بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے خضدار میں تین بلوچ افراد کے قتل اور جبری گمشدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق خضدار کے علاقے گریشہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ سرکاری ٹیچر استاد عبدالخالق ولد ابراہیم کو 21 ستمبر 2026 کی رات مسلح افراد نے ان کے گھر میں
فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ عبدالخالق دور دراز علاقوں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے اور اپنے علاقے کے طلبہ کی تعلیم کے لیے کام کر رہے تھے۔
بی وائی سی کے مطابق واقعے کے بعد عبدالخالق کے اہل خانہ نے حملہ آوروں کا تعاقب کیا، جو فرار ہو کر علاقے میں موجود ریاستی حمایت یافتہ مسلح افراد کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ کمیٹی نے واقعے کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسرے واقعے میں بی وائی سی کے مطابق منیر احمد ولد بابو جلال الدین سکنہ خضدار ، کو 18 فروری 2026 کو واشک کے علاقے بسیمہ سے فرنٹیئر کور (ایف سی) نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ کمیٹی کے مطابق سات ماہ بعد 17 ستمبر کو منیر احمد کی لاش مشکے کراس کے قریب سے ملی۔
اسی طرح سفر خان ولد حاجی فتح محمد، سکنہ خضدار کو 3 مارچ 2026 کو بسیمہ، واشک سے ایف سی نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ تقریباً چھ ماہ بعد 17 ستمبر کو سفر خان کی لاش بھی مشکے کراس کے قریب سے برآمد ہوئی۔
بی وائی سی نے ان واقعات کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں اور ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل سے جوڑا ہے۔ کمیٹی نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بلوچستان کی صورتحال پر فوری توجہ دینے، واقعات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔


















































