بلوچستان میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی آبادکاری اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف ان کا استعمال
تحریر: فتح بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق، بلوچستان میں سابق افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر آباد کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان اہلکاروں کا پہلا کیمپ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں بائی پاس کے قریب قائم کیا گیا تھا، جہاں انہیں مقامی سطح پر سرکاری حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ کے ساتھ رکھا گیا۔
دوسری جانب، بلوچستان کے علاقے نوشکی اور احمدوال میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بڑی تعداد میں پاکستانی فورسز کے ساتھ دیکھا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر مقامی آبادی کے خلاف فوجی آپریشنز اور گھروں پر چھاپوں میں شریک تھے۔ اسی طرح بلوچستان کے پشتون آبادی والے علاقوں، جن میں گلستان، سرانان اور کچلاک شامل ہیں، میں بھی ان اہلکاروں کو آباد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان علاقوں میں مقامی افراد نے اس عمل کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔
مقامی افراد کے مطابق، ان اہلکاروں میں سے بعض مختلف جرائم میں ملوث ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ احتجاج کے بعد بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیاء لانگو نے کہا تھا کہ سابق افغان فورسز کے اہلکاروں کو سرانان سے نکال دیا گیا ہے۔ تاہم، اس معاملے پر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی واضح اور جامع مؤقف سامنے نہیں آیا۔
سابق افغان اہلکاروں کی بلوچستان آمد اور مبینہ عسکری سرپرستی
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سابق افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ عہدے داروں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل ہو گئی، جبکہ نچلی سطح کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقوں کا رخ کیا۔
اطلاعات کے مطابق، اس کے بعد پاکستانی عسکری اداروں نے ان اہلکاروں کو افغان طالبان مخالف فورس تشکیل دینے کے لیے مبینہ طور پر مکمل حمایت فراہم کی، انہیں مسلح کیا اور آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی۔ تاہم، اب یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ ان اہلکاروں کو بلوچستان میں جاری بلوچ قومی تحریک کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق، جن علاقوں میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو آباد کیا گیا ہے، وہاں چوری، لوٹ مار اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ان اہلکاروں کو سیاسی حمایت فراہم کرنے کے لیے پشتون آبادی والے علاقوں میں سیاسی جماعتوں پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم تاحال کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اس عمل کی حمایت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق، بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سمیت کچلاک اور سرانان میں ان اہلکاروں کے کیمپ اب بھی موجود ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کے رکن اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کے مطابق، ان اہلکاروں کو بارکھان اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقوں میں بھی ٹھہرایا گیا ہے۔
اسی طرح بلوچستان کے علاقوں زہری، زیدی، سلطان شہر اور خاران کے علاقے برشونکی میں فوجی آپریشنز کے دوران سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستانی فورسز کے ساتھ دیکھے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رواں سال خضدار میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی جانب سے حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروہ کے سربراہ شفیق مینگل کے ایک ٹھکانے پر حملے کے دوران سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے، طالبان کی ایک بڑی تعداد نے بلوچستان میں تقریباً دو دہائیوں تک مہاجرین کی زندگی گزاری۔ مقامی بیانیے کے مطابق، اس عرصے کے دوران وہ یہاں مہمانوں کی حیثیت سے رہے اور مقامی آبادی یا بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال نہیں ہوئے۔
سابق افغان اہلکاروں کی مبینہ بھرتی اور معاوضے کی پیشکش
ذرائع کے مطابق، سابق افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بلوچستان میں پاکستانی اداروں کے لیے معاوضے کے عوض کام کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ ان اطلاعات سے ان الزامات کو مزید تقویت ملی ہے کہ افغانستان کی سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
خان نامی ایک سابق افغان فوجی، جس کا اصل نام سکیورٹی خدشات کے باعث ظاہر نہیں کیا گیا، نے بتایا کہ بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو ماہانہ تقریباً 40 ہزار پاکستانی روپے ادا کیے جاتے تھے۔ ان کے مطابق، ان اہلکاروں کو ان علاقوں کے پولیس اسٹیشنوں سے متعارف کرایا جاتا تھا جہاں انہیں تعینات کیا جاتا، جس سے انہیں اسلحہ لے جانے اور چیک پوسٹوں سے باآسانی گزرنے میں سہولت ملتی تھی۔
خان کے مطابق، ایک سابق افغان پولیس افسر نے بارہا ان سے رابطہ کیا اور انہیں بلوچستان میں شورش کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ یہ رابطے کبھی براہِ راست اور کبھی کسی تیسرے شخص کے ذریعے کیے گئے۔ خان نے ان پیشکشوں کو مسترد کر دیا اور مسلسل رابطوں کے باعث بالآخر کسی دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کئی ماہ سے بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ سابق افغان اہلکاروں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی اسیر مرکزی منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہُدہ جیل سے جاری ایک بیان میں کہا کہ سابق افغان اہلکاروں کی پاکستانی فورسز کے ساتھ کارروائیوں میں شرکت کی اطلاعات کئی ماہ سے سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث بلوچ آبادی میں شدید ناراضی، دکھ اور تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے زہری اور دیگر علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کا حوالہ دیا۔ اسی طرح مستونگ کے رہائشیوں نے شکایت کی تھی کہ سابق افغان فوجی اہلکار ایک اسکول پر قابض ہیں اور انہوں نے پاکستانی فوج کی حمایت سے وہاں ایک کیمپ قائم کر رکھا ہے۔
یہ معاملہ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی میں بھی زیرِ بحث آیا، جہاں جمعیت علمائے اسلام کے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے اپنے حلقے میں سابق افغان فوجیوں کی موجودگی پر سوال اٹھایا اور حکومت سے وضاحت طلب کی کہ انہیں وہاں کیوں لایا گیا ہے۔
ژوب سے منتخب ہونے والے مندوخیل نے الزام لگایا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں اہلکار بلوچستان میں موجود ہیں۔
اگست میں ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ سابق افغان فوجی اہلکار، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان چھوڑ گئے تھے، ایسے مسلح گروہوں میں شامل ہو گئے ہیں جو پاکستانی فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کی حمایت سے کام کرتے ہیں۔
تسنیم کے مطابق، ان گروہوں کو مقامی طور پر ’’لشکر‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں انہیں ’’ڈیتھ اسکواڈز‘‘ یعنی موت کے دستے قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ گروہ باضابطہ طور پر ریاستی اداروں میں شامل ہوئے بغیر پاکستانی فورسز کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سابق افغان اہلکاروں کی فوجی تربیت، جنگی تجربہ اور سرحدی کارروائیوں سے واقفیت انہیں بھرتی کرنے کے لیے پُرکشش بناتی ہے، جبکہ مالی مشکلات بھی ان میں سے بعض افراد کے اس کام کو قبول کرنے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
اگر سابق افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو ایسے تجربہ کار جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد میسر آ سکتی ہے جنہیں فوجی تربیت حاصل ہے اور جو جنگی کارروائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس طرح ان گروہوں کا ان علاقوں کے مقامی افراد پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے جہاں وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔
بلوچ سیاسی حلقوں کا ردِعمل اور تاریخی تعلقات پر تشویش
بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ سابق افغان اہلکاروں کے غیر یقینی حالات سے فائدہ اٹھا کر انہیں بلوچستان میں کارروائیوں کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق، اس عمل سے بلوچوں اور افغانوں کے درمیان تاریخی تعلقات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ نے بلوچوں اور افغانوں کے تعلقات کو ’’تاریخی، تہذیبی اور انسانی رشتہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں نے ایک دوسرے کو پناہ دی ہے اور جنگ، جبری نقل مکانی اور جبر کے مشترکہ تجربات سے گزری ہیں۔
انہوں نے افغانستان کی سابق سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے اور سابق فوجی اہلکاروں کو بلوچ عوام کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے سے روکے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر آج آپ کے لوگ معمولی مفادات، مراعات یا پناہ کے بدلے بلوچ عوام پر ظلم و جبر میں شریک ہو رہے ہیں تو یہ صرف بلوچوں کے خلاف عمل نہیں بلکہ افغان قوم کی تاریخی روایات اور وقار کے بھی منافی ہے۔‘‘
ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ افغان عوام خود جنگ، ظلم اور بے دخلی کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، جو لوگ تحفظ یا مادی فوائد قبول کر رہے ہیں، انہیں بلوچوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے افغانستان کی سابق قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق اہلکاروں کو ان کارروائیوں میں حصہ لینے سے روکے جنہیں انہوں نے ’’بلوچ عوام کی نسل کشی‘‘ قرار دیا۔
ماہ رنگ بلوچ نے مزید کہا، ’’بلوچ اور افغان قوموں کے درمیان تاریخی تعلق باہمی احترام، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد پر قائم ہے۔ اس رشتے کو کسی ریاستی منصوبے، عارضی مفاد یا وقتی سیاسی بندوبست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔‘‘
بلوچستان نیشنل پارٹی کا مؤقف
بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ سردار اختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) نے اپنی مرکزی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے سابق افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
پارٹی کے مطابق، بلوچ قوم کی نسل کشی کے لیے کسی بھی قوت یا گروہ کو استعمال کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان تاریخی اور انسانی رشتوں کو مجروح کرنے کے مترادف بھی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تاریخی طور پر بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم رہے ہیں۔ مشکل ترین حالات میں دونوں اقوام کے رہنماؤں اور عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور مختلف ادوار میں باہمی تعاون اور مدد کی مثالیں قائم کیں۔
تاہم، پارٹی کے مطابق، موجودہ حالات میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کر کے مبینہ طور پر ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے۔
بلوچ سیاسی جماعتوں نے افغان قیادت، افغان اکابرین اور افغان معاشرے کے باشعور و ذمہ دار حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف کسی ایسے عمل کا حصہ نہ بنیں جس سے بلوچوں کی نسل کشی یا انسانی حقوق کی پامالی کو تقویت ملے۔
ان حلقوں کے مطابق، بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی تعلقات باہمی احترام، تعاون، انسانی ہمدردی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی روایت پر استوار ہیں۔ ان تاریخی رشتوں کو سیاسی مقاصد، طاقت کے استعمال اور خونریزی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































