بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، گورنر راج وہاں بھی لگائیں۔ فضل الرحمان

0
Screenshot

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ وسائل وفاق کے تابع کرنے کی کوشش ہے۔ جے یو آئی سربراہ

جمعیت علمائے اسلام “ف” کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر بدامنی کی بنیاد پر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے تو بلوچستان کے حالات اس سے زیادہ خراب ہیں، لہٰذا بلوچستان میں بھی گورنر راج نافذ کیا جائے۔

ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا مقصد دراصل اپوزیشن کی حکومت کو گرانا ہے، ایک ہی صوبے میں گورنر راج اور قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

ان کے مطابق قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد وہاں کے معدنی وسائل کو وفاق کے کنٹرول میں لاکر لوٹ مار کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران بدامنی کو جواز بنا رہے ہیں، لیکن اگر گورنر راج اور ایمرجنسی کا مقصد بدامنی پر قابو پانا ہے تو بلوچستان اس کا زیادہ حق دار ہے، کیونکہ وہاں کے حالات خیبر پختونخوا سے بھی زیادہ خراب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج اس لیے نافذ نہیں کیا جارہا کیونکہ وہاں کا وزیراعلیٰ حکمرانوں کا حلیف ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ معاملہ سیاسی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ اصول کا ہے، ان کے بقول اپوزیشن کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ سابق قبائلی علاقوں کے وسائل، جو ان کے بقول پہلے ہی قومی وسائل کا حصہ بن چکے تھے، ایمرجنسی نافذ کرکے وفاق کے تابع کردیے گئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو پہلے کچھ دیا گیا تھا، اب وہی چیزیں واپس لی جارہی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک حکمرانوں یا ان کے آباؤ اجداد کی ملکیت ہے اور کیا عوام ان کے نوکر ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا حکمران عوام کو جانور سمجھتے ہیں؟

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا ہے بات اصول کی ہے اور ہماری جماعت اصول کے ساتھ کھڑی ہے۔