شہید وقار (عرف چاکر جوش) کا دیا ہوا سبق – شاری بلوچ

114

شہید وقار (عرف چاکر جوش) کا دیا ہوا سبق

تحریر: شاری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر خون کے رشتوں سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ وقار میرے لیے ایسا ہی رشتہ تھا۔ وہ صرف میرا دوست نہیں تھا، وہ میرے لیے بھائی کی مانند تھا؛ ایک ایسا بھائی جس پر میں مشکل وقت میں بھروسہ کر سکتی تھی، جس کا وجود میرے لیے ایک مضبوط کندھے کی طرح تھا۔ وقار کی سب سے نمایاں پہچان اس کی اپنی سرزمین سے بے حد محبت تھی۔ وہ اپنی مٹی سے صرف محبت نہیں کرتا تھا، بلکہ اس محبت کو اپنے کردار میں جیتا تھا۔ اپنی زمین کے ساتھ اس کی وفاداری کسی وقتی جذبے کا نام نہیں تھی؛ یہ اس کے وجود کا حصہ تھی۔

جب بھی مشکل وقت آیا، وقار نے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو اپنی فطرت نہیں بننے دیا۔ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوئے، راستے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوئے، اس کے قدم اپنے یقین سے کبھی نہیں ڈگمگائے۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی سرزمین سے مخلص ہونا صرف الفاظ بولنے کا نام نہیں، بلکہ مشکل وقت میں اپنے یقین کے ساتھ کھڑے رہنے کا نام ہے۔ وقار کی شہادت سے صرف ایک دن پہلے میری اس سے بات ہوئی تھی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری آخری گفتگو ہے، کہ اس کے بعد اس کی آواز صرف میری یادوں میں رہ جائے گی۔

وہ مجھے صبر کرنے کا کہہ رہا تھا، خود کو مضبوط رکھنے کا کہہ رہا تھا۔ شاید اسے اندازہ تھا کہ آنے والے وقت میں مجھے کس قدر مضبوط رہنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے الفاظ آج بھی میرے دل میں اسی طرح محفوظ ہیں۔

وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ صبر کرنا، خود کو مضبوط رکھنا مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے بعد صبر کرنا میرے لیے کتنا مشکل ہو جائے گا۔ آج جب میں اس کی وہ باتیں یاد کرتی ہوں تو دل یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے کہ جس وقار نے مجھے مضبوط رہنے کا حوصلہ دیا، وہ خود ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہونے والا تھا۔

کاش مجھے معلوم ہوتا کہ یہ ہماری آخری گفتگو ہے۔ کاش میں اس کے ہر لفظ کو آخری امانت سمجھ کر اپنے دل میں اتار لیتی۔
کاش میں اسے بتا پاتی کہ اس کی دوستی میرے لیے کتنی قیمتی تھی، کہ وہ میرے لیے صرف دوست نہیں بلکہ میرے بھائی کی طرح تھا جب بھی تمہیں کہتی تھی (قربان اللّٰہ سلامت تخے نے) تو جواب میں ہم کہتے تھے (کل قوم ئتو اوار ) وطن سے اور وطن کےلوگوں سے تمہاری محبت تمہاری ہربات میں نمایاں تھی۔

تمہاری طرح ثابت قدم، تمہاری طرح مخلص، تمہاری طرح اپنی مٹی سے وفادار، اور تمہاری طرح مشکل وقت میں بھی حوصلہ نہ ہارنے والی۔

تم میرے لیے صرف ایک گزر جانے والی یاد نہیں ہو۔ تم میرے لیے ایک مثال ہو—ایک ایسا کردار جسے میں اپنے اندر زندہ رکھنا چاہتی ہوں۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں، شاید تمہاری آخری گفتگو کا مقصد ہی یہی تھا کہ تم مجھے اپنے بعد کے سفر کے لیے تیار کر رہے تھے۔ تم نے کہا تھا مضبوط رہنا، اور آج میں سمجھتی ہوں کہ مضبوطی کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھوں میں آنسو نہ ہوں؛ مضبوطی یہ ہے کہ آنکھوں میں آنسو ہوں، دل میں درد ہو، مگر انسان اپنے یقین اور اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹے۔

وقار، تم چلے گئے، مگر تمہاری آخری نصیحت میرے پاس رہ گئی۔ تمہاری آواز خاموش ہو گئی، مگر تمہارے الفاظ آج بھی میرے اندر بولتے ہیں۔ اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں صرف یاد نہیں کروں گی، تمہارے کردار سے سیکھوں گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔