خاران: اغوا ہونے والے کمشنر ایک ہفتے بعد بھی بازیاب نہ ہوسکے

2

خاران سے مسلح افراد نے کمشنر رخشان ڈویژن کو ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کرلیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق رواں ماہ 15 اکتوبر کو خاران میں ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد نے کمشنر رخشان ڈویژن اسد اللہ کاکڑ کو شناخت کے بعد ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ کوئٹہ سے خاران کی جانب اپنی ڈیوٹی جوائن کرنے جارہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں حراست میں لے لیا۔

مسلح افراد نے اس دوران ان کے محافظ کو چھوڑ دیا، تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اسد اللہ کاکڑ کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خاران کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے ضلع خاران کے علاقے برشونکی سے اغوا کرلیا تھا۔

اس وقت سرکاری حکام نے بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ایک نجی گاڑی میں سفر کررہے تھے اور ان کے ساتھ تین دیگر افراد بھی موجود تھے، جنہیں بعد ازاں اغوا کاروں نے رہا کردیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران متعدد سرکاری و پولیس افسران کو مسلح افراد نے ناکہ بندیوں کے دوران حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا، تاہم بعد ازاں تمام افسران کو رہا کردیا گیا۔

اسی طرح گزشتہ دنوں مستونگ کے قریب مسلح افراد نے ایک وین سے بیس سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔