چاغی میں قابض فوج کے قافلے پر حملہ، 10 اہلکار ہلاک، مستونگ، ملٹری کیمپ تباہ۔ بی ایل ایف

10

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 3 اگست 2026 کو چاغی کے علاقے پدگ میں کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ پر چاہ سر کے مقام پر قابض فوج کے 12 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر منظم اور مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔
سرمچاروں نے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے فوجی قافلے کو  نشانہ بنایا۔ اس شدید حملے میں 4 فوجی گاڑیاں براہِ راست فائرنگ کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 10 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے یکم اگست 2026 کو مستونگ کے علاقے تلخکاوی میں واقع قابض پاکستانی فوجی کیمپ کو پانی سپلائی کرنے والے واٹر ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں واٹر ٹینکر  کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس کا ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ سرمچاروں کے اس کاروائی کے باعث قابض فوج کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی، جس سے خوفزدہ ہوکر  فوجی اہلکار اپنے کیمپ کے اندر ہی محدود ہو کر رہ گئے اور مسلسل دو دنوں تک کسی قسم کی نقل و حرکت کرنے سے قاصر رہے۔
قابض فوج کو پانی کی فراہمی روکنے کے سرمچاروں کی کاروائی کا مقصد یہ تھا کہ فوجی کیمپ کو پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع کر کے دشمن کو محاصرے میں رکھا جائے، اور اگر ان کی مدد کے لیے باہر سے کوئی عسکری کمک یا قافلہ آئے تو راستے میں گھات لگائے سرمچار انھیں نشانہ بنائیں۔
اس مسلسل ناکہ بندی اور سپلائی کی عدم فراہمی کے باعث، 3 اگست 2026 تک قابض پاکستانی فوج شدید دباؤ کا شکار ہو کر اپنے تلخکاوی کیمپ کو خالی کر کے فرار ہونے لگی۔ سرمچاروں نے حواس باختہ بھاگتے فوجی اہلکاروں پر فوری حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ باقی اہلکار اپنا غیر عسکری سامان چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
3 اگست کی صبح تقریباً 9 بجے سرمچاروں نے تلخکاوی کیمپ کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے محتاط طریقے سے پیش قدمی کرکے کیمپ کے اندر داخل ہو گئے۔ سرمچاروں نے کیمپ کا کنٹرول سنبھال کر وہاں موجود قابض فوج کے زیرِ استعمال سامان اور ملٹری ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا اور کیمپ کو مکمل طور پر تباہ کر کے مٹا دیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ چاغی اور مستونگ میں کی جانے والی متذکرہ بالا تمام کارروائیوں اور دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔