تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا تھا
تحریر: سازین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
شیرا جان!
ابھی تو تمہارے جانے میں بہت وقت ہیں، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں اپنی سرزمین سے بہت محبت ہے، لیکن تم تھوڑا صبر تو کرو۔
میری بات ختم ہونے سے پہلے ہی شیرا بول پڑا:
”اگر تمہیں حقیقت کا پتہ ہوتا تو تم اس طرح کی بات نہ کرتے۔ دشمن پر کوئی بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ کیا پتہ، اس بار لاپتہ کرنے کے بعد وہ لوگ میری لاش ہی پھینک دیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ میں اپنی سرزمین کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں۔ لیکن تم فکر مت کرو، فی الحال میں یہیں ہوں۔ ایسے ہی نہیں چلا جاؤں گا۔“
میں نے مسکرا کر کہا:
”پتہ نہیں، تمہاری باتوں سے تو ایسا نہیں لگ رہا!“
یہ اُس وقت کی بات ہے جب شیرباز شال میں تھا۔
شیرا میرے لیے محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک فکر ہے۔ ایک ایسی فکر جو اپنی جوانی میں ہی اپنی سرزمین کے دفاع کی خاطر اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ جوانی کے دنوں میں نوجوان اپنے لیے کتنے خواب سجاتے ہیں، زندگی کے کتنے منصوبے بناتے ہیں، مگر شیرا کو ان چیزوں کی فکر ہی نہیں تھی۔
وہ بہت خاموش مزاج تھا۔ نہ کسی سے زیادہ واسطہ رکھتا، نہ کسی کے معاملات میں دخل دیتا۔ بس اُس کی اپنی ایک دنیا تھی۔ روز کام پر جانا اور واپس گھر آنا۔ کبھی وقت ملتا تو دوستوں کے ساتھ کہیں بیٹھ جاتا۔ یہی اُس کی سادہ سی زندگی تھی۔
شیرا ابھی اتنا بڑا بھی نہیں ہوا تھا۔ اُس نے ابھی زندگی کو پوری طرح دیکھا ہی کہاں تھا۔ اُس کی ملازمت اور روزگار کے دن بھی ابھی شروع ہی ہوئے تھے۔ ابھی تو جوانی کے وہ خوبصورت دن تھے جن میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا جا سکتا تھا، ہنسا جا سکتا تھا، زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں سے خوشیاں سمیٹی جا سکتی تھیں۔
مگر پھر وہی بات کہ ”امیر بلوچستان کے غریب بچے!“
غربت وہ مجبوری تھی جس نے تمہیں تمہاری جوانی کے حسین دنوں سے دور کر دیا تھا۔ تم اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارا تھے۔ وہ ماں باپ جو تمہیں اس حال میں دیکھنے کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
وہ ماں جو اپنے منہ کا نوالہ تک شیرباز کو کھلا دیتی تھی، کیا وہ اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ سکتی تھی؟ یقیناً نہیں!
میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ ان بلوچ ماؤں کے جذبے کو کیسے سمجھا جائے؟ آخر وہ کیا سوچ کر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بلوچستان پر قربان کرنے کے لیے دل مضبوط کرتی ہیں؟ اُن کی آنکھوں سے آنسو بھی نکلتے ہیں، اُن کے دل بھی تڑپتے ہیں، مگر اُن کے حوصلے کے سامنے غم بھی جیسے خاموش ہو جاتا ہے۔
اُن کا جذبہ چلتن کی طرح مضبوط کیسے ہو جاتا ہے؟
ایک ماں جو اپنے بچے کے جسم پر ایک معمولی سا زخم بھی برداشت نہیں کر سکتی، وہی ماں جب اپنے بچے کو وطن کی خاطر قربان ہوتے دیکھتی ہے تو اپنے دل کو کیسے سنبھالتی ہے؟ آخر یہ چلتن جیسا مضبوط دل وہ کہاں سے لاتی ہے؟
میں شیرا کی دلیری کا اندازہ اس بات سے لگا سکتا ہوں کہ وہ اپنے ماں باپ کا سہارا تھا۔ وہ ایسا بیٹا تھا جس کی ایک آواز پر پورا گھر متوجہ ہو جاتا۔ وہ ناز و نعمت میں پلا بڑھا تھا، لیکن زندگی کی آسائشیں بھی اُسے اپنے راستے سے ہٹا نہ سکیں۔ اپنوں کی محبت، گھر کی راحت اور زندگی کی خواہشیں اُسے اپنی سرزمین کے لیے قربانی دینے سے روک نہ سکیں۔
پتہ ہی نہیں چلا کہ شیرباز سے گزین تک کا یہ سفر اُس نے کب طے کر لیا۔
وہ شیرباز جو کبھی کسی سے کھل کر بات تک نہیں کرتا تھا، اچانک اُس کے اندر سوال کرنے کی یہ جستجو کہاں سے پیدا ہو گئی؟ وطن سے محبت تو اُسے پہلے ہی سے تھی، مگر یہ محبت کب اُسے جدوجہد کے اُس راستے پر لے گئی، میں سمجھ نہیں سکا۔
شروع شروع میں جب وہ سوال کرتا تو مجھے لگتا کہ شاید وہ جذباتی ہو رہا ہے۔ میں اُس کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کرتا تھا۔ لیکن جب اُس نے دشمن کے زندان کو دیکھا، جب اُس نے اپنی آنکھوں سے وہ حقیقتیں دیکھیں جنہیں شاید پہلے صرف سنا کرتا تھا، تو اُس کے سوال کرنے کا انداز بدل گیا۔
آج بھی میں یہی سوچتا ہوں کہ شاید وہی وقت تھا جب اُس کے اندر گزین جنم لے رہا تھا۔ اُس کے اندر کچھ بدل رہا تھا، کوئی نئی سوچ جنم لے رہی تھی، کوئی نیا راستہ اُس کے سامنے کھل رہا تھا۔
مگر جب تک مجھے یہ سب سمجھ آیا، تب تک وہ میرے ساتھ نہیں تھا۔
اور وہی سوال، جنہیں کبھی میں اُس کی جذباتیت سمجھ کر نظرانداز کر دیتا تھا، اُسے ایک ایسی منزل تک لے گئے جہاں سے اُس کی واپسی ممکن نہ رہی۔
جب بھی شیرا کو چلتن جانے کا کہتے تو وہ خوشی سے کھل اٹھتا۔ اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی روشنی آ جاتی۔ وہ کہتا:
”جب میں چلتن جاتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح چلتن کی بلندیوں پر رقص کر رہی ہو۔ وہ میرے قابو میں نہیں رہتی۔ دل چاہتا ہے کہ اُس بلندی پر بیٹھ کر پورے شال کو دیکھتا رہوں۔ بس دیکھتا ہی جاؤں، جیسے یہ خوبصورتی کبھی ختم ہی نہ ہو۔“
اُس وقت میں اُس کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی باتیں میری یادوں کا حصہ بن جائیں گی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ایک دن اُس کی آواز سننے کے لیے مجھے ماضی کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں گے۔
ایک دن وہ باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ شیرا کی آواز رک گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ میں نے اُس کی طرف دیکھا اور پوچھا:
”کیا ہوا شیرا؟ تم خاموش کیوں ہو گئے؟“
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے کہا:
”جب میں شال سے چلا جاؤں گا تو کیا تم مجھے یاد کرو گے؟ تم بھی، اور شال بھی، میرے دوست!“
اُس لمحے میرے پاس اُس کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے شاید اُس کی بات کو معمول کی گفتگو سمجھا، یا شاید میرے پاس اُس کے سوال کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے الفاظ ہی نہیں تھے۔
مگر ہاں، شیرا!
آج میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں۔
آج بھی مجھے یقین نہیں آتا کہ تم اب ہمارے درمیان نہیں ہو۔ وہ سرزمین جس سے تمہیں اتنی محبت تھی، آج تم اُسی کی مٹی میں دفن ہو۔ جس زمین سے تم نے محبت کی، جس کے لیے تم نے خواب دیکھے، آخرکار اُسی زمین نے تمہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔
تمہاری زندگی کا وہ خواب کہ اپنی سرزمین پر قربان ہو کر اُسی کی مٹی میں دفن ہو جاؤں، پورا ہو گیا۔ تم نے اپنی جان دے کر اُس سرزمین کے ساتھ اپنی محبت کا آخری عہد بھی نبھا دیا۔
شیرا، تمہارے بارے میں یہ حقیقت قبول کرنا میرے لیے آج بھی مشکل ہے کہ تم ہمارے ساتھ نہیں ہو۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ تم اچانک سامنے آ جاؤ، اپنی اُسی خاموش مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور ہم پھر سے وہیں سے بات شروع کریں جہاں ہماری گفتگو ادھوری رہ گئی تھی۔
مگر زندگی ہر ادھوری گفتگو کو مکمل ہونے کا موقع نہیں دیتی۔
تم چلے گئے، لیکن تمہاری فکر، تمہاری یاریاں، تمہاری باتیں اور تمہارے ساتھ گزارے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے لمحے آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ تمہاری یادیں کبھی کسی پرانی بات کی صورت میں لوٹ آتی ہیں، کبھی چلتن کی بلندیوں کو دیکھ کر دل میں اترتی ہیں، اور کبھی شال کی گلیوں میں چلتے ہوئے اچانک مجھے روک لیتی ہیں۔
شاید یہی یادیں ہیں جو کسی اپنے کے بچھڑ جانے کے بعد انسان کو زندہ رہنے میں تھوڑی سی آسانی دیتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ شخص واپس نہیں آئے گا، مگر اُس کی یاد ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ وہ ہماری زندگی کا حصہ تھا، ہماری باتوں میں شامل تھا، ہمارے خوابوں کے آس پاس کہیں موجود تھا۔
شیرا جان!
تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا تھا۔
ابھی تو تمہارے ساتھ بہت سی باتیں باقی تھیں۔ ابھی تو تمہیں چلتن کی بلندیوں پر بیٹھ کر شال کو دیکھنا تھا۔ ابھی تو تمہیں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنا تھا۔ ابھی تو تمہارے ماں باپ نے تمہارے سہارے بہت سی زندگیاں گزارنی تھیں۔
تمہارے جانے کے بعد بہت کچھ ویسا ہی ہے، مگر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔
شال آج بھی وہیں ہے۔ چلتن آج بھی اپنی جگہ کھڑا ہے۔ ہوا آج بھی اُن راستوں سے گزرتی ہے جہاں کبھی تم چلا کرتے تھے۔ مگر اب جب بھی اُن پہاڑوں کو دیکھتا ہوں تو ایک خیال دل میں اتر آتا ہے کہ کہیں اُن بلندیوں کے درمیان تمہاری ہنسی کی کوئی بازگشت اب بھی باقی تو نہیں؟
شاید تم واقعی کہیں نہیں گئے۔ تم اُن یادوں میں موجود ہو جنہیں وقت مٹا نہیں سکتا، اُن سوالوں میں زندہ ہو جنہیں تم نے ہمارے اندر جگایا، اور اُن ادھوری باتوں میں سانس لیتے ہو جن کا جواب ہم آج بھی تلاش کر رہے ہیں۔
لیکن دوست، ایک بات ہمیشہ دل میں رہے گی:
تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا تھا، شیرا جان!
ہنینا پھل نی گچینا، شیرا
گلاب گواڑِخ کُبین آ، شیرا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































