بلوچ لبریشن آرمی میں قیادت کی منتقلی: شخصیات سے بالاتر ادارہ جاتی تسلسل اور ایک نئی روایت

179

بلوچ لبریشن آرمی میں قیادت کی منتقلی: شخصیات سے بالاتر ادارہ جاتی تسلسل اور ایک نئی روایت

تحریر: فتح جان

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی تنظیم کی اصل مضبوطی کسی ایک فرد کی طویل حکمرانی میں نہیں بلکہ اس کے اداروں، اصولوں اور اجتماعی نظم و ضبط میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ قیادت کی منتقلی اگر باہمی اختلافات، دھڑے بندی، ٹوٹ پھوٹ اور تصادم کے بجائے متفقہ فیصلے اور آئینی طریقۂ کار کے تحت عمل میں آئے تو یہ تنظیم کی فکری پختگی، ادارہ جاتی استحکام اور اجتماعی شعور کا مظہر ہوتی ہے۔

دنیا کی تاریخ میں متعدد تحریکیں اور تنظیمیں قیادت کے بحرانوں کے باعث تقسیم اور انتشار کا شکار ہوئیں، جبکہ بعض نے اپنے طے شدہ آئینی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے قیادت تبدیل کرکے اپنے تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھا۔

ایسی منتقلی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ادارے شخصیات سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور کسی بھی عہدے کی حیثیت اصولوں اور اجتماعی فیصلوں کے تابع ہونی چاہیے۔

پُرامن انتقالِ قیادت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے تنظیم کے اندر اعتماد، باہمی احترام، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس فروغ پاتا ہے۔ اس کے ذریعے نئی قیادت کے لیے راستہ ہموار ہوتا ہے، سابقہ قیادت کے تجربات سے استفادہ ممکن رہتا ہے اور تنظیم شخصی انحصار کے بجائے ادارہ جاتی بنیادوں پر آگے بڑھنے کے قابل ہوتی ہے۔

تاریخی اعتبار سے ایسی تبدیلیاں اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جب کوئی تنظیم اپنے بااثر ترین رہنما کی جگہ بھی آئینی اصولوں اور اجتماعی فیصلوں کو ترجیح دے۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ تنظیم کی شناخت کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اجتماعی نظریے، دستور اور اداروں سے وابستہ ہے۔

بالآخر کسی تنظیم کی حقیقی ادارہ جاتی پختگی کا ثبوت صرف یہ نہیں کہ وہ ایک مضبوط قیادت قائم کر سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اختلافات اور انتشار کے بغیر ایک قیادت سے دوسری قیادت تک ذمہ داری منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی روایت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی بنیاد اور تنظیمی تسلسل کی مثال بن سکتی ہے۔

3 نومبر کو بلوچستان کی سب سے بڑی مسلح تنظیم، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے ترجمان جیئند بلوچ نے ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ ایک اہم بیان میں اعلان کیا کہ تنظیم کے سابق کمانڈر انچیف بشیر زیب بلوچ، تنظیم کے آئین کے مطابق سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے بعد، اب مزید تنظیم کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ نئے کمانڈر انچیف کے انتخاب تک تمام انتظامی، عسکری اور پالیسی ساز اختیارات باضابطہ طور پر بی ایل اے کے اعلیٰ ترین ادارے، سینئر کمانڈ کونسل، کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جبکہ تمام محاذوں پر عسکری کارروائیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں گی۔

بلوچ قومی تحریک پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے بلوچ لبریشن آرمی کی اعلیٰ قیادت سے لے کر ایک عام جنگجو تک فکری ہم آہنگی کی علامت قرار دیا ہے۔

بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں مسلح اور سیاسی تنظیموں کے اندر دھڑے بندیاں، اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کے واقعات اکثر اختیارات اور قیادت کی منتقلی یا اختلافِ رائے کو دبانے کے نتیجے میں رونما ہوئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی میں بھی اس سے قبل تاحیات سربراہی اور فردِ واحد کی اجارہ داری نے تنظیم کو دو لخت کیا تھا۔ تاہم، 2018 میں جنرل اسلم بلوچ نے تنظیم کو باقاعدہ آئین دے کر کمانڈ کونسل اور مختلف ادارے تشکیل دیے۔ اسلم بلوچ کی شہادت کے بعد بشیر زیب بلوچ نے بطور سربراہ بی ایل اے کو مضبوط کیا، اور آج آئین کے مطابق کمانڈ کونسل سمیت تمام اداروں نے باضابطہ طور پر سربراہی کی ذمہ داری پُرامن طریقے سے منتقل کرکے بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں ایک اہم فیصلہ کیا اور ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔

دوسری جانب ریاستِ پاکستان کی پروپیگنڈا مشینری بھی متحرک ہو چکی ہے اور ایک ناکام بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن تنظیم کے محاذوں پر جاری سرگرمیاں اس پروپیگنڈے کو ناکام بنا رہی ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کی نئی قیادت پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اختلافِ رائے کو سننے اور قوم کی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کرے۔

اسی طرح بلوچ قومی تحریک کے لیے سرگرم دیگر مسلح تنظیموں کو بھی ایسے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تاحیات سربراہی کے رجحان سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا بلوچ لبریشن آرمی کا یہ فیصلہ درست ہے؟ اس سوال کو ہم تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم، دنیا کی تاریخ میں کئی مسلح تحریکوں نے قیادت کی منتقلی کے مراحل طے کیے ہیں۔ کولمبیا کی FARC میں مینوئل مارولانڈا کی وفات کے بعد الفانسو کانو اور پھر تیموشینکو نے قیادت سنبھالی، جبکہ حزب اللہ میں حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد شوریٰ کونسل نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کیا۔ افغان طالبان میں بھی ملا عمر کے بعد ملا اختر منصور اور پھر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قیادت سنبھالی، اگرچہ اس عمل کے دوران اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے۔

یہ تاریخی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مسلح تحریکوں میں قیادت کی تبدیلی مختلف طریقوں سے عمل میں آتی رہی ہے۔

بعض تنظیموں نے اجتماعی اداروں کے ذریعے اپنے تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھا، جبکہ بعض کو جانشینی کے تنازعات اور اندرونی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔

تاریخ کا اہم سبق یہ ہے کہ کسی تنظیم کی پائیداری کا انحصار صرف اس کی قیادت پر نہیں بلکہ اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے، طے شدہ اصولوں اور اجتماعی فیصلوں پر بھی ہوتا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی 2018 سے باقاعدہ طور پر ایک کمانڈ کونسل کے زیرِ اہتمام رہی ہے اور اسی وجہ سے جنرل اسلم بلوچ کی شہادت کے بعد بھی اور آج قیادت کی منتقلی کے موقع پر بھی کوئی اختلاف یا گروہ بندی سامنے نہیں آئی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔