بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے مہرگڑھ کو ریاستی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے اور حالیہ ڈرون حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہرگڑھ کسی ایک فرد کا گھر نہیں بلکہ بلوچستان کا ایک اہم قومی، تاریخی اور قبائلی مرکز ہے، جسے بار بار نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ مہرگڑھ بلوچستان کے تاریخی ورثے، قبائلی یکجہتی اور امن کی علامت ہے۔ ایسے مراکز اور لوگوں کے گھروں کو طاقت کے ذریعے نشانہ بنانا نہ صرف قومی و تاریخی ورثے کی بے حرمتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر محرومی، بے اعتمادی اور نفرت کے جذبات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہرگڑھ کے حالیہ واقعے سمیت بلوچستان میں طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے راستے کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ریاستی ذمہ داران کو سمجھنا چاہیے کہ قومی ورثے اور لوگوں کے گھروں کی بے حرمتی کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔
سابق وزیر اعلیٰ نے مستونگ میں قبائل کے پھلدار باغات کی تباہی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغات اور درختوں کی تباہی محض مالی یا ماحولیاتی نقصان نہیں بلکہ اس سے لوگوں کے احساسِ محرومی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ طاقت کے ایسے اقدامات قبائلی معاشرے کی سوچ کو مزید سخت اور مزاحم بنا سکتے ہیں۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ حکمران بلوچ عوام کو ’’فتنۂ ہندوستان‘‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مگر اگر اپنے ہی کلمہ گو شہریوں سے لوگ خیر کی توقع کھو دیں تو کسی غیر مذہب سے اچھائی کی امید رکھنا مزید دور کی بات بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ریاستی جبر، طاقت کے بے دریغ استعمال اور شہریوں کے خلاف کارروائیاں اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ فتنہ اور فساد کسی قوم کی مزاحمت سے نہیں بلکہ اس جبر، ظلم اور ناانصافی سے جنم لیتا ہے جو ریاست اپنے شہریوں پر مسلط کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور باغ اجاڑے جا سکتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور نفرت کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ریاست واقعی بلوچستان میں امن چاہتی ہے تو اسے مزاحمت کو محض ’’فتنہ‘‘ قرار دینے کے بجائے ان بنیادی اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو مزاحمت پر مجبور کرتے ہیں۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان ایک تاریخی سرزمین ہے اور یہاں طاقت کے مسلسل استعمال سے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ قومی اور قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن اور سیاسی جدوجہد جاری رہنی چاہیے، جبکہ ریاست کو بھی طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سیاسی مکالمے اور جمہوری حل کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور ریاست، دونوں کے مفاد میں یہی ہے کہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن، سیاسی مکالمے، باہمی اعتماد اور حالات کی بہتری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ دیرپا امن طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، احترام، سیاسی شمولیت اور مذاکرات کے ذریعے قائم کیا جا سکتا ہے۔















































