زیارت کراس حملہ – بی ایل اے کی فتح اسکواڈ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
جمعرات کے روز بلوچستان کے علاقے ‘زیارت کراس’ کے مقام پر پاکستان فوج کے قافلے کو ایک مہلک حملے میں بھاری جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ زیارت کراس انتظامی حوالے سے پشین کا حصہ ہے جبکہ یہ واقعہ مرکزی شاہراہ پر پیش آیا۔ حکام نے اس حملے میں سولہ اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں پاکستان فوج کے اٹھارہ اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی حالت میں بھاگ گئے۔ ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا کہ بی ایل اے کا خصوصی دستہ فتح اسکواڈ اس حملے کا حصہ تھا۔
رواں سال جولائی کی سولہ تاریخ کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی پاکستان فوج کے اہلکاروں کے لیجانے والی اٹھارہ بسوں اور ان کی سیکورٹی قافلے کو ایک بڑی نوعیت کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ساٹھ سے زائد اہلکاروں کے ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھی۔ مذکورہ حملہ بھی بلوچ لبریشن آرمی کی فتح اسکواڈ کی جانب سے کیا گیا۔
بی ایل اے – فتح اسکواڈ کیا ہے؟
تنظیم کے لٹریچر کے مطابق ‘ فتح اسکواڈ، بلوچ لبریشن آرمی کا پانچواں ونگ اور “ہراول دستہ” ہے۔ اکتوبر 2018 تک فتح اسکواڈ بی ایل اے کے چوتھے ونگ “ایس ٹی او ایس” کا ہی ایک منظم حصہ تھا۔ تاہم 20 اکتوبر 2018 کو سرمچار فتح قمبرانی عرف چیئرمین کے جانبحق ہونے کے بعد، بی ایل اے نے فتح قمبرانی کی بہادری کے اعتراف میں “فتح اسکواڈ” کو انکے نام سے منسوب کرکے، ایک جدا یونٹ کی حیثیت دے دی۔’
مزید بتایا گیا ہے کہ ‘بلوچ لبریشن آرمی کی یہ “ایلیٹ ونگ” پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک، تجربہ کار سرمچاروں پر مشتمل ہے، جو ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے، دشمن کے متعدد کیمپوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب رہی ہے۔’
بی ایل اے نے 31 مئی 2021 کو بولان کے علاقے مارواڑ میں پاکستانی فوج کے غازہ بند سکاؤٹس 129 ونگ کی اویس کیمپ کو ایک شدید نوعیت کے حملے میں نشانہ بنایا، مذکورہ حملے میں پاکستان فوج کے 24 اہلکار مارے گئے اور ایک اہلکار کو جنجگوؤں نے زندہ گرفتار کرلیا۔ مذکورہ حملے میں بی ایل اے کے 3 جنگجو بھی مارے گئے، جن میں ہنگل مری عرف لیلا، آفتاب جتک عرف وشین اور شاویز زہری عرف سارنگ شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے “فتح اسکواڈ” کا اعلان کیا گیا۔
تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا کہ تینوں افراد بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے فتح اسکواڈ کے رکن تھے۔ مزید بتایا کہ فتح اسکواڈ میں تنظیم کے وہ چنیدہ نڈر سرمچار شامل ہیں، جو خداداد جنگی صلاحیتیوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ خاص تربیت بھی حاصل کرچکے ہیں کہ وہ روبرو مقابلوں میں سرمچاروں کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے صفوں کو توڑ کر اندر داخل ہوجائیں۔
حالیہ عرصے خصوصی طور پر آپریشن ہیروف دوم اور اس سے قبل ہیروف اول و جعفر ایکپسریس ٹرین ہائی جیکنگ میں بی ایل اے کا یہ دستہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
فتح اسکواڈ کے حوالے سے “ہکل” میڈیا کی جانب سے شائع کتابچے میں اسکواڈ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس کی ذمہ داریوں میں گشتی دستی کیلئے راستہ محفوظ بنانا، دشمن پر حملے یا کیمپوں پر قبضے کیلئے سب سے آگے رہنا اور پہلی گولی چلانا، دشمن کی پہلی دفاعی لائن کو توڑنا، حملے کے بعد سب سے پہلے نکل کر مرکزی لشکر کے واپسی کے راستے محفوظ بنانا شامل ہیں۔
کتابچے میں فتح اسکواڈ کے ارکان کیلئے 17 نکات پر مشتمل اصول و ضوابط درج ہے، مذکورہ نکات میں یہ نکات بھی شامل ہے کہ اسکواڈ کے رکن شمولیت کے بعد اپنے اختیار میں نہیں ہونگے، اور تمام فیصلوں میں مرکز کے پابند رہیں گے۔ بھاگنے، سرنڈر کرنے یا تنظیم چھوڑنے کی صورت میں مذکورہ کارکن مار دیا جائے گا۔ اسکوڈ کو خصوصی و ہلکے ہتھیار میہا ہونگے، اسکواڈ رابطے کے لیئے ٹیکنالوجی کا استعمال مخصوص اوقات سے باہر نہیں کرے گا۔ اسکواڈ کے سنگتوں کے شہید ہونے کی صورت میں، نام ظاہر کرنا مشن کے مطابق تنظیم کی ذمے داری ہوگی۔ اسکواڈ کے ارکان اپنا رینک کسی صورت بھی ظاہر نہیں کریں گے۔

















































