انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں لیفٹیننٹ کرنل کی گاڑی نشانہ، 15 کارروائیوں میں 27 دشمن اہلکار ہلاک – بی ایل اے

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئد بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے 20 اکتوبر سے 26 اکتوبر 2026ء کے دوران 7 روز کے دورانیئے میں بلوچستان کے مختلف محاذوں میں قابض پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت اداروں کو منظم اور شدید نوعیت کی 15 کارروائیوں میں نشانہ بنایا۔ ان تمام مربوط حملوں میں قابض فوج کے 27 سے زائد اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوگئے، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کی خصوصی انٹیلی جنس ونگ “زراب” کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں پسنی کے ساحلی شہر کے اندر قابض فوج کے اعلیٰ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ دھماکے سے تباہ کیا گیا۔ سات دنوں پر محیط ان شدید ترین عملیات کے دوران قابض فورسز کے ساتھ روبرو جھڑپوں میں بی ایل اے کا ایک سرمچار بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ 20 اکتوبر: مستونگ کے علاقے سورگز میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر رسد پہنچانے والے قافلے میں شامل بکتر بند گاڑی اور مزید ایک گاڑی کو سرمچاروں نے مسلح حملے میں نشانہ بنا کر شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

ترجمان نے کہا کہ 22 اکتوبر: قلات کے علاقے منگچر میں چوٹانک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج اور تجارتی گاڑیوں کے قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ 23 اکتوبر: نوشکی کے علاقے زرین جنگل میں قابض فوج کی پوسٹ پر تعینات ایک اہلکار کو بی ایل اے کے اسنائپر نے حملے میں ہلاک کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 24 اکتوبر: کیچ کے علاقے دشت میں چیرکنچتی کے مقام پر سرمچاروں نے رات کے وقت پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج کے قافلے کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنانے کے بعد شدید مسلح حملہ کیا۔ قابض فوج کی تین گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں دشمن کے چار اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز قلات کے علاقے مرجان میں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ قلات کے علاقے منگچر میں چوٹانک کے مقام پر قابض فوج کو سرمچاروں نے اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا جب وہ جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کر رہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزید برآں سوراب کے علاقے گدر میں قابض پاکستانی فوج نے جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کا آغاز کیا جس پر سرمچاروں نے مختلف مقامات پر جوابی حملوں کا آغاز کیا۔ قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین چار گھنٹوں سے زائد وقت تک شدید جھڑپیں جاری رہیں جس میں دشمن کے پانچ اہلکار ہلاک اور گیارہ سے زائد زخمی ہوگئے۔

نوشکی کے علاقے ہژدہ خول میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو ہفتے کی شب ایک مربوط اور شدید حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے مختلف اطراف سے دشمن کے کیمپ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء دشمن نے صبح کے وقت پیش قدمی کی کوشش کی جس پر سرمچاروں نے ریکو کے مقام پر قابض فوج کو گھات لگا کر نشانہ بنایا اور پسپا ہونے پر مجبور ر دیا۔ اس دوران دشمن نے کواڈ کاپٹرز کا استعمال کیا تاہم وہ سرمچاروں کو کوئی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔

گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں سرمچاروں نے خفیہ اطلاع پر قابض پاکستان کے کوسٹ گارڈز کے اعلیٰ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل بلال جالب کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا۔ قابض فوج کے اس آفیسر پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ “زراب” مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی جب وہ پسنی شہر میں نقل وحرکت کر رہے تھے۔ دھماکے میں دشمن کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے جبکہ عسکری گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

مزید برآں خضدار کے علاقے کرخ میں سرمچاروں نے لیویز اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ تھانے کو ایک مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے تھانے کے مرکزی گیٹ کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا جبکہ دیر تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔ دریں اثناء سرمچاروں نے کوئٹہ کراچی تجارتی روٹ پر ایک مرکزی پل کو بھاری مشینری کے ذریعے نذرِ آتش ومسمار کرکے شدید نقصان پہنچایا۔

25 اکتوبر: مستونگ کے علاقے دشت بابا میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ حملے میں دشمن کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ اسی روز خضدار کے علاقے باغبانہ کراس پر سرمچاروں نے قابض فوج کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا جس میں دشمن کے تین اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید چار زخمی ہوگئے۔

26 اکتوبر: مستونگ کے علاقے گرگینہ میں گریڈ اسٹیشن کے قریب قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو سرمچاروں نے گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں دشمن کے چار اہلکار ہلاک اور کم از کم مزید چھ زخمی ہو گئے۔ دریں اثناء قلات کے علاقے منگچر میں چوٹانک کے مقام پر دشمن کے قافلے کو سرمچاروں نے مسلح حملے میں نشانہ بنایا جس میں ایک دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ فورسز کو مزید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

بیان کہا ہے کہ پندرہ اکتوبر کو تمپ کے علاقے کوھاڈ میں قابض پاکستانی فوج اور سرمچاروں کے مابین اس وقت شدید جھڑپیں ہوئیں جب دشمن نے علاقے میں پیش قدمی کی۔ ان جھڑپوں میں دشمن فورسز کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کا جانباز سرمچار حمل نیک بخت عرف کامریڈ سالم بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوگیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی دھرتی کے دفاع کی خاطر جامِ شہادت نوش کرنے والے جانباز سرمچار حمل نیک بخت عرف سالم کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ شہید کا یہ مقدس لہو اور لازوال قربانی بلوچ قومی تحریک کی آزادی کا استعارہ ہے، اور بی ایل اے اپنے شہداء کے ان روشن افکار پر چلتے ہوئے قابض پاکستانی فوج کے مکمل انخلا تک اس مسلح جدوجہد کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔