کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج 17 سال اور 6 ماہ سے زائد عرصے سے جاری

0

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ 6398ویں روز بھی جاری رہا۔

کیمپ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا یہ طویل احتجاج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گزشتہ 17 سال سے جاری ہے۔ کیمپ کے پہلے سربراہ ماما قدیر بلوچ تھے، جو 20 دسمبر 2025 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے بعد تنظیم کے سربراہ نصراللہ بلوچ کی قیادت میں یہ احتجاج جاری ہے۔

ماما قدیر بلوچ کی سربراہی میں یہ احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے علاوہ کراچی پریس کلب کے سامنے بھی لگایا جاتا رہا۔ انہوں نے جبری گمشدہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف ایک طویل لانگ مارچ بھی کیا، جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین بھی شریک تھے۔

اس لانگ مارچ کا آغاز اکتوبر 2013 میں کوئٹہ سے کیا گیا تھا۔ مارچ کے شرکا پہلے پیدل کراچی پہنچے۔ کراچی میں چند روز قیام کے بعد انہوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا۔ کوئٹہ سے کراچی ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچنے میں انہیں تقریباً چار ماہ لگے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کو بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔