آبان – سنگت ھانلی

30

آبان

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

مغرب کی سرخی پہاڑوں کی پشت پر اپنا آخری رنگ چھوڑ رہی تھی۔ کچے راستے پر اٹھتا دھول سورج کی ڈوبتی روشنی میں معلق ہوکر اداسی کا الگ ہی درشان کر رہا تھا، کہیں دور سے کسی ٹریکٹر میں بجتی موسیقی کی ایک لے چلی آرہی تھی، اور اس اداسی زدہ ماحول میں سیاہ چادر میں لپٹی وہ لڑکی ایک ننھے ہاتھ کو اپنی انگلیوں میں تھامے ایک ڈھلوان پر چڑھے جارہی تھی۔

’’ہم کہاں جا رہے ہیں، ادی؟‘‘

عقب سے بچے کی آواز ابھری۔

’’پھول لینے جا رہے ہیں چُوری ۔۔۔ آبان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، بتایا تو تھا تمہیں۔‘‘

“قربان امہ قربان، نمکن ای قربان
قربان امہ قربان، سد وار ای قربان”

نومبر کی سرد ہواؤں سے بچانے کے لیے شاشان کو موٹے کوٹ اور بوٹوں میں لپیٹ دیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ وقفے وقفے سے اپنی سرخ ناک کو ننھے ہاتھوں سے رگڑتا اور سردی کے مقابلے میں اپنی چھوٹی سی مزاحمت جاری رکھتا۔
وہ دونوں کچے راستے پر چلتے، مٹی کے اس بلند لمبے ٹیلے (لٹھ) تک پہنچے جسے گاؤں کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے ایک طرف شہر پھیلا ہوا تھا اور دوسری طرف کھیتوں اور میدانوں کا سلسلہ شام کی دھند میں دور تک چلتا دکھائی دیتا تھا۔

“گٹکار کریر وار ئس , گوڈ آتئے بدر تما
او گام ء تخار کیمپ ئٹ, دشمن نا جغر تما”

موسیقی کی آواز ہوا کی وجہ سے کسی پل بہت نزدیک محسوس ہوتی تو کبھی بہت دور۔

ٹیلے سے اتر کر چروائے، ریوڑ سمیت اپنے گدانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ بکریوں کی گھنٹیوں کی آوازیں، مویشیوں کی سانسوں سے اٹھتی بھاپ اور ان کے جسموں سے آتی مخصوص بو اس سرد شام کا حصہ تھیں۔ سورج کب کا پہاڑوں کے پیچھے اتر چکا تھا اور روشنی رفتہ رفتہ زمین سے اپنا تعلق توڑ رہی تھی۔
وہ دونوں، ٹیلے سے نیچے اتر کر ایک وسیع چار دیواری کے قریب پہنچے۔ کچی مٹی سے اٹھائی گئی دیواریں زیادہ بلند نہ تھیں، اور اس کے دروازے کی جگہ سوکھی کانٹوں والی ٹہنیوں کی ایک باڑ لگی تھی تھی۔ غالباً پھولوں کو جنگلی جانوروں اور بچوں کی دسترس سے بچانے کے لیے یہ بندوبست کیا گیا تھا۔ لڑکی نے شاخوں کی باڑ ذرا سی ہٹائی، شاشان کو احتیاط سے اٹھا کر دوسری طرف اتارا اور خود بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہوگئی۔

(پیمان کریر ڈھے تو، خیرات کریر تینے
شاغار ننے است آ، استان دریر تینے)

موسیقی آواز ہنوز آرہی تھی۔

بیلوں کی پھیلی ہوئی شاخوں اور سبز پتوں کے درمیان زرد سورج مکھی کے بلند قامت پودے دور دور کھڑے تھے، جن کے زرد چہرے ڈوبتے سورج کی سمت سے اب بے خبر تھے۔ ادھر ہی جگہ جگہ بے ترتیب اٹکل سے سرخ پھول بھی اُگ آیے تھے۔

“شہزادہ غا ورنہ تون، گودیک پری مسر
آجو نا جرکار ئک، استارک ودی مسُر”

لڑکی نے شاشان کے گلے سے مفلر اتارا اور اس پر سرخ پھول اور سورج مکھی کی کلیاں رکھنے لگی۔ شاشان بھی اپنے ننھے ہاتھوں سے پھول توڑ توڑ کر مفلر پر ڈالتا جاتا۔ کبھی کوئی پھول اس کی مٹھی میں مسل جاتی، تو وہ اسے سیدھا کرکے احتیاط سے باقی پھولوں کے درمیان رکھ دیتا۔

’’تم جاننا چاہتے ہو، آبان کے بارے میں چُوری؟‘‘

شاشان نے اپنی ننھی انگلیوں سے ایک اور پھول توڑتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ اس کے جواب پر مسکرائی۔ اندر ہی اندر وہ جانتی تھی کہ چھ برس کا یہ بچہ بھلا ان باتوں میں کیا دلچسپی لے گا، ان تاریخوں اور قربانیوں کی معنویت کو کہاں سمجھ پائے گا۔ مگر پھر بھی اگلے ہفتے کے دیوان میں جو کچھ اس نے کہنا تھا، وہی سب پُرسکون اور بلند لہجے میں شاشان کو سنانے لگی۔

’’ہم اپنے دیوان کا آغاز اپنی پاک گلزمین، بلوچستان کے نام سے کرتے ہیں۔ جس کے ہر جبل و دشت کو ہم نے اپنے جگر کے خون سے نکھارا ، جس کی آبادی و آسودگی کے لیے بولان سے لے کر پارود تک ہم نے لاشیں بچھا دیں۔ جس کی خوش حالی کی خاطر ناگاہو سے کوہِ باتیل تک ہم نے سفر کیے، اور جس کی آزادی کے اس عظیم مقصد کے لیے ہم ہر روز اپنی آسائشیں، اپنا سکون اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔”

“برشان تینا است ء، نایاب آ شہیداتے
بر اوتے مبارک پان، کٹار ہو شہادت ء”

“آج کے اس دیوان کو، میں اُن عظیم روحوں کو سلام پیش کرنے سے شروع کرتی ہوں، جو موت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رقص کرتے رہے، جنہوں نے ہم جیسے بے بس و لاچار غلاموں کے لیے اپنی موت خود لکھی، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں زندگی کو غلامی کے بغیر پہچان سکیں۔‘‘

“ہو جند ء بٹیر بے غم، خاخر تیٹی جوژ الکُر
بمب آتیتو مل الکُر، روڈ آتیا ئس مسُر”

“آبان کا مطلب ہے پانی۔یہ ایک قدیم فارسی اور زرتشتی روایت ہے۔ زرتشتی عقیدے میں آبان پانیوں سے وابستہ ایک مقدس ہستی ہے، جسے پانیوں کا نگہبان مانا جاتا ہے۔ ایرانی کیلنڈر میں آبان آٹھواں مہینہ ہے، جو تقریباً تئیس اکتوبر سے اکیس نومبر تک رہتا ہے۔

جیسا کہ تم جانتے ہو، آبان کے دن شروع ہو چکے ہیں۔ آبان کی بائیسویں تاریخ، یعنی تیرہ نومبر، ہمارے شہداء سے منسوب ہے۔ ان دنوں میں ہم اپنے شہداء کو محض چند تعریفی جملوں اور روایتی خراجِ عقیدت تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ انہیں ان کے اعمال اور کردار کے ذریعے یاد کریں گے۔ اور خدا سے دعا کریں گے کہ ہمارے اعمال میں بھی ان جیسی استقامت اور وفا پیدا ہو۔”

“صبر آتئے سلیسک دم، سگاتے خنار اوتا
افلاک ئن ملائک ئک، دیدار آ دڑار اوتا”

پھر وہ کھنکار کے بولی۔۔۔

“اگر تیرہ نومبر کی تاریخی نسبت کی بات کریں تو 1839ء میں اسی روز برطانوی فوج نے قلات پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں قلات کے خان، میر محراب خان، اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔ انہیں سرخ شہید، یعنی کرمسن مارٹرز، کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

یہی وہ تاریخ ہے جس سے ہمارے یومِ شہداء کی نسبت جڑی ہے۔”

“مایوس آ ننا سوچے، وجدان کرے آزاد
ریک آتیٹی تموکا، پھلکی آ امو بالاد”

’’شاشان، میں تمہیں کیا بتاؤں ان کے بارے میں؟ ان کی زندگی، ان کے خواب، ان کے ادھورے ارمان، ان کے گھر، ان کے لوگ، وہ تکلیفیں جن سے گزر کر وہ یہاں تک پہنچے۔ وہ امیدیں جو انہوں نے ہم سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ کیا کہوں تمہیں؟ ان کی تعریف میں چند شعر پڑھ دوں؟ ان کے نام کے قصیدے لکھ دوں؟

کیا میرے لفظ اتنے وسیع ہیں کہ ان کی پوری ہستی کو اپنے اندر سمو سکیں؟ کیا میری آواز میں اتنی طاقت ہے کہ ان کی زندگیوں کا حق ادا کر سکے؟

مجھے اپنے لفظوں سے شرمندگی ہوتی ہے، شاشان۔ جب بھی ان کے بارے میں بولنے بیٹھتی ہوں، آنسو حلق میں آ کر ٹھہر جاتے ہیں۔ آواز لڑکھڑانے لگتی ہے، اور دل میں اتنی باتیں ہونے کے باوجود زبان پر کچھ نہیں آتا۔‘‘

“حسن آتا ٹکا مس ئک نازاتو اداک ترخار
بارود ئنا خاخر ئٹ ماس ئن لخاک کشکار”

ٹریکٹر کے بجھتے اسپیکر سے اٹھتی آواز فضا کو مسلسل سوگوار کیے جا رہی تھی۔

سرد شام ڈھلنے تک وہ دونوں، اپنے جان سے عزیز سرمچاروں کی تصویروں کے لیے پھول چن چکے تھے۔ اس نے پھول سمیٹے، شاشان کی انگلی تھامی اور واپس چل دی.

واپسی کے راستے پر چلتے ہوئے بھی زیرِ لب اُسکی خود کلامی جاری تھی۔

“تمہارے لیے اپنے مہر کے آخری اظہار کے طور پر، ہم تمہیں یاد کیا کریں گے۔ اس وقت تک، جب تک تمہیں چیر کر گزرنے والی گولی خود درد سے کراہ نہ اٹھے، جب تک آسمان کے تہوں میں اڑنے والے پرندے اپنے گھونسلوں میں لوٹنے سے انکار نہ کر دیں، جب تک تمہاری یاد کی شامیں طلوع ہونے سے باغی نہ ہوجائیں۔

اپنی محبت کے آخری اظہار کے طور پر، ہم ہر دن کو تیرہ نومبر بنا دیا کریں گے۔

یہ دیے بھلا تمہارے لیے کیونکر روشن ہوں؟ یہ تو اُن کے سِرہانے رکھے جاتے ہیں جنہیں روشنی کی ضرورت ہو، تمہاری ذات تو خود روشنی ہے، ایسی روشنی کہ ہزاروں مربع میل تک نسلوں کو منور کر سکے۔
تمہارے لیے تو ہم اپنے دل کے لہو سے چراغ جلائیں گے، تمہاری خواہشوں اور ارمانوں کو شب و روز اپنے اوراق پر نوشت کریں گے۔ تم آؤ کہ تمہیں تخت پر بٹھا کر تمہارے ہاتھوں پر مہندی سجائیں، تمہاری سیاہ، جوان داڑھی اور کندھوں تک آتے بالوں کے درمیان تمہاری جھلسی ہوئی پیشانی کو چومنے کے لیے ماہتاب و آفتاب اتار لائیں۔

بھلا تمہارے لیے ہم صرف ایک دن کیسے مختص کر دیں،؟ میرے دل میں بسنے والے، اے خوبرو جنگجو … !!

یہ تحریر، یہ تمثیل، یہ الفاظ کے ارکان، یہ آنسوؤں کے لشکر، یہ بحر میں پروئے موتی، یہ سب تمہارے احسان کے سامنے کتنے ناکافی ہیں؟۔ لفظوں کی یہ ساری صورتیں، اظہار کے یہ سارے قرینے تمہاری عظمت کو اپنے اندر سمیٹنے سے کیسے قاصر ہیں؟

تمہیں یاد کرنے کے لیے گلاب و گواڑخ تمہاری تصویروں کے سامنے رکھ تو دوں، دیے جلا تو دوں، مگر اُس کرب کا کیا کروں جس میں، مَیں اپنی انگلیاں اپنے دل کے گوشت میں گاڑ دیتی ہوں، اور جب انہیں باہر کھینچتی ہوں تو اپنے ناخنوں کی بے حس کرخت آواز سنتی ہوں۔ وہ کرب جس میں اپنے بال نوچ ڈالتی ہوں، جس میں آنکھوں سے آنسوؤں کے بجائے خون بہنے لگتا ہے ؟”

“جنگاتا ملار با ء، جنگی آ امن زاداک
خاک ئٹ تینے پیڑار ئک ، مشیار وطن زاداک”

ٹیلے سے اتر کر وہ کچے راستے کے آخری موڑ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سامنے کونے پر بنی چوکی دکھائی دینے لگی۔ وہاں موجود اہلکاروں کی نگاہ سیاہ چادر میں لپٹی اس عورت پر پڑی۔ وائرلیس پر اطلاع دی گئی کہ سر، سیاہ چادر میں لپٹی ایک مشکوک عورت ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ جواباً حکم ملنے اور چند لمحوں کی غیر متوقع نگاہوں کے تبادلے کے بعد چوکی سے فائر کھول دیا گیا۔

گولیوں کی پہلی آواز پر اس لڑکی نے شاشان کو اپنی طرف کھینچ کر دونوں بازوؤں میں چھپا لیا۔ ننھا جسم چادر کے اندر سمٹ گیا۔ پھول انکے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر جا گرے۔ سرخ پنکھڑیاں مٹی میں بکھر گئیں اور سورج مکھی کے زرد پھول ان دونوں کے اوپر لڑھک گئے۔

“ئس سم تا کہ یونگ آرا، ایپار کہنگ اسک
داپار گنوکا تا یاری ٹے مخنگ اسک
ٹھپی آ بدن تو ہو تموک دتر چر ئس
ایمان تہ مضبوط ئس جیرت ئن اسل پر ئس”

فائرنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس کا جسم گولیوں کی ضرب سے بار بار جھٹکے کھاتا رہا، مگر بازوؤں کا حصار شاشان کے گرد قائم رہا۔ وہ اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔ شاشان کا چہرہ اس کے سینے سے لگا تھا، اسے کیا خبر کہ وہ ننھی ٹانگیں چادر کے نیچے پہلے ہی بے حرکت ہوچکی تھیں۔

ایک گولی چادر سے ڈھکی سر میں پیوست ہوئی تو بازوؤں کی گرفت بھی ٹوٹ گئی۔ اتنی سی بات تھی اور اسکا جسم شاشان پہ ڈھلک گیا۔

اور کچھ دیر بعد وہاں صرف بکھرے ہوئے پھول، مٹی میں گرتا ہوا خون اور دو بے جان جسم باقی تھے۔ دونوں کی روحیں ایک ساتھ پرواز کر چکی تھیں۔

“مش تیان توار بس ئک سنگت گڑا رخصت اف
ابصار بیان کیس تا نیٹی دنو ہمت اف”

اسے معلوم تھا کہ موت کبھی رومانوی نہیں ہوتی۔ موت تو اُس لمحے آتی ہے جب کوئی اپنا تمہاری آنکھوں کے سامنے بچھڑ رہا ہو اور تم اسے روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکو۔ جب اس کی آخری ہچکی تمہارے کانوں میں اترے اور تمہارے ہاتھ بے بس رہ جائیں۔ موت کوئی خوبصورت استعارہ نہیں، یہ لہو میں بھیگا ہوا جسم ہے، گوشت میں پیوست گولیاں ہیں، ٹھنڈی پڑتی انگلیاں ہیں۔ اور کبھی موت یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی کو بچانے کے لیے تم اپنے وجود کو اس کے گرد حصار بنا دو، مگر اسے پھر بھی زندگی نہ دے سکو۔

موت کی ایک اور صورت بھی ہے، سب سے حسین۔۔۔ کہ جب انسان آجوئی کے مقصد کے لیے اس حد تک آمادہ ہو کہ اپنی بقا کی جبلّی خواہش بھی اس کے سامنے بے معنی ہو جائے۔ جب سروائول انسٹنکٹ ہی ختم ہوجائے۔۔ جب اپنی زندگی سے زیادہ عزیز کوئی شے ہو، اور اسے بچانے کے لیے انسان اپنی زندگی کا خیال تک دل سے اتار دے۔

ٹریکٹر کی آواز اب تھم چکی تھی۔ فضا پر ایک منحوس سکوت چھا گیا تھا، وہی بدمزہ خاموشی جو انقلابی موسیقی کے اختتام میں ہوتی ہے۔

اب وہاں لاشیں تھیں اور لال چیونٹیوں کا ایک جمگھٹا، جو پھولوں پر رینگ رہا تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔