے لیے تشدد اور طاقت کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ طالبِ علمی کے دوران بی ایس او آزاد کی سیاست سے وابستہ تھے اور نوجوانوں کو قومی آزادی کی جدوجہد کی طرف راغب کرنے اور انہیں قومی شعور دینے میں سرگرم تھے۔ بعدازاں، طلبہ سیاست کے بعد، انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی اور شہری گوریلا کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ تربت شہر میں دشمن کے خلاف عملی آپریشنز انجام دینے میں وہ ایک سرگرم گوریلا سرمچار کے طور پر فعال تھے۔ وہ دشمن کے قبضے کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی، سیاسی، شعوری اور علمی اپروچ رکھتے تھے اور مسلح جدوجہد کا انتخاب بھی اسی فکری اور تاریخی حقیقت سے آگاہی کے نتیجے میں کیا۔

تنظیم کے مطابق حمل بلوچ نے تنظیمی کمانڈ کی ہدایت پر 2023 میں اپنی شہری سرگرمیاں ختم کیں اور محاذ پر باقاعدہ سرگرم ہو گئے۔ حمل ایک عملی سرمچار تھے اور جنگی محاذ پر فعال رہنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ مکران کے مختلف محاذوں، کوسٹل ایریاز، تربت شہر، ہوشاب اور کلبر میں جنگی کارروائیوں میں بھرپور شرکت کی صورت میں کیا۔ 2025 میں ایک حادثے کے دوران انہیں شدید چوٹیں بھی آئی تھیں اور ان کا ایک ہاتھ کافی عرصے تک شدید زخمی رہا، لیکن حمل بلوچ کے بلند حوصلوں کے سامنے جسمانی مشکلات کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور یہی خصوصیات انہیں منفرد بناتی تھیں۔ انہی جنگی صلاحیتوں، سیاسی پختگی اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں کلبر محاذ کا کیمپ کمانڈر منتخب کیا گیا، جس کے فرائض وہ آخری دنوں تک انجام دے رہے تھے۔ حمل بلوچ 15 اکتوبر کو دشمن کے ایک حملے میں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے ساتھیوں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے، دشمن سے دوبدو لڑائی میں شہادت حاصل کرتے ہیں۔ بلوچ قومی تاریخ میں حمل بلوچ کو ایک بہادر ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔