مستونگ میں باغات کی تباہی اور مقامی آبادی کی بے دخلی سوچا سمجھا منصبوبہ ہے۔ اسلم رئیسانی

0

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مستونگ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنا، لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنا قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے اَگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی اور جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہو چکا ہوتا۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے ماضی کی ایسی فوج کشیوں کا نتیجہ امن کی بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔

انہوں نے مزید کہا فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کرے اپنی بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن امن نہیں امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل، باعزت اور باوقار مکالمے سے ہی تشکیل پاتا ہے۔