افغان حکومت کا کہنا ہے کہ جمعرات کو افغانستان پر پاکستانی فضائی حملوں میں تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد 22 “دہشت گرد” ہلاک ہوئے۔ یہ پیش رفت تین ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے دوران ہوئی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ‘ایکس’ پر بتایا کہ افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں ہونے والے ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اور مزید 11 افراد زخمی بھی ہوئے۔
انہوں نے کہا، “ہم اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی جرم ہے۔”
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے “مصدقہ انٹیلی جنس” معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور ان میں دو مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت نے ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا، “اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق بائیس دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔”

















































