بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر مسلح حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں خضدار کے علاقے کرخ، نوشکی کے علاقے احمد وال اور تربت کے مقام گیبن میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خضدار کے علاقے کرخ میں گزشتہ روز پاکستانی فوج، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ “سی ٹی ڈی” اور اے ٹی ایف کی تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو مسلح حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ اس دوران طویل جھڑپیں ہوئیں، جن میں 15 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، اسی دوران دو مسلح افراد کے بھی مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب نوشکی کے علاقے احمد وال میں بھی گزشتہ روز پاکستانی فوج پر مسلح حملے کے نتیجے میں جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ادھر تربت کے علاقے گیبن میں پاکستانی فورسز کے گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو مسلح افراد کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے، تاہم اس واقعے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصانات سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
تاحال ان واقعات کے حوالے سے متعلقہ عسکری حکام یا سرکاری اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔

















































