افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے سوشل میڈیا سائیٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ گذشتہ رات پاکستانی فوج کی جانب سے کنٹر اور پکتیکا کے شہری علاقوں پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ’ایک خاتون اور دو مرد ہلاک‘ جبکہ دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔
ذبیح اللہ مجاد کا کہنا تھا کہ ’ہم اس جارحیت اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اسے گذشتہ جرائم کے تسلسل کا حصہ سمجھتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ملک کے اندر سکیورٹی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
سوموار کے روز اپنی ایکس پر پوسٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ کنٹر اور پکتیکا پر حملہ ’صبح تین بجے‘ کیا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’صوبہ کنڑ کے ضلع نورگل اور صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں شہریوں کے گھروں اور عوامی املاک پر بمباری کی گئی۔
حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ بمباری کے نتیجے میں ضلع نورگل کے پٹھان گاؤں میں نور احمد نامی ایک دیہاتی کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے نور احمد سمیت خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
حمد اللہ فطرت کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان کے مطابق ’صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں رخہ اور تور کنڈی کے علاقوں میں دو مقامات پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک دکان اور ایک غیر آباد مکان تباہ ہو گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اپنی ایکس پوسٹ میں حمد اللہ فطرت نے چند تصاویر بھی شامل کی ہیں جن کے بارے میں اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے کے بعد متاثرہ مقامات سے لی گئی ہیں۔


















































