بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیمی قیادت سے متعلق کئی مقدمات اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، تاہم ان کے فیصلوں میں مسلسل اور غیر واضح تاخیر کا سامنا ہے۔ متعدد مواقع پر، جب یہ مقدمات متعلقہ بینچ، بشمول کورٹ نمبر 1 (چیف جسٹس بینچ)، کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیے گئے، عدالت نے ان مقدمات کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی اور مکمل کاز لسٹ ہی ڈسچارج کر دی گئی۔ نتیجتاً یہ مقدمات بار بار اگلی تاریخوں تک ملتوی ہوتے رہے، لیکن مؤثر عدالتی کارروائی نہ ہو سکی۔ یہ صورتحال نہ صرف بی وائی سی کی قیادت کو شدید متاثر کر رہی ہے بلکہ ان عام سائلین کے لیے بھی شدید مشکلات اور نقصان کا باعث بن رہی ہے جن کے مقدمات عدالت میں زیرِ التوا ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ خصوصاً بی وائی سی کی قیادت کی ضمانت کی درخواستیں، جو رواں سال فروری میں کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد دائر کی گئی تھیں، اب تک تقریباً پانچ مختلف مواقع پر مختلف وقفوں سے سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہیں۔ تاہم ہر مرتبہ جب ان مقدمات کی سماعت مقرر ہوئی، عدالت کا بورڈ ڈسچارج کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مقدمات دوبارہ کسی اور تاریخ تک ملتوی کر دیے گئے۔ اسی طرح بی وائی سی سے متعلق متعدد دیگر آئینی درخواستیں (Constitutional Petitions – CPs) بھی طویل تاخیر کا شکار ہیں اور ان پر مؤثر سماعت یا فیصلہ نہیں ہو رہا۔
بی وائی سی نے کہا ہے کہ ان ضمانت کی درخواستوں کو مسلسل ملتوی کیا جانا ایک سنگین قانونی تشویش کا معاملہ ہے، خصوصاً ایسے مقدمات میں جہاں افراد کی آزادی کا سوال براہِ راست شامل ہو۔ ضمانت کے معاملات اپنی نوعیت کے اعتبار سے فوری اور ترجیحی بنیادوں پر غور کے متقاضی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق فرد کے بنیادی حقِ آزادی اور غیر ضروری یا طویل حراست سے تحفظ سے ہے۔ منصفانہ اور بروقت فیصلے کا حق، قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل کا ایک بنیادی جزو ہے۔
مزید کہا ہے کہ یہ اصول کہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے” ذاتی آزادی سے متعلق مقدمات میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بار بار ملتوی کیے جانے اور مؤثر کارروائی کے بغیر سماعتیں منعقد نہ ہونے سے ملزمان کے حقوق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس طرح عدالتی چارہ جوئی کے مقصد ہی کو نقصان پہنچتا ہے۔ جب افراد حراست میں ہوں تو ہر غیر ضروری تاخیر ان کے بنیادی حقِ آزادی پر براہِ راست اور سنگین اثر ڈالتی ہے۔
بیان میں کہا ہے کہ یہ تاخیر نظامِ انصاف کی مجموعی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب مقدمات بار بار سماعت کے لیے مقرر ہوں لیکن کارروائی آگے نہ بڑھ سکے تو سائلین مؤثر عدالتی چارہ جوئی سے محروم رہ جاتے ہیں اور انہیں مزید غیر یقینی صورتحال اور طویل قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات خصوصی طور پر ان مقدمات میں عدالتی توجہ کے متقاضی ہیں جن میں بنیادی حقوق اور افراد کی آزادی کے معاملات شامل ہوں۔
انہوں نے کہاکہ لہٰذا یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ بی وائی سی کی قیادت سے متعلق زیرِ التوا ضمانت کی درخواستوں اور دیگر آئینی معاملات کو قانون، آئینی ضمانتوں اور منصفانہ، شفاف اور تیز رفتار انصاف کے اصولوں کے مطابق جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کر کے ان پر فیصلہ کیا جائے۔
موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ غیر ضروری تاخیر سے بچنے، درخواست گزاروں اور ملزمان کے حقوق کے تحفظ اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اس معاملے پر سنجیدگی سے عدالتی توجہ دی جائے۔
آخر میں کہاکہ بی وائی سی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور پُرامن ذرائع اختیار کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ التوا تمام مقدمات کی بروقت، شفاف اور مؤثر سماعت اور فیصلے کا مطالبہ کرتی ہے۔



















































