ابرم کا انمول ستارہ
تحریر: سرمست بزدار
دی بلوچستان پوسٹ
سردیوں کی راتیں تھی آسمان سے بادلوں کی آوازیں آ رہی تھی، ہوا درختوں کو ناز رہا تھا، زمین ایسے خوش تھا کہ انمول نے اپنا پوری زندگی مجھے دے دی اور انمول کو بھی یہ بات معلوم ہوا تھا کہ میں کچھ دن بعد اسی زمین میں دفن کر جاؤں گا لیکن میں بس سنتا جا رہا تھا کچھ دیر بعد چاکر نے آواز دی کھانا تیار ہے آ جاؤ کھانا کھاتے ہیں پھر سونے چلتے ہیں، میں اور انمول نے کہا چلو کھانا کھاتے ہیں سار۔
ہم دونوں اٹھے اور کھانا کھانے بعد واپس سونے کی جگہ پہ چلے گئے انمول میرا ٹریننگ ماسٹر تھا اور میں ایک گوریلا فوج کا حصہ تھا اور جب میں ستمبر کی راتوں میں بولان کے کیمپ پہنچ گیا تو انمول نے مجھے ٹریننگ دیا تو نے مجھ سے کہا سار جان میں نے کہا جی پھل۔
پھر اس نے بولا اب میں آپ کا ٹریننگ ماسٹر نہیں رہا آپ میرے ساتھ مذاق کر سکتے ہو ویسے بھی پتہ نہیں آپریشن ہیروف کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور کس کس کو زمین لے جائے میں نے بولا ہاں پھر ایک سوال کر سکتا ہوں بولا ہاں ایک نہیں ہزار پوچھو۔
تو میں نے کہا آپ اپنی زندگی کی وہ دور کا قصہ کریں جب آپ اسٹوڈنٹس لائف سے نکل سرمچار بننے کی کوشش کر رہے تھے تو انمول ہنس کر بولا ہاں پھل کیوں نہیں ویسے آپ نے بہت سخت سوال کیا پھر چاکر سے کہا چاکر مجھے اجازت ہے تو میں شروع کروں چاکر نے کہا ہاں جان کیوں نہیں۔
انمول کچھ دیر تک کسی سوچ میں گم ہو گیا تھا اور اچانک کہا جب میں کراچی میں پڑھ رہا تو اور انجینئرنگ کچھ ماہ بعد ختم ہو رہا تھا اور میں اسی کوشش میں تھا کہ پڑھائی مکمل ہوتے ہی مجھے ایک سرمچار بننا ہے اور ایک دن جب میں کالج سے گھر جا رہا تھا تو راستے میں ایک رکشہ والا ابرم سے لڑ رہا تھا میں اس کے پاس گیا اور کہا کیا مسئلہ ہے تو ابرم بولا یہ جو پنجاب والے ہیں یہ ایسے بدتمیز لوگ ہیں انہوں ہمارے زمین پر بھی قبضہ کیا اور ہمارے ماؤں بہنوں کو ذلیل کرتے ہیں اور پھر ہم سے لڑتے بھی ہیں میں نے بس چھوڑو ہمارا بھی وقت آئے گا اور آ جاؤ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں میں اور چاکر سنتے جا رہے رہے۔
پھر بولا میں نے سوار کرکے اس کے گھر چھوڑ آیا اور میں واپس اپنے گھر کی طرف کی چلا گیا راستے میں ابرم نے بہت کچھ کہا اسے پاکستان کی قبضہ گیر کے بارے میں بہت کچھ بتایا اور بولا جب میں پڑھائی مکمل کروں گا تو ایک سرمچار بنوں گا اور اپنی ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا انمول بولا میں نے کچھ نہیں کہا اور آپ لوگوں کی طرح سنتا جا رہا تھا اور پھر ابرم ہر دن کالج میں مجھ سے ملتا تھا اور کینٹین میں چائے پیتے تھے اور گپ شپ کرتے تھے اور ہم آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے اور میں اس کے گھر جاتا رہا اور ایک دن جب اس نے کہا مجھے گھر چھوڑ دو میں نے کہا ہاں کیوں نہیں جب کالج سے چھٹی ہونے کے بعد میں اور ابرم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اس کے گھر کی طرف نکلے ابرم کا گھر گڈانی سے تھوڑا آگے اس کا گھر تھا جب ہم گڈانی پہنچے تو ابرم بولا دیکھو انمول ہمارا گلزمین کتنا خوبصورت ہے یہ سمندر جو خدا نے بلوچوں کو دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زیبائی اور وسائلیں دی ہیں لیکن اس پنجاب نے ہمیں غلام بنایا ہے لیکن میں غلامی کو نہیں مانوں گی میں ان سرمچاروں کے ساتھ پہاڑوں پر رہوں گا جو ہماری سرزمین کے آجوئی کے لیے اس قبضہ گیر کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں تو گپ شپ کرتے ہم گھر پہنچ گئے اور چائے پیا ابرم نے انمول کی بہت خدمت کی۔
انمول بولا میری پڑھائی بھی اب ختم ہونے والا تھا اور کچھ دن بعد مجھے کالج چھوڑ جانا تھا پھر میں نے ابرم سے کہا کہ ابرم میری پڑھائی بعد میں بھی ایک سرمچار بنوں گا اور انمول نے کہا واقعی میں نے کہا ہاں پہاڑوں پر چلا جاؤں گا ابرم نے کہا نہیں سنگت پہاڑوں پر مت جاؤ یہاں شہر میں کام کرتے ہیں زراب کی مدد سے دشمن کو دک دیتے ہیں انمول بولا نہیں میں تو پہاڑوں پر جاؤں گا اور شہر میں مجھ سے کام نہیں ہو سکتا اس نے کہا صحیح ہے تو پھر آپ اپنا کوڈ نام انمول رکھو اور میرا کوڈ نام ابرم ہو گا انمول بولا میں نے کہا ہاں کیوں نہیں اور بولا جب میں جاؤں گا تو آپ سے رابطہ کروں گا اور آپ پھر آپ کو بھی نکالوں گا اور ابرم بولا صحیح ہے اور ہم دونوں سنتے جا رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ کہ انمول ابرم کو بہت یاد کر رہا تھا پھر بولا جب میری پڑھائی ختم ہوئی اور دو تین ماہ بعد میں پہاڑوں پر نکلا اور اس دوران ابرم سے رابطہ ہوتا تھا اور جب میں بولان پہنچا تو تنظیم کے اصولوں کے مطابق میرا نیٹورک جانا بند کیا گیا اور مجھے بھی کچھ دن بعد ٹریننگ دیا۔
جب 6 ماہ بعد جب مجھے نیٹورک پر جانے کی اجازت ملا تو میں نے سب سے پہلے ابرم کو میسج دیا اور بولا ابرم رو پڑا اور کہا میں نے آپ کو بہت یاد کیا لیکن آپ نے حال احوال نہیں کیا آپ اپنا فوٹو بھیجو آپ کی بہت یاد آ رہا ہے سنگت۔
انمول بولا میں نے اسے اپنی تصویر بھیجی اور پھر ابرم سے بہت ساری باتیں کی اور پھر جب بھی رینج جاتا تھا ابرم سے لازمی رابطہ کرتا تھا اور آج تک بھی ہم دونوں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اسی بات کرنے بعد انمول کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولا ہم دونوں کو چھ سال ہو گیا ہم نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہم دونوں نے اس کو آسرا دیا اور بولا آپ دونوں ایک نہ دن ضرور ملیں گے انمول بولا ہاں کیوں نہیں انمول ایک فدائی سنگت تھا اور آپریشن ہیروف میں اسے ایک مشن پہ جانا تھا اور پھر انمول بولا ابرم نے مجھ سے کہا کہ آپ میرا انمول ستارہ ہو اور ابرم اب بھی مجھے انمول کہہ کر پکارتا ہے اور بس سار جان اب قصہ ختم ہو گیا۔
اور پھر ہم سو گئے اور کچھ دن بعد آپریشن ہیروف کا آغاز ہوا اور انمول اپنے فدائی مشن پہ نکلا اور پھر تنظیم نے اسٹیٹمنٹ جاری کیا اور کہا انمول نے اپنے ساتھیوں سمیت اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے اور آخری تیر اپنے آپ کو مارا اور ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہو گئے اور میں اب بھی ہر دن اس ابرم کے انمول ستارے کو یاد کرتا ہوں اور رونے لگتا ہوں تو یہ ابرم کا ستارہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا اور شاید ابرم بھی اسی زمین میں امر ہونے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































