آئی ایس پی آر نے بی ایل اے حملے میں فوجی میجر کی ہلاکت کی تصدیق کردی

30

آئی ایس پی آر نے شادی کور میں فوجی گاڑی پر حملے کے دوران میجر وجاہت وحید کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق فورسز ضلع قلات کے علاقے جتک آباد میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد چار مسلح افراد مارے گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحے اور گولہ بارود کی بڑی تعداد بھی برآمد کی گئی۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ شروع کیا۔

بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس دوران لاہور سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ میجر وجاہت وحید کی قیادت میں پیش قدمی کرنے والی فورسز کی ٹیم کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم پاکستانی فورسز نے اس حملے میں صرف میجر وجاہت وحید کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور، کبڑ میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق، بی ایل اے کے خصوصی دستے ’اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ‘ “ایس ٹی او ایس” نے پسنی کے علاقے کبڑی میں شادی کور کے قریب قابض پاکستانی فوج کے تین گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کردیا۔

جیئند بلوچ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار قابض پاکستانی فوج کے میجر وجاہت وحید سمیت سات اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، ان کے بقول آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام اور قابض فوج کے مکمل انخلا تک تنظیم کی کارروائیاں مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔