اے خدا، لعل خان ہی کیوں؟ – شولان بلوچ

1

اے خدا، لعل خان ہی کیوں؟

تحریر: شولان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج صبح جب میری نیند کھلی تو ہر روز کی طرح سب سے پہلے اپنا موبائل اٹھایا اور نیوز دیکھنا شروع کی۔ دیکھتے دیکھتے ایک ایسی تصویر میرے سامنے آئی جسے دیکھنے کے بعد میں تھوڑا حیران ہوا، کیونکہ تصویر میں نظر آنے والا شخص مجھے جان پہچان کا لگ رہا تھا، لیکن مجھے خیال نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون ہے۔

جب میں نے تھوڑا غور سے دیکھا تو مجھے گمان ہوا کہ شاید یہ لعل خان ہے، لیکن میں کنفرم نہیں تھا۔ میں اپنے دل کو تسلی دیتا رہا کہ یہ لعل خان کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جس لعل خان کو میں نے دیکھا تھا، وہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ جو بغیر استری کیے ہوئے کپڑوں میں باہر بھی نہیں نکلتا تھا، جو ہر ہفتے اپنی داڑھی بناتا تھا، جس کا چہرہ سفید اور رونق سے بھرا ہوا تھا۔

لیکن اس تصویر میں جو سرمچار نظر آ رہا تھا، شکل و صورت سے تو لعل خان ہی لگ رہا تھا، مگر اس کے اتنے بڑے بال، داڑھی اور مونچھیں دیکھ کر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ واقعی ہمارا لعل خان ہے۔

اسی وقت میں نے اپنے جان پہچان کے سب دوستوں کو ایک پیغام بھیجا کہ کیا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر لعل خان کی ہے، جس کا تنظیمی نام دُرک بتایا جا رہا ہے؟

کچھ لمحے گزرنے کے بعد مجھے ایک دوست کا پیغام موصول ہوا:

“جی ہاں، آپ نے صحیح پہچانا۔ یہ جنگی بہادر، جو واشک میں پنجابی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوا، ہمارا لعل خان ہی ہے۔”

یہ پیغام پڑھنے کے بعد جیسے میرے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ مسلسل آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، کیونکہ اس لمحے آپ کی تمام یادیں، آپ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات، آپ کی ہنسی مذاق، آپ کی دی ہوئی محبت اور شفقت ایک ایک کرکے میرے ذہن میں گھومنے لگیں۔

اور اسی وقت میرے دل سے صرف ایک سوال نکلا:

اے خدا، لعل خان ہی کیوں؟

کیا پہلے ہمارے درد کم تھے کہ آپ نے ہم سے ایک اور لعل چھین لیا؟

ابھی تو ہم چیئرمین شاہ کرم، عدنان فقیر اور لعل بخش رسول کی جدائی کے درد سے نہیں ابھرے تھے کہ آپ نے ہمیں ایک اور درد سے نواز دیا، ایسا درد جس کا نہ کوئی علاج ہے اور نہ کوئی ایسی گولی جو اسے کم کر سکے۔

جب تک میں زندہ رہوں گا، آپ شہیدوں کی یادیں، زمین سے محبت، جنگ اور مزاحمت کے یہ درد اپنے ساتھ لیے پھروں گا، کیونکہ یہی وہ چار چیزیں ہیں جنہیں میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شدت سے چاہا ہے۔

جب تک زندہ رہوں گا، شہید دُرک اور اپنے تمام شہیدوں کی یاد میں لکھتا رہوں گا۔ زمین کی محبت میں جنگ اور مزاحمت کے ان راستوں پر چلتا رہوں گا، کیونکہ یہ وہ نعمتیں ہیں جو شہید لعل خان نے مجھے دیں۔

لعل خان اکثر مجھ سے بحث و مباحثہ کرتا تھا اور ہمیشہ مجھے یہ سمجھاتا تھا کہ ایک مظلوم قوم کے نوجوانوں کے کندھوں پر کتنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح نبھانا چاہیے۔

اپنی انہی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے ڈاکٹر لعل خان نے اپنی ذاتی زندگی ترک کی، پہاڑوں کا رخ کیا اور اپنی آخری سانس تک اپنے نظریے اور اپنی قوم کے لیے کھڑا رہا۔ اور آج وہ اپنی جان قربان کرکے ان لوگوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے جن کی یادیں کبھی مٹ نہیں سکتیں۔

لعل خان، تم صرف ایک یاد نہیں ہو۔
تم ایک سوال ہو، ایک درد ہو، ایک سبق ہو۔

تمہاری یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔