افغانستان پر پاکستانی فضائی حملے میں امریکی ساختہ ’مارک 82‘ بم استعمال کیے گئے

210

21 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ کنٹر میں ہوئے فضائی حملوں کے بعد طالبان حکومت سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور افغان میڈیا اداروں کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں تباہی کے علاوہ متاثرہ مقام پر پھینکے گئے بموں کے ٹکڑے اور باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔

21 ستمبر کو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کا دعوی تھا کہ سرحدی علاقے میں ’خودکش بمباروں کے ٹریننگ مرکز‘ سمیت تین اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا جس کے باعث ان مراکز اور پناہ گاہوں میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کسی مخصوص افغان شہر یا صوبے کا نام نہیں لیا گیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر حملے کیے جس کے نتیجے میں خواتین سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

برطانیوی نشریاتی ادارے بی بی سی افغانستان فیکٹ چیکنگ ٹیم نے صوبہ کنٹر پر فضائی حملے کے بعد ملنے والی بموں کی باقیات کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے اور شواہد سے ظاہر ہوا کہ حملوں میں امریکی ساختہ ’مارک 82‘ (Mk82) کا استعمال کیا گیا تھا۔