ژن ، ژیان ، آزادی – سنگت ھانلی

1

ژن ، ژیان ، آزادی

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

۱)
چاروں سمت بارود کی بو رچی بسی تھی۔ فضا پر ایک عجیب سی ہنگامیّت طاری تھی۔ کمانڈر کے حکم کے بعد متعدد جنگجو اپنے اپنے مورچوں سے واپس ہو رہے تھے، مگر ایک وہ تھی جو دل نہ چاہتے ہوئے بھی اس حکم کی تعمیل سے قاصر تھی۔ داعش کے ٹینک ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔ خون کی بُو، گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں کی گونج کے درمیان وہ بیس سالہ لڑکی اضطراب کے ایک ایسے حصار میں کھڑی تھی جہاں ہر سمت موت اپنی صورتیں بدل بدل کر نمودار ہو رہی تھی۔ اگر وہ یہیں ٹھہری رہتی تو آخر کتنی دیر تک ان فولادی دیو قامت ٹینکوں کی پیش قدمی روک سکتی تھی؟ چند منٹ؟ چند لمحے؟ اور اگر واپس چلی جاتی تو داعش کے وہ وحشی، خود ساختہ جہادی، کوبانی کے معصوم لوگوں پر اپنے ٹینک چڑھا دیتے۔

وہ مشتانور پہاڑی کے ایک مورچے میں موجود تھی۔ کوبانی کے جنوب مشرق میں واقع یہ پہاڑی پورے معرکے کی ایک نہایت اہم جغرافیائی چوکی تھی۔ جو اس بلندی پر قابض ہوتا، اس کی نگاہ پورے شہر کے وسیع حصے پر محیط ہوتی تھی۔ دن نکلنے سے پہلے ہی داعش اپنے ٹینکوں سمیت اس پہاڑی تک پیش قدمی کر چکی تھی، جبکہ کئی روز سے وائی پی جی اور وائی پی جے کے جنگجو اسی مقام پر داعش کے ساتھ نبرد آزما تھے۔

اسی اثنا میں اسے احساس ہوا کہ اب واپسی کا راستہ تقریباً مسدود ہو چکا ہے۔ دشمن نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ اب اس کے سامنے صرف دو راستے تھے، ایک پسپائی کا، جس کے عقب میں کوبانی تھا، اور دوسرا اپنی ذات کو اس معرکے کے سپرد کر دینے کا۔ اس نے اپنے دو معصوم بچوں کو طرز ء شارُلی آخری مرتبہ ذہن میں دیکھا، پھر مادری وجود کی تمام تر لرزتی ہوئی کیفیات کو اپنے اندر کہیں گہرا دفن کر دیا۔ آرین مرکان نے اپنے جسم کے گرد دستی بم باندھے اور ایک ٹینک کی سمت دوڑ پڑی۔

اگلے ہی لمحے فضا ایک ہولناک دھماکے سے شق ہو گئی۔ بارود کے شعلوں، دھوئیں اور ملبے کے درمیان آرین مرکان بھی اپنے وجود سمیت فنا ہو چکی تھی، مگر اس کے ساتھ داعش کے ستائیس جہادی بھی موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔

یہ پہلا موقع تھا جب کسی کرد جنگجو کی جانب سے اس نوعیت کا خودکش فدائی حملہ کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد آرین مرکان کوبانی کی خون آلود داستان میں خوف، مادریت، مزاحمت اور آزادی ایک ہی لمحے میں باہم مدغم ہونے کا چیدہ بن گئی۔

۲)

ژِن یعنی عورت، ژیان یعنی زندگی، اور آزادی یعنی خودمختاری۔ ایک ہی فکری سلسلے کی تین کڑیاں۔ حسن اور وحشت کے اسی آماجگاہ میں عورت زندگی اور آزادی کے درمیان وہ پُل ہے جس پر انسانی وجود اپنی معنویت تک پہنچتا ہے۔ عورت زندگی کو جنم دیتی ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر وہ خود زندگی کے اندر آزادی کی علامت بھی ہے، بشرطیکہ وہ اپنے مقام، اپنی قوت اور اپنے وجود کی معنویت سے آگاہ ہو جائے۔

عورت اگر زندگی کو جنم دینے والی ہستی ہے تو اس زندگی کے مفہوم کا تعین کرنے کا حق بھی اسی کے وجود میں مضمر ہے۔ جس وجود کو صدیوں تک محض نسل بڑھانے کے آلے، ملکیت اور تابع داری کے دائروں میں مقید رکھا گیا، وہی وجود جب اپنی ذات کو کسی دوسرے کی ملکیت سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے تو زندگی کا مفہوم آزادی بن جاتا ہے۔ اسی لیے ژِن، ژیان اور آزادی ایک ہی تخلیق کے مختلف ابعاد ہیں۔

اسی فکری تسلسل سے Abdullah ocalan کا تصورِ جینالوجی آتا ہے، جسے وہ ’’عورت کا علم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ لفظ Jineology خود Jin سے مشتق ہے، یعنی عورت۔

اوجالان کے اس تصور کا سب سے بنیاد پرست دعویٰ یہ ہے کہ عورت انسانی تاریخ کی پہلی نوآبادی (colony) ہے۔ ان کے نزدیک، بعد میں وجود میں آنے والی مختلف صورت ہائے تسلط، خواہ وہ ریاستی اقتدار ہو، سرمایہ دارانہ نظام، طبقاتی استحصال یا نوآبادیاتی غلبہ، اپنی ابتدائی ساخت میں اسی اولین غلبے کی توسیع ہیں جو مردانہ اقتدار نے عورت کے وجود پر قائم کیا۔ چنانچہ تہذیب کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ کو وہ بس ترقی، ریاست سازی اور تمدنی ارتقا کی تاریخ نہیں سمجھتے بلکہ اسے عورت کی محکومی، اس کی ملکیت اور اس کی آزادی کی مسلسل سلبیّت کی تاریخ کے طور پر بھی پڑھتے ہیں۔

یہاں آزادی کا مطلب عورت کو کسی ظاہری قید یا پنجرے سے نکال دینا تو نہیں، بلکہ اس ذہنی ساخت کو منہدم کرنے کا ہے جس نے حاکم اور محکوم، مالک اور مملوک، فرمانروا اور تابع کے رشتے کو انسانی معاشرے کی بنیادی منطق بنا دیا۔ اوجالان کے نزدیک پدر سری ایک ذہنی ساخت ہے، اور جب تک یہ ساخت انسان کے اندر زندہ ہے، بیرونی آزادی بھی اپنی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔

اسی لیے اس تصور کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ پدر سری کے خاتمے کا آغاز مرد کے اپنے باطن سے ہونا چاہیے۔ ہر مرد کو اپنے اندر موجود اس ’’حاکم مرد‘‘ کو پہچاننا ہوگا جو اختیار کو ملکیت، محبت کو تصرف، تعلق کو اقتدار اور دوسرے انسان کو اپنی مرضی کے تابع دیکھنے کا عادی ہے۔ مگر یہ تطہیر صرف مرد کی ذمہ داری بھی نہیں۔ عورت کے اندر بھی صدیوں کی محکومی سے پیدا ہونے والی وہی ذہنی ساخت سرایت کر سکتی ہے، جو بالآخر اسی نظام کو دوبارہ پیدا کرتی ہے جس نے اسے محکوم بنایا تھا۔ پوسٹ کالونئیزیشنل گند۔

لہٰذا آزادی سب سے پہلے داخلی قدم ہے۔ جب انسان اپنے اندر بیٹھے ہوئے مالک کو قتل کرتا ہے، تب کہیں جا کر دوسرے انسان کو آزاد دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ تو ژن کی آزادی ژیان کو اس کے اصل مفہوم میں واپس لانے کی جدوجہد ہے۔

۳)

سنہری بالوں کے گرد بندھا ہوا سرخ رومال اس کے تھکے ہوئے چہرے کے گرد ایک پُرکشش سا ہالہ بنا رہا تھا۔ چہرے پر کئی دنوں کی بے خوابی اور مسلسل کشمکش کے آثار نمایاں تھے، مگر کمانڈر ہونے کے ناتے وہ اس تھکن کو اپنے وجود کا حصہ بنا دینے کی عادی نہ تھی۔ سینتیس سالہ مریم اپنے تمام ہیوالوں کو بچوں کی طرح سنبھال رہی تھی۔ (ہیوال، یعنی ساتھی، وہ لفظ جو کرد مزاحمتی تنظیموں میں اسی مفہوم میں برتا جاتا ہے جس طرح بلوچ تنظیموں میں ’’سنگت‘‘ کہا جاتا ہے۔)

مریم’ تنظیم کی جنرل کمانڈر ہونے کے ساتھ ساتھ خود اس پانچ رکنی کمیٹی کا حصہ بھی تھی جس نے وائی پی جے کو باقاعدہ طور پر تشکیل دیا تھا۔ اس کے نزدیک عورت کا اس انقلاب میں صرف جسمانی شریک ہونا کافی نہ تھا، اسے اپنی الگ شناخت اور اپنی جداگانہ قوت کے ساتھ اس کی تشکیل میں حصہ لینا تھا۔ اس کے اپنے الفاظ میں، جب روژاوا انقلاب زمین پر اتر آیا تو عورتوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ایک الگ تنظیم قائم کریں گی، تاکہ عورت اس انقلاب میں اپنا مقام ایک ممتاز قوت کے طور پر متعین کر سکے، نہ صرف روژاوا میں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں۔

اب مریم ٹوٹی پھوٹی عمارتوں اور ملبے کے انباروں کے درمیان جھک جھک کر گزرتی ہوئی اپنی عقابی نگاہوں سے ہر سمت کا جائزہ لے رہی تھی۔ جنگ زدہ شہر میں راستے بھی اپنے معنی کھو چکے تھے۔ دیواریں گر چکی تھیں، گلیاں ملبے میں دفن تھیں ، ہر چند میٹر بعد داعش کے بمباروں کی لاشیں سڑ رہی تھیں اور ہر موڑ اپنے اندر ایک نامعلوم خطرہ چھپائے ہوئے تھا۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جب وہ ایک اہم مورچے میں داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں موجود موبائل کی اسکرین پر جی پی ایس نقشہ کھلا ہوا تھا۔ چند لمحوں تک وہ نقشے کو مختلف زاویوں سے دیکھتی رہی۔ پھر جیسے کسی پوشیدہ امکان نے اس کے ذہن میں اپنی تکمیل پائی، وہ اچانک پلٹی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ داعش کے جنگجوؤں کے پاس بہت سی خودکش گاڑیاں ہیں جو بہت جلد یہاں پہنچنے والی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ باقی سب یہاں سے نکل جائیں، صرف دو یا تین ساتھی میرے ساتھ رکیں۔

اسی لمحے اس کی ایک ساتھی بے اختیار آگے بڑھی اور کہا، دایێ (ماں) ہم آپ کو یہاں کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہم جنگ کریں گےساتھ۔۔ مریم نے اس کے دونوں شانے تھام کر اسے جھنجھوڑا اور کہا، نزدرکم (میری لاڈلی) ، تم جانتی ہو کہ ہم بمبار گاڑیوں کے مقابل بندوقیں لے کر نہیں لڑ سکتے۔ تم لوگوں کو یہاں سے نکلنا ہوگا۔ اس کے لہجے میں حکم بھی تھا اور اس حکم کے پیچھے چھپی ہوئی ممتا بھی، جو اپنے ہی لوگوں کو موت کے منہ سے واپس دھکیل رہی تھی۔۔۔۔۔

مریم شمالی کردستان، یعنی موجودہ ترکی کے اندر واقع سرحدی گاؤں سرخیت میں پیدا ہوئی تھی۔ یہ وہ خطہ تھا جو روژاوا کردستان، جسے وہ ’’بن خت‘‘ کہتی ہیں، کی سرحد سے متصل تھا۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ان کا بچپن ایک ایسی لکیر کے سائے میں گزرا تھا جو نقشے پر محض ایک باریک بارڈر تھی، مگر اس کے لیے وہ بکھراؤ اور جلاوطنی کی ایک زندہ علامت تھی۔ ایک ہی قوم، ایک ہی زبان، ایک ہی تاریخ، مگر پھر درمیان میں لکیر کیوں ؟ جس نے لوگوں کو ایک دوسرے سے اس طرح جدا کر رکھا تھا جیسے زمین کے سینے پر کسی نے ایک ناقابل عبور شگاف کھینچ دیا ہو۔

بچپن ہی سے اس کے ذہن میں سوال جنم لیتے رہے۔ یہ سرحد کیوں ہے؟ یہ لوگ ایک دوسرے کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ ہمارے درمیان یہ رکاوٹ کیوں ہے؟ ہم اپنے بچوں کے ساتھ دوسری طرف جا کر کھیل کیوں نہیں سکتے؟ ہم صرف دور کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے پر مجبور کیوں ہیں؟

اسی لیے اس کے بچپن کے خواب بھی زمین کی حدود سے بغاوت کرتے تھے۔ مریم بتاتی ہے کہ وہ اکثر خواب دیکھتی تھی کہ اس کے پر ہیں، تاکہ وہ اڑ کر اس سرحد کو پار کر سکے جو اسے اپنی ہی سرزمین کے دوسرے حصے سے جدا کرتی تھی۔ مریم کے لیے یہ خواب رفتہ رفتہ ایک سیاسی استعارہ بن گیا۔ وہ لکیر جسے قدم عبور نہیں کر سکتے تھے، جس کیلیے قوت پرواز ضروری تھی۔

اور پھر وہی بچی، جس نے کبھی سرحد پار کرنے کے لیے پروں کا خواب دیکھا تھا، ایک دن جنگ کے درمیان کھڑی تھی۔

کچھ دنوں بعد جنگ ختم ہوئی۔ داعش کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکالا گیا۔ مریم بھی واپس لوٹی۔
ہاں وہ بمباروں سے زندہ لوٹی۔۔
اس کے اردگرد اس کے تمام ہیوال اس سے یوں لپٹ رہے تھے جیسے خوفزدہ بچے اپنی ماں سے لپٹ جاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے جہاں موت ان کے درمیان گردش کر رہی تھی، وہیں اب زندگی ایک دوسرے کے وجود کو چھو کر یقین کر رہی تھی کہ وہ واقعی واپس آ گئی ہے۔

ہاں، وہ زندہ ہے۔
ہاں، مریم زندہ ہے۔

مریم بتاتی ہے کہ ایک روز وہ کوبانی جانے والے پہلے گروہ کے ساتھ تھی۔ اس وقت کوبانی چاروں طرف سے محاصرے میں تھی۔ موت کا امکان ان کے درمیان ایک واضح حقیقت کی صورت موجود تھا۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کی اور ایک وعدہ کیا کہ جو بھی زندہ بچے گا، وہ لکھے گا کہ یہاں کیا ہوا، اور اسے امر کر دے گا۔

اس وعدے کے پیچھے ایک کتاب کا سایہ بھی تھا۔ مریم نے اس سے پہلے The Unknown Soldier پڑھی تھی، اور اسی مطالعے نے اس کے اندر ایک فیصلہ پیدا کیا تھا کہ کردستان کا کوئی جنگجو گمنام نہیں رہنا چاہیے۔ جو لوگ تاریخ کے سب سے تاریک لمحوں میں زندہ رہے، لڑے، گرے یا بچ گئے، ان کے نام جنگی فہرستوں میں دفن نہیں ہونے چاہییں۔

اسی عہد کی ایک صورت بعد میں اس کی کتاب Kobanê: The Trenches of Honor میں سامنے آئی۔

وہ لکھتی ہیں کہ۔۔

کچھ لوگ جنگ میں مر جاتے ہیں،
اور
کچھ لوگ اپنے مرنے والوں کے بارے میں لکھ کر انہیں دوبارہ موت سے بچا لیتے ہیں۔

۴)

کرد مزاحمت کی منظم سیاسی تشکیل 1974 کے آس پاس ایک واضح مارکسی لیننی بنیاد پر ہوئی اور 1978 میں PKK کی باقاعدہ تشکیل کے ساتھ اس کا رخ ایک آزاد سوشلسٹ کرد ریاست کی طرف تھا۔ طبقاتی جدوجہد، مسلح جدوجہد اور انقلابی پیش رو جماعت اس فکر کے بنیادی ستون تھے۔ جنگ کے دوران مذہبی کرد آبادی تک رسائی کے لیے اسلامی زبان اور حوالوں کا محدود سیاسی استعمال بھی ہوا، مگر بنیادی نظریاتی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوا۔ اصل فکری انقطاع 1999 میں عبداللہ اوجالان کی گرفتاری اور امرالی کی قید کے بعد آیا۔ اس عرصے میں اس نے اپنی سابقہ فکر کا ازسرِنو محاسبہ کیا اور مارکسزم لینن ازم کے دائرے سے نکل کر Murray Bookchin کی سوشل ایکالوجی اور Libertarian Municipalism، Janet Biehl کی تحریروں، Immanuel Wallerstein کے World-Systems Analysis اور Michel Foucault کے نظریۂ طاقت کا مطالعہ کیا۔ اس کے ساتھ Neolithic معاشروں، سومیری تہذیب، قدیم ایتھنز، قبائلی تنظیم، مذاہب اور انسانی تہذیبی ارتقا تک کو اپنی تحقیق میں شامل کیا۔

اس وسیع مطالعے نے اوجالان کے آزادی کے مفہوم ہی کو بدل دیا۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں رہا کہ ایک ریاست کو شکست دے کر دوسری ریاست قائم کی جائے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری سمجھا گیا کہ ریاستی مرکزیت، سرمایہ داری، پدرشاہی اور معاشرتی درجہ بندی انسان کے روزمرہ تعلقات میں کس طرح اقتدار کو دوبارہ پیدا کرتی ہیں۔ چنانچہ آزاد کرد ریاست کے مطالبے کی جگہ Democratic Confederalism کا تصور سامنے آیا، جس میں مرکزی ریاست کے بجائے مقامی خود اختیاری، براہِ راست جمہوریت، کمیونز، خواتین کی تنظیم، اجتماعی معیشت اور سیاسی ماحولیات کو اہمیت دی گئی۔ یوں ایک ایسی مزاحمت وجود میں آئی جو ابتدا میں ریاست حاصل کرنے کے لیے لڑی جا رہی تھی، مگر وقت کے ساتھ اس کی فکری سمت ریاست سے آگے بڑھ کر معاشرے کی ساخت بدلنے تک پہنچ گئی۔

2011 سے 2013 کے دوران شام کی خانہ جنگی نے جب کرد اکثریتی علاقوں میں نئی سیاسی گنجائش پیدا کی تو اوجالان کی یہ فکری تشکیل پہلی بار وسیع پیمانے پر عملی صورت میں سامنے آئی۔ روژاوا میں مرکزی ریاست کے متبادل کے طور پر کمیونز، مقامی مجالس اور خواتین کی خودمختار تنظیمیں قائم ہوئیں، جبکہ YPG اور YPJ نے اس نئے انتظام کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی۔ یوں وہ فلسفہ جو برسوں تک تحریروں اور نظریاتی مباحث میں تشکیل پا رہا تھا، روزمرہ اجتماعی زندگی اور سیاسی تنظیم کی عملی ساخت میں اترنے لگا۔

۵)

25 فروری 2025۔
امرالی کی جیل کی ایک کوٹھڑی میں عبداللہ اوجالان نے ایک خط لکھا۔ وہ شخص جو 1999 سے اسی جزیرے پر قید تھا، جس کے نام سے ایک مسلح تحریک کی تقریباً نصف صدی کی تاریخ جڑی ہوئی تھی، اب اپنے ہی ہاتھ سے اس تاریخ کے اختتام کی تحریر کر رہا تھا۔ 27 فروری کو DEM پارٹی کے نمائندے امرالی سے واپس آئے اور استنبول کی ایک پریس کانفرنس میں اس خط کو پہلے کردی اور پھر ترکی زبان میں پڑھ کر سنایا۔ اوجالان نے کہا کہ تمام مسلح گروہ ہتھیار رکھ دیں، PKK اپنی کانگریس بلائے اور خود کو تحلیل کر دے۔

اس خط میں ایک عجیب سا تاریخی دکھ پوشیدہ تھا۔ جس تحریک نے کبھی ایک آزاد سوشلسٹ کرد ریاست کے خواب کے ساتھ سفر شروع کیا تھا، اس کا بانی اب اسی ریاستی تصور کو تاریخ کے بدلتے ہوئے سماجی تناظر میں ناکافی قرار دے رہا تھا۔ اس کے نزدیک گزشتہ دو صدیوں کی capitalist modernity نے کرد اور ترک معاشروں کے درمیان تاریخی رشتے کو توڑا تھا، اور اگر سیاسی راستے کھلے رہیں تو ہتھیاروں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ مگر اس تحریر کو کسی نے فتح کی زبان میں نہیں پڑھا۔ تجزیہ نگار مراد یتکن نے اسے مفاہمتی دستاویز سے زیادہ شکست کے اعتراف، یا کم از کم خونریزی کے بغیر انجام تک پہنچنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ چند ہی ماہ بعد، 11 جولائی 2025 کو شمالی عراق میں تقریباً تیس PKK جنگجوؤں نے اپنی بندوقیں آگ میں ڈال کر اس فیصلے کو جسمانی صورت دے دی۔۔ اور یوں جس تنظیم نے چار دہائیاں ہتھیار اٹھائے تھے، اس کی تاریخ کا ایک ایسا منظر سامنے آیا جس میں بندوق خود آگ کے حوالے کی جا رہی تھی۔

۶)

سب سے پہلا سوال جو اس پوری تبدیلی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ تقریباً نصف صدی پر محیط ایک مسلح جدوجہد، ہزاروں جانوں کا اتلاف، پہاڑوں میں گزرتی ہوئی نسلیں، جیلوں میں گلتی سڑتی عمریں، اور پھر ایک ایسی صبح جب امرالی کی ایک کوٹھڑی سے نکلنے والا خط اچانک اس طویل تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔ آخر وہ کون سا لمحہ تھا جس نے ایک ایسی تنظیم کو، جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بندوق کے ساتھ اپنی شناخت قائم کیے رہی، اپنی ہی مسلح جدوجہد کے خاتمے کی طرف دھکیل دیا؟

اس کا جواب کسی ایک سبب میں تلاش کرنا شاید اس واقعے کی پیچیدگی کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

ایک وجہ اسے “شکست کے احساس” سے جوڑتی ہے۔ ترک ریاست کی مسلسل عسکری کارروائیوں، شمالی عراق میں PKK کے ٹھکانوں پر دباؤ اور بدلتے ہوئے علاقائی توازن نے اس امکان کو محدود کر دیا تھا کہ مسلح جدوجہد اپنے سابقہ مقصد تک پہنچ سکے۔ شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے، ایران کی علاقائی پوزیشن میں آنے والی تبدیلیوں اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے ارتکاز نے بھی وہ سیاسی ماحول باقی نہیں رہنے دیا تھا جس میں PKK کی پرانی حکمت عملی تشکیل پائی تھی۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو 2025 کا فیصلہ نظریے سے پہلے طاقت کے بدلتے ہوئے تناسب کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔

مگر اس پوری تبدیلی کو صرف شکست کے لفظ میں سمیٹ دینا بھی کافی نہیں۔

دوسری وجہ نظریاتی تبدیلی ہے، یعنی آئیڈیالوجکل میچیورٹی ، یہیں سے عبداللہ اوجالان کی طویل فکری مسافت سامنے آتی ہے۔ جس شخص نے کبھی ایک آزاد سوشلسٹ کرد ریاست کے قیام کو جدوجہد کی منزل سمجھا تھا، وہ بعد کے برسوں میں خود اسی ریاستی تصور کو انسانی آزادی کے لیے ناکافی قرار دینے لگا۔ Democratic Confederalism کی تشکیل اسی فکری انحرافِ مسیر کا نتیجہ تھی۔ ریاست کے بجائے معاشرہ، مرکزیت کے بجائے مقامی خود اختیاری، اقتدار کے ارتکاز کے بجائے افقی تنظیم، اور قومی سرحد کے بجائے باہم مربوط اجتماعی زندگی۔

اگر ریاست بذاتِ خود آزادی کی ضمانت نہیں، اگر اقتدار ایوانوں میں نہیں بلکہ انسانی تعلقات، خاندان، معاشرتی درجہ بندی اور روزمرہ کے معمولات میں بھی اپنی شکلیں پیدا کرتا ہے، تو پھر صرف دشمن ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد ختم کرنا کافی نہیں۔ اس منطق کو آخرکار اپنی ہی تنظیم کے وجود تک پہنچنا تھا۔

اوجالان کی بعد کی فکر نے ریاستی مرکزیت، درجہ بندی اور اقتدار کے ارتکاز کو تنقید کا نشانہ بنایا، مگر PKK خود ایک ایسی مسلح تنظیم کی صورت میں موجود رہی جس کے اندر قیادت، نظم، عسکری درجہ بندی اور فیصلہ سازی کے مراکز موجود تھے۔ نظریہ ریاست سے آگے نکل چکا تھا، مگر تنظیم ابھی تک جنگ کی ضرورتوں سے بندھی ہوئی تھی۔

ایک طرف کہا جا رہا تھا کہ آزادی انسان کو ہر طرح کے حاکمانہ رشتوں سے نجات دلانے کا نام ہے، اور دوسری طرف ایک ایسی تنظیم موجود تھی جس کی بقا ہی مرکزی نظم، اطاعت اور عسکری اختیار پر منحصر تھی۔ 2025 میں PKK کا خاتمہ اس تضاد سے گزرنے کی ایک کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ ریاست کے ساتھ جنگ ختم کی جائے۔۔۔ مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس تنظیمی صورت سے آگے کیسے بڑھا جائے جو خود جنگ کے تقاضوں سے وجود میں آئی تھی۔

مگر پھر تیسرا امکان سامنے آتا ہے۔

ممکن ہے یہ فیصلہ نظریے اور شکست کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہ ہو، بلکہ دونوں کے بیچ پیدا ہونے والی سیاسی گنجائش کا نتیجہ ہو۔ بدلتا ہوا علاقائی منظرنامہ، شام میں اقتدار کی نئی تشکیل، ترکی کے اندر سیاسی حرکیات اور کرد مسئلے کے لیے مذاکراتی راستے کی دوبارہ تلاش نے ایک ایسا لمحہ پیدا کیا جس میں چالیس سال سے جاری جنگ کو کسی نئی سیاسی صورت میں منتقل کرنے کا امکان پیدا ہوا۔

اس سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو شاید کچھ اور ہے۔

اوجالان نے اپنے ہی سیاسی ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھا اور آزاد کردستان، وفاق اور خودمختاری کے تصورات کو ایک ایسے قوم پرستانہ انحراف کے طور پر بیان کیا جو بدلتے ہوئے تاریخی و سماجی تناظر کا جواب نہیں دے سکتے۔ ایک شخص کے لیے اس سے زیادہ دشوار اعتراف کیا ہو سکتا ہے کہ جس خواب نے اس کی جوانی کو اپنی گرفت میں رکھا، جس کے لیے اس نے اپنی آزادی کھوئی، جس کے نام پر ہزاروں انسانوں نے پہاڑوں کا رخ کیا، وہ خواب اب خود اس کی اپنی نظر میں تاریخ کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔

لیکن اگر آزادی کا بنیادی تصور اجتماعی خود اختیاری ہے، اگر کسی معاشرے کو اپنے سیاسی وجود کی تشکیل میں براہِ راست شریک ہونا چاہیے، تو پھر ایک پوری تنظیم کی تاریخی سمت ایک فرد کی آواز سے کس حد تک متعین ہو سکتی ہے؟

اوجالان کی تنظیم کے اندر غیر معمولی نظریاتی اور تاریخی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس کا نام خود PKK کی تاریخ کا مترادف بن چکا تھا۔ مگر یہی حقیقت ایک عجیب تضاد بھی پیدا کرتی ہے۔ جس فلسفے نے اقتدار کے مرکز کو تحلیل کرنے، فیصلہ سازی کو معاشرے میں پھیلانے اور کسی ایک مرکز کی حاکمیت سے نجات کی بات کی، اس کی اپنی تاریخ میں ایک فرد کی آواز اب بھی اتنی فیصلہ کن تھی کہ اس کے ایک خط نے پوری تنظیم کے مستقبل کو متاثر کر دیا۔

البتہ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ تنظیم محض ایک فرد کے حکم پر اسی لمحے ختم ہو گئی۔ اوجالان کے اعلان کے بعد جنگ بندی کا مرحلہ آیا، پھر تنظیمی سطح پر غور و خوض ہوا، اور بالآخر PKK کی کانگریس نے مسلح جدوجہد کے خاتمے اور تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے۔

اگر ایک ایسی تحریک جس کا فکری مرکز اجتماعی آزادی، خود اختیاری اور اقتدار کے عدم ارتکاز پر قائم ہو، اپنے وجود کے خاتمے کے لیے بھی ایک مرکزی تاریخی شخصیت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو، تو اس کے نظریے اور اس کی تنظیمی حقیقت کے درمیان موجود فاصلہ کہاں جا کر ختم ہوتا ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں جن، ژیان اور آزادی کا مفہوم دوبارہ اپنے ابتدائی دائرے سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کرتا ہے۔

آزادی صرف دشمن سے نجات نہیں۔

آزادی صرف ریاست کے قیام کا نام بھی نہیں۔

آزادی ہتھیار اٹھانے یا ہتھیار چھوڑ دینے کے درمیان کسی ایک انتخاب کا نام بھی نہیں۔

اصل پیچیدگی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان کو یہ طے کرنا پڑے کہ اقتدار کی وہ تمام صورتیں جن کے خلاف وہ لڑتا رہا، ان میں سے کون سی صورتیں اس کے اپنے اندر، اپنی تنظیم میں، اپنے تعلقات میں اور اپنی اجتماعی زندگی میں دوبارہ پیدا ہو رہی ہیں۔

ایک زمانے میں بندوق ریاست کے خلاف مزاحمت کی علامت تھی۔ اب وہی بندوق آگ کے حوالے کی جا رہی تھی۔

ایک زمانے میں آزادی کا تصور ایک سرزمین، ایک قوم اور ایک ریاست کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ اب وہی آزادی ریاستی سرحد سے باہر، معاشرتی تنظیم، عورت کی خودمختاری، مقامی اقتدار اور اجتماعی زندگی کی نئی صورتوں میں تلاش کی جا رہی تھی۔

اور اس پورے سفر کے درمیان آرین مرکان ہے۔
کوبانی کے ایک مورچے سے، ایک ٹینک کی طرف دوڑتی ہوئی۔
اپنے چھوٹے بچوں کو انجان لوگوں کی پرورش میں چھوڑتی ہوئی۔

پھر مریم ہے۔

ملبے کے درمیان اپنے ساتھیوں کو موت کے سامنے سے واپس بھیجتی ہوئی۔

اور پھر امرالی ہے۔

ایک قیدی کی کوٹھڑی، جہاں کئی دہائیوں کی مسلح جدوجہد کا بانی اپنے ہاتھ سے اس جدوجہد کے خاتمے کی تحریر لکھ رہا ہے۔

اور اُس قیدی نے آخرکار اپنی بنائی ہوئی جنگ سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

ان تینوں مناظر کو ایک ہی لکیر میں رکھنا آسان نہیں۔
مگر آزادی کی تاریخ کبھی سیدھی لکیر ہوتی بھی تو نہیں ہے۔

وہ کبھی بارود کے دھوئیں سے نکلتی ہے، کبھی ایک عورت کے اپنے وجود پر اختیار سے، کبھی کسی پہاڑی مورچے میں لیے گئے فیصلے سے، اور کبھی ایک قیدی کے ہاتھ سے لکھے گئے خط سے۔

جن، ژیان، آزادی۔
عورت، زندگی، آزادی۔

١٩١٩ سے ۲۰۲۵ تک ~


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔