رومانی فریب: آخری سانس کا سودا
تحریر : کوہ شان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کیا کبھی کوئی انسان خود سے یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ جب اس کا لختِ جگر دشمن سے دو بدو برسرِ پیکار ہو، اور جنگ کے اختتام پر اپنے لیے ‘آخری گولی’ کا فلسفہ اپنا لے، تو کیا آپ اس دردناک کیفیت کو کوئی رومانوی شکل دے سکتے ہیں؟ ذرا اس منظر کا صرف اپنے لیے تصور تو کریں، کیا آپ کی روح نہیں کانپ اٹھتی؟ کیا واقعی اس المیے کو ایک مجازی محبوب سے تشبیہ دے کر اس میں رومانیت لائی جا سکتی ہے؟ کیا واقعی آخری گولی کا فلسفہ رومانوی ہو سکتا ہے؟ اگر آپ کا جواب ‘نا’ ہے، تو اس سے مراد کہ ہر وہ شاعر، ادیب اور ناول نگار احساس سے خالی ہے تبھی تو وہ یہ سب لکھ پا رہا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ وہ شاعری، ناول اور تحریر ہرگز پڑھنے کے قابل نہیں جس میں احساس نہ ہو۔ زیر نظر ہولناک کہانی کو پڑھیں اور اس کے درد کو ذرہ برابر محسوس کرنے کی کوشش کریں کہ اُس ادیب اور شاعر کو کیا کہا جائے جو اس عمل کو رومانوی شکل دیتا ہے اور بیان کرتا ہے۔
زندگی میں کبھی کبھی الفاظ اسی موڑ پر دم توڑ دیتے ہیں جہاں المیہ اس قدر دردناک ہو کہ چند سیکنڈوں میں تمام زندگی پر نظر دوڑائی جائے اور ہر خوشی، خواہش، آرام، رنگ اور آسائش کو مٹتے ہوئے دیکھا جائے۔ وہاں جب ایک ابدی آرام کی موت کو، جسے عقل اور شعور کی نظر میں ‘امر ہونا’ کہا جاتا ہے، گلے لگا لیا جائے، تو پھر وہاں کیا تحریر اور کیا کتاب انصاف کرے۔ یہ محض کوئی جھوٹی داستان نہیں، بلکہ شاہ سوار کی طرح ہزاروں نوجوانوں کی وہ لازوال داستان ہے جس میں سچائی اور مخلصی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ یہ محض کوئی فرضی قصہ نہیں، بلکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ دل دوز ہے، جس کا یوں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔
اس داستان کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ جب شاہ سوار بطور شہری گوریلا اپنی ذمہ داری سرانجام دینے کے بعد پہاڑی محاذ کا رخ کر چکے تھے، اور ایک شہری سپاہی نے انہیں ریگستان کے شہر تک پہنچایا جہاں دائیں جانب سرمئی ریت اس نوجوان کا استقبال کر رہی تھی اور بائیں جانب سرمئی پہاڑی سلسلہ اور اس کا نیا مسکن اس کا منتظر تھا۔ نوشکی کے سنگلاخ پہاڑ اس نوجوان کا ابتدائی دیدار کر چکے تھے اور اب وہ اگلے سفر کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ اس کے لیے یہ سفر جسمانی طور پر ایک نیا تجربہ تھا، مگر ذہنی طور پر وہ تین سال قبل ہی اس راہ کا مسافر بن چکا تھا۔ چار دوستوں کے ہمراہ وہ پیدل چلتا گیا اور رات کے اندھیرے میں وہ ‘اوتاک’ پہنچ گیا جہاں باقی دوست ان کا انتظار کر رہے تھے۔
یہ اوتاک محض بارہ سرمچاروں پر مشتمل تھا اور اب نئے دوست کو ملا کر آج رات کے لیے تیرہ سرمچار بن گئے تھے، کیونکہ صبح ہوتے ہی نئے دوست کو آگے بڑھنا تھا اور تربیتی کیمپ تک پہنچنا تھا۔ سب دوستوں سے ملاقات کے بعد وہ خاموش ہو گیا اور دوستوں کی باتوں پر غور کرنے لگا، وہ ان کے ہر ہر عمل پر نظر رکھ رہا تھا تاکہ اس جنگی ماحول میں ایک بہترین سپاہی بن سکے۔”
یوں وہ ایک سفر کے مسافر بن گئے اور ذات سے جڑے ہر رشتے کو الوداع کہہ گئے۔ اس رات وہ دوستوں کی مجلس سے خوب لطف اندوز ہوئے اور کافی دیر تک گپ شپ میں مشغول رہنے کے بعد، ایک ذمہ دار دوست نے آرام کرنے کا حکم دیا جس پر سب دوست سونے چلے گئے اور وہ بھی طویل سفر کی وجہ سے تھکے ہونے کے باعث جلد ہی سو گئے۔
صبح سویرے جب شاہ سوار کی آنکھ کھلی تو انہوں نے چار ساتھیوں کو پہلے سے جاگتے پایا۔ ان میں سے ایک دوست بلند پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھ کر پہرہ دے رہا تھا اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ دو دوست اپنی بندوقوں کی صفائی میں مصروف تھے اور ایک ساتھی چائے بنانے میں مشغول تھا۔ شاہ سوار کو جب انہوں نے دیکھا تو آواز دی: سنگت آ جائیں، ہمارے پاس بیٹھ جائیں اور وہ ہاتھ منہ دھونے کے بعد جا کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور غور سے دیکھنے لگا کہ ایک سرمچار کے لیے اس کی بندوق کس حد تک معنی رکھتی ہے، تبھی تو صبح سویرے وہ اس کی صفائی اور دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہیں۔ اس دوران چائے بنانے والے دوست نے اُن سے پوچھا: ‘کیا تمہیں چائے بنانا آتی ہے؟’ تو انھوں مسکرا کر کہنے لگے: ‘یہ کام میں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتا ہوں۔’ اس جواب پر سب دوست ہنس پڑے اور اسی دوران باقی دوست بھی بیدار ہو کر انھی کی طرف آ رہے تھے۔
تمام دوست بیٹھ کر چائے پینے لگے اور چائے کے بعد ذمہ دار دوست ہر ساتھی کو اس کے کام کے متعلق آگاہ کر گیا، اور یوں چار دوست ایک مہم کے سلسلے میں نکل پڑے۔ شاہ سوار تین دوستوں کے ہمراہ تربیتی کیمپ کے لیے روانہ ہوا جہاں اسے جنگی تربیت دی جانی تھی، اور یوں چلتے چلتے وہ اس کیمپ پہنچ گیا جہاں وہ مکمل طور پر ایک جنگجو اور باصلاحیت سرمچار کا روپ دھارنے والا تھا۔ جہاں وہ بندوق کی گولی سے جڑے سیاسی پیغام سے آگاہ ہونے والا تھا، جہاں وہ یہ سیکھنے والا تھا کہ حالتِ جنگ میں جنگی اصولوں پر کیسے جیا جاتا ہے؛ جیسے کہ محبت اور چاہت کی فہرست میں سب سے پہلے وطن، پھر دوست اور آخر میں آپ کی اپنی ذات ہے، جس کے بارے میں آپ کو اس وقت تک نہیں سوچنا جب تک اس کی قیمت وطن اور دوست ہوں۔
وہ وہاں نئے دوستوں سے گھل مل گیا اور ان کے اوتاک کی زینت بن گیا، جبکہ باقی ہمراہ دوست اسے الوداع کہہ کر واپس اپنی جگہ کے لیے چل دیے۔ وہ اس اوتاک کے ذمہ دار سے آشنا ہوا اور باقی دوستوں سے گفتگو کرنے لگا تاکہ جلد از جلد اس ماحول میں اپنی جگہ بنا لے، اور وہ بہت جلد وہاں رچ بس گیا اور اس کٹھن حالت میں جینا سیکھ گیا۔
حسبِ معمول یہ دن تربیتی اوتاک میں گزر گیا اور اُنکے کے لیے یہ سفر کا ابتدائی مرحلہ تھا، اور آگے اسے ایک مضبوط سرمچار کی شکل میں بدلنا تھا۔ اگلی صبح ہوتے ہی کیمپ کمانڈر کے حکم سے انھیں زندگی کا بہترین ساتھی ہاتھ میں تھما دیا گیا، جسے عام زبان میں بندوق کہتے ہیں پر سرمچار کے لیے یہ ایک مخلص ساتھی کا کردار ادا کرتی ہے۔ سب سے پہلے اسے بندوق کے ہر حصے سے آگاہ کیا گیا، ساتھ ہی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی ہوتی گئی۔ اُسے دو ماہ اس تربیتی اوتاک میں رہنا پڑا اور تب جا کر وہ ایک جنگجو کی شکل اختیار کر گیا۔ دو ماہ کی اس پرکٹھن جسمانی اور ذہنی تربیت کے بعد اسے گشت کے لیے روانہ کیا گیا، پر اس سے پہلے انھوں نے ایک ایسا عمل سرانجام دیا کہ قلم کی نوک لکھتے لکھتے کانپ جاتی ہے اور الفاظ بکھر جاتے ہیں۔ انھوں نے میگزین سے ایک گولی نکالی اور اسے جیکٹ کی ایک جیب میں رکھ دیا۔ یہ معاملہ دیکھ کر گولی حیران ہوئی کہ اس بھیڑ سے مجھے کیوں جدا کیا گیا، پر یہ عمل اس ذہنی تیاری کی نشاندہی کر رہا تھا جو ایک سرمچار اور بزدل تنخواہ دار فوجی میں فرق کی لکیر کھینچتا ہے۔
خیر، یوں ایک گولی کا جدا ہونا خود میں ایک داستان ہے، مگر وہ دوستوں کے ہمراہ گشت کے لیے نکل گیا۔ اس گشت میں انھیں بارہ دن لگے اور یہ اس کی زندگی کا پہلا سفر تھا، جو وطن سے محبت کے اظہار اور شہیدوں کے خون سے وفاداری کا پہلا باب تھا۔ وہ ایک باصلاحیت اور ہنرمند سرمچار تھا جو جنگی تبدیلیوں کو قبول کر کے نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا جانتا تھا۔ اس سفر میں گشتی ذمہ دار نے اُن پر گہری نظر رکھی اور اس کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرتا رہا۔
یوں شاہ سوار وطن کا ایک مکمل سپاہی بن گیا اور شور پارود، نوشکی، خاران اور قلات کے کئی محاذوں پر ہمیشہ صفِ اول میں کھڑا رہا۔ وہ دشمن کے لیے قہر بنتا گیا اور اپنی قابلیت و بہادری سے اپنا لوہا منوایا، جس کی بنا پر تنظیم نے اسے ایک کیمپ کمانڈر کے عہدے پر فائز کیا۔ یہ عہدہ اسے تربیتی کیمپ سے فارغ ہونے کے محض سات ماہ بعد ملا، جس میں وہ ایک قابلِ اعتماد اور باصلاحیت دوست ثابت ہوا۔
دن گزرتے گئے اور وہ اس جنگی ماحول میں ایک اہم کردار بن گیا تھا۔ وہ ہر دوست کے لیے خوش مزاج دکھائی دیتا تھا، اگر یوں کہا جائے کہ وہ اوتاک کی زینت بن چکا تھا تو غلط نہ ہوگا۔ شاہ سوار کو جنگی محاذ پر دو سال کا عرصہ مکمل ہو چکا تھا اور ان دو سالوں میں وہ کئی محاذوں کا سامنا کر چکا تھا اور دشمن کو کئی کاری ضربیں لگا چکا تھا۔ وہ اپنی جنگی صلاحیتوں سے ہر سرمچار کو تربیت مہیا کرتا تھا اور اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دے رہا تھا۔
ایک صبح وہ نو دوستوں کے ہمراہ ایک اوتاک میں بیٹھا ہوا تھا اور ہر روز کی طرح مجلس کا ماحول گرم تھا، اور وہ اس محفل کی زینت بنا ہوا تھا کہ اچانک آسمان کی طرف سے ایک گہری آواز پہاڑوں میں گونج اٹھی۔ اس آواز کو ایک عام انسان اتنی جلدی نہیں پہچان سکتا تھا، پر شاہ سوار اپنی جنگی صلاحیتوں کی بنا پر اس آواز کو پہچان گیا کہ دشمن آسمانی راستے سے ان کے اوتاک کا گھیراؤ کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے فوراً تمام دوستوں کو ہوشیار کیا اور سب کو پوزیشن سنبھالنے کے لیے کہا۔ تمام دوست اپنی اپنی پوزیشن سنبھالنے لگے اور یوں بہت جلد ہی دشمن کافی قریب آ چکا تھا، پر اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ یہ نو سرمچار اس اصول کے پاسدار ہیں جس میں وطن سرفہرست ہے، اس کے بعد دوست اور آخر میں اپنی ذات کی اہمیت ہے۔
جیسے ہی پہلی گولی کی آواز گونج اٹھی، تو وہ دشمن کی بندوق سے نہیں نکلی تھی بلکہ شاہ سوار کی بندوق کی نوک سے دھواں بکھر رہا تھا۔ یہ وہی افتتاحی اور پیغامی گولی تھی جو دشمن کو یہ بتا رہی تھی کہ وہ اس غلط فہمی میں ہرگز نہ رہے کہ بلوچ سرمچار آپ کی نقل و حرکت سے آشنا نہیں۔ سرمچار اگر دفاعی پوزیشن میں بھی ہو، تب بھی تمہارے لیے قہر بن جاتا ہے۔ اس ایک فائر سے جنگ کا آغاز اس قدر شدت سے ہوا کہ دشمن دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہو گیا۔
اس موقع کو وہ بطور ایک ذمہ دار اپنے لیے غنیمت سمجھ کر دوستوں کو باحفاظت وہاں سے نکالنے کی تدبیر سوچنے لگا۔ اس نے دوستوں کو آواز دے کر آگاہ کیا، “دشمن دفاعی پوزیشن اختیار کر گیا ہے، اب ایک دوسرے کے لیے ڈھال بنتے رہو اور بکھر کر نکلتے رہو۔” یہ وہی پیغام تھا جس میں اس کی اپنی ذات کہیں نظر نہیں آئی، تو دوست سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ شاہ سوار نے محض ہمیں مخاطب کر کے کیوں کہا کہ “تم لوگ نکلتے رہو” اور اس جملے میں لفظ “ہم” کا استعمال کیوں نہیں کیا۔ اس بات نے دوستوں کو خون کے آنسو رُلا دیا اور ایک دوست نے کہا، “شاہ سوار! نکلنا ہے تو سب کو نکلنا ہے، کیونکہ دشمن کے سات اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور وہ دفاعی پوزیشن لے چکے ہیں، اس لیے ہم سب نکل سکتے ہیں۔
پر شاہ سوار بائیں ٹانگ پر گولی کھا چکا تھا اور چلنے کے قابل نہیں تھا، لیکن اس بات سے دوست تب تک آگاہ نہیں تھے جب تک انھوں نے خود نہیں بتایا۔ یہ سن کر ایک سرمچار کہنے لگا، “تمہیں کندھا دے کر نکالنا کوئی مشکل نہیں،” پر شاہ سوار کے لیے یہ وہی میدان تھا جہاں اسے ثابت کرنا تھا کہ وطن کے بعد دوست سب سے عزیز ہوتے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے کسی دوسرے سرمچار کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ اس لیے اس نے نکلنے والی بات کو حکم میں تبدیل کر دیا کہ “تم سب کو نکلنا ہوگا اور مجھے اب اس مورچے میں رہ کر دشمن کے لیے قہر بننا پڑے گا۔” یہ جنگ کا سب سے بدترین چہرہ تھا جو ان دوستوں نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا، پر وہ ہر حوالے سے بے بس تھے اور اس حکم کی تعمیل کے لیے انہیں وہاں سے نکلنا ہی پڑا۔
جب آٹھ وفادار ساتھی اپنے ایک انمول اور دل کے سب سے قریب دوست کو الوداع کہہ رہے تھے، تو وہ کوئی رومانوی داستان کا منظر نہیں تھا، نہ ہی وہاں دور دور تک کسی رومانیت کا سایہ تھا۔ وہ تو روح کے پگھلنے اور دل کے ٹوٹنے کا لمحہ تھا، جہاں صرف اور صرف درد کی بے انتہا گہرائی اور کرب کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔
اس قیامت خیز گھڑی کو قلم بند کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔ الفاظ اتنے بے بس اور سیاہی اتنی بے جان ہو جاتی ہے کہ وہ اس تڑپ کو کاغذ پر اتار ہی نہیں سکتی۔ کوئی بھی ذی روح اس کٹھن پل کو دوبارہ جینا تو دور، اس کا تصور کرنے سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ جو لوگ اس بھیانک جدائی کو الفاظ کا خوبصورت لبادہ اڑا کر ایک رومانوی شکل دینا چاہتے ہیں، ان کی وہ تحریریں بھی شاید اس سچے درد کے سامنے محض ایک فریب اور سراب ہیں۔
جب کسی اپنے کو کھونے کا دکھ رگ و پے میں اتر جائے، تو ہر شاعری، ہر خوبصورت لفظ اور ہر رومانوی استعارہ جھوٹا لگنے لگتا ہے۔ کیونکہ سچی محبت کا آخری سفر کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک ایسی خاموش چیخ ہوتا ہے جو کائنات کا دل دہلا دیتی ہے۔ وہاں صرف سچائی ہوتی ہے—کرب کی، آنسوؤں کی اور کبھی نہ پر ہونے والے خلا کی سچائی۔
جب دوست وہاں سے نکلنے لگے، تو شاہ اُس نے اپنے مورچے سے ان کی طرف نظر دوڑائی اور پُرمہر انداز میں ان سے بس یہی کہہ سکا، “رُخصت اف اوارُن سنگتاک” (الوداع نہیں ہیں ساتھیوں!) ۔ اس کے بعد سب دوست ایک ایک کر کے نکلنے لگے اور بیس سے پچیس منٹ کے بعد وہ اور دشمن اس میدان میں آمنے سامنے (دوبدو) ہو گئے۔ اُن دوستوں کیلئے یہ کیفیت رومانوی نہیں بلکہ جنگ کا بدترین چہرہ تھا جو زندگی میں ہرگز نہیں بھول پائیں گے۔ دشمن کو ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ ان کے سامنے ایک ایسا مرد نوجوان ہے جو ان کے لیے قیامت بن کر ٹوٹ پڑے گا۔ شاہ سوار اپنی جنگی حکمتِ عملی سے دشمن کے لیے مشکلات کا سیلاب لے آیا تھا اور دشمن کو سر اٹھانے کا موقع تک نہیں دے رہا تھا۔
درحقیقت وہ بطور ایک سرمچار وہیں کامیاب ہو گیا تھا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کو باحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوا اور دشمن شکست سے دوچار ہوا۔ اب بس دشمن کو مزید جانی نقصان دے کر وہ وطن کا قرض چکا رہا تھا۔
یہ جنگ دشمن کے لیے ایک ایسی للکار ثابت ہوئی کہ دشمن کے ہاتھ سوائے ذلت، رسوائی، جانی اور مالی نقصان کے کچھ نہ آیا۔ شاہ سوار یزیدی فوج سے اکیلا لڑتا رہا اور آخری دم تک لڑتا رہا۔ جب بندوق کی آخری گولی نے الوداع کہا تو ان کے چہرے پر تبسم برقرار تھا۔ بندوق کی نوک سے نکلتا ہوا دھواں ایک کہانی کو فضا میں نیا روپ دے رہا تھا، یہی دھواں پہاڑوں میں بکھر کر اُنکو کو وطن کی وادیوں میں ایک نیا وجود بخش رہا تھا۔
زندگی کے اس خوبصورت سفر نے وہیں آکر ایک نیا موڑ اختیار کیا جب شاہ سوار نے جیب سے وہی گولی نکالی جو دو سال پہلے الگ رکھی ہوئی تھی، تو وہ گولی خوشی سے جھوم اٹھی کہ “اب میں دشمن کے لیے قہر بننے جا رہی ہوں”۔ پر وہ محض خوش فہمی کا شکار تھی کیونکہ دو سال قبل اس کا یوں تمام گولیوں سے الگ ہونا واضح پیغام تھا کہ بندوق کی نوک سے نکلتی ہوئی ہر گولی دشمن کا انتخاب کرے گی، پر تم محض اس وقت استعمال میں لائی جاؤ گی جب موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہو، دستبرداری سے امر ہونا بہتر ہو اور مقصد، موت سے انمول ہو۔
سگریٹ جلا کر وہ چند پل کے لیے خاموش ہو گئے اور سگریٹ ختم ہونے تک وہ کئی کئی خیالوں اور یادوں کا سفر طے کر چکے تھے۔ ماں کی گود سے لے کر آخری گولی کے فلسفے تک، زندگی کی ہر خوشی اور غم کو الوداع کہہ رہے تھے۔ سگریٹ کا آخری کش لے کر وہ چوٹی کی جانب دیکھنے لگے اور گمنامی میں مخاطب ہوئے: ”اے بلوچستان کی چوٹی، شہیدوں کی سرزمین اور عاشقوں کا مسکن! تجھے قسم ہے تیری بلندی کی کہ جب وطن کی فضائیں آزاد ہوں تو تم گواہی دینا کہ ہزاروں شہیدوں کی طرح میں نے بھی تمہاری آبرو کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ آگاہ کرنا اگلی نسل کو کہ ہم نے محض ان کے روشن مستقبل کی خاطر اپنا آج قربان کیا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ آخری گولی کو غور سے دیکھنے لگے اور اس یاد میں گم ہو گئے جب انہیں اس گولی کی ضرورت زندگی میں پہلے کہیں پڑی تھی پر وہاں دستیاب نہیں تھی۔
پہاڑی محاذ پر پہنچنے سے پہلے دشمن کے عقوبت خانے میں وہ ایک سال زندگی گزار چکے تھے اور اس گولی کی اہمیت شاہ سوار وہیں جان چکا تھا کہ ذلت اور درد سے وطن کے لیے مرنا اور امر ہونا ایک بہترین ساتھی ہے۔ جب زندان میں جسمانی ریمانڈ چل رہا تھا تو شاہ سوار کے لیے سب سے بڑی آرزو یہی تھی کہ ایک گولی ہو جو میں اپنے سر میں پیوست کروں اور دشمن کو شکست دوں، پر وہاں اس گولی کا فلسفہ نہیں تھا اس لیے وہ اس اذیت کو ایک سال تک برداشت کرتا گیا۔
اب وہ وقت آ گیا تھا کہ ایک عظیم فلسفے پر عمل درآمد ہو کر شاہ سوار امر ہونے جا رہا تھا، پر یہ منظر دیکھ کر گولی چیخ چیخ کر رونے لگی کہ “میرے ساتھ یہ ظلم مت کرو کہ میں تمہارے سر میں پیوست ہو جاؤں اور ان سرمچاروں سے ان کا ساتھی چھین لوں”۔ پر شاہ سوار نے اس گولی کی ایک آہ تک نہ سنی اور بندوق چلاتے ہی شاہ سوار کی روح بلوچستان کی فضا میں اڑنے لگی اور وہ آخری گولی سر سے پار ہو کر بلند پہاڑی چوٹی سے ٹکرا گئی اور وہیں پر سرد ہو کر رک گئی۔ وہ ایک عظیم گولی کی حیثیت سے بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں میں شاہ سوار کے ساتھ امر ہو گئی۔
دشمن نے جب یہ عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا تو شرم کے مارے نظریں نیچی جھکائے ہوئے، مایوسی اور شکست لے کر واپس چلا گیا اور شاہ سوار کو وہیں پر رہنے دیا جہاں اس نے مادرِ وطن کے لیے آخری گولی کا فلسفہ اپنایا تھا۔ اسی دن سورج غروب ہونے کے بعد باقی سرمچار اسی مقام پر پہنچ گئے جہاں جنگ کا آغاز اور اختتام شاہ سوار نے کیا تھا؛ جیسے ہی دوستوں کی سرسراہٹ کو اس آخری گولی نے سنا تو خود کو مجرم تصور کر کے چیخنے لگی کہ “شاہ سوار کی قاتل میں ہوں اور مجھے اس جرم کی سزا سے گزارا جائے” پر کسی سرمچار نے اس گولی کی آواز تک نہ سنی، بلکہ سب نے شاہ سوار کو بوسہ دے کر مادرِ وطن کے سپرد کر دیا۔
یوں شاہ سوار کی زندگی کا آخری مرحلہ اس قدر بھیانک تھا کہ ہر ذی روح کانپ جائے، پر لاجواب ہیں وہ لوگ جو اسے رومانوی شکل دے کر آخری گولی کو محبوب سے تشبیہ دیتے ہیں؛ یہ مجازی عشق کا کھیل نہیں بلکہ حقیقی عشق میں غرق لوگ ہی ایسا عمل سر انجام دے پاتے ہیں۔ اس لیے اس عمل کو اپنے مجازی عشق کے لیے استعارہ بنانا اور اسے یوں بے حسی کے ساتھ رومانوی شکل دینا یقیناً لا علمی اور بے وقوفی ہے۔ ایک عظیم مقصد کا سپاہی جب آخری گولی کے فلسفے پر سوچتا ہے تو کانپ جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی زندگی کا حصہ بن چکا ہوتا ہے؛ مگر کچھ بدکردار اور بے حس شاعر، ناول نگار، ادیب اور فریبی سیاسی چہرے اس عمل کا اپنی ناپاک محبت سے موازنہ کرتے ہیں اور اس عظیم عمل کو رومانوی شکل دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ اس عمل کے درد کی گہرائی اور شعور تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ یہ بس خود کو ظاہری طور پر شعور یافتہ اور ادبی قرار دے کر چند لوگوں کا رجحان اپنی طرف کرنا پسند کرتے ہیں، جو کہ ایک باعمل اور باکردار بلوچ سرمچار کے لیے ہرگز برداشت کے قابل نہیں؛ کیونکہ جس طرح شاہ سوار کے دوست اس وقت درد اور رنج سے گزر رہے تھے وہ بیان کرنے کے قابل نہیں، اور جب یہی سرمچار اس طرح کے بے حس اور مردہ ضمیر شاعروں اور ادیبوں کو دیکھتے ہیں تو ان سے ہرگز برداشت نہیں ہوتا کہ اس عظیم عمل کو یوں رومانوی شکل دی جائے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































