تربت: جبری لاپتہ تین افراد کی عدم بازیابی، لواحقین کا بحفاظت بازیابی کا مطالبہ

38

ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آبسر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیے گئے تین افراد کی تاحال عدم بازیابی کے خلاف لواحقین نے ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔


پیر جان ولد تلاؤ، ساکن کیل کور، حال آسکانی آبسر، نے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ تربت میں مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیل کور، حال آسکانی آبسر کے رہائشی تلاؤ ولد ناگمان، محمد حیات ولد بابل اور چارشمبے ولد شمبے کو 24 اکتوبر کی رات تقریباً 8 بجے آسکانی آبسر، تربت سے حراست میں لیا گیا تھا۔ لواحقین کے مطابق تینوں افراد کو گاڑی اور دیگر سامان سمیت اپنے ہمراہ لے جایا گیا۔


انہوں نے کہا کہ خاندان نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں اور میڈیا کے ذریعے بھی معاملہ اٹھایا، تاہم تاحال تینوں افراد کی بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔ لہٰذا ہم ایک بار پھر ڈپٹی کمشنر کیچ، ڈی پی او کیچ اور کمشنر مکران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تینوں افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں۔


واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے ہیں، جبکہ متعدد لواحقین ریاستی دباؤ کے باعث اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے واقعات بروقت رپورٹ نہیں کر پاتے۔